سلام
مارچ کی اٹھاراں تاریخ۔۔۔ شھادت سید سبط جعفر مرحوم
... کهتے هیں شھید زنده هے بیشک... مگر میں کهتا هوں شھادت پانے کیلئے زنده ھونا شرط هے مرده کو شھادت
نهیں ملتی زنده کو ملتی هے... سبط جعفر زنده تھے ... زنده هی کو شھید کیا جاتا هے...
هم مرده هیں اس لیئے همیں شھید کرنے کا دشمن سوچتا بھی نھیں بھئی آخر مرے هوئے کو کیا
مارنا... زنده هو جائیں گے دشمن پریشان ھو جائے گا ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنے کی کوشش کرے
گا... عارف حسینی; محمد علی نقوی; سبط جعفر اور متعدد شیعه شهداء زنده تھے اس لیئے
شھید هوئے ... سمجھ لو که زنده رھنا مطلب یه نهیں که کھایا پیا بچے پیدا کئے... یه
زنده کی نشانیاں نهیں جناب یه "جاندار" کی نشانیاں هیں "زنده"
کی نهیں زنده کی بات الگ هے... تو کیسے پته چلے که هم جاندار هیں یا زنده؟ اس کا جواب
یه هے که اپنا محاسبه کرو اگر عارف الحسین; محمد علی نقوی اور سبط جعفر کی طرز په جی
رهے هو تو زنده هو نهیں تو جاندار... یه فرق الفاظ نهیں بتاسکتے ضمیر بھتر طور پر بتا
سکتا هے ...
جاندار بننا کوئ
اعزاز کی بات نهیں چیونٹی بھی جاندارهے... زنده ... شھید زنده هوتا هے کا مطلب یهی
هے که مرنے کے بعد هی نهیں زندگی که ھر مرحلے پر وه زنده هوتا هے سبط جعفر کل پاکستان
میں زنده تھے آج جنت میں زنده هے... انهیں مرده مت کهو قرآن نے فرمایا...
دعا هے که هم بھی
"جاندار" سے "زنده" بن جائیں...
آمین.
الفاظ: محمد زکی
حیدری و آب
