اتوار، 20 ستمبر، 2015

شیعہ اور شارٹ کٹ

تحریر: محمد زکی حیدری

کهتے هیں کراچی کا ایک واقعه ہے کہ ایک انگریز سیاح خاتون کی گاڈی ریلوے پها ٹک پر آکر رکی چونکہ پهاٹک بند تھا لھٰذا وہ ٹرین کے گذرنے کاانتظار کرنے لگی اور فرصت کے لمحات میں وه اپنی گاڈی کی کھڑکی کھول کر آس پاس کے ماحول پر نظر دوڑانے لگی, اتنے میں سامنے ہی پهاٹک پر اسے ایک بہت عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا جس نے اس کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے, اس خاتون نے دیکھا کہ باوجود اس کے کہ پهاٹک بند ہے ایک سائیکل سوار پاکستانی اپنی سائیکل کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر پهاٹک کے اس پار لے گیا اور پھر سائیکل پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔ اس انگریز خاتون جس نے پاکستانیوں کی اپنے ملک میں بڑی برائیاں سنی تھیں کہ کام چور ہیں, وقت کی پابندی تو بلکل بھی نہیں کرتے وغیرہ، یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی اور سوچنے لگی کہ لوگ تو خوامخواہ پاکستانیوں کی برائیاں کرتے ہیں اسے دیکھو بیچارہ کتنی جلدی سے اپنے کام کے پیچھے جا رہا ہے۔ پھاٹک کھلا اس خاتون کی گاڈی جب اگلے ٹریفک سگنل پر رکی تو ایک اور منظر دیکھ کر وہ اور بھی مبھوط ہوگئی، اس نے دیکھا کہ جس شخص نے جلدی میں سائیکل کندھے پر اٹھا کر پھاٹک کراس کیا تھا وہ ایک پل کے نیچے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر تاش کھیل  رہا ہے اور سگریٹ کے پھوکے بھی لگا رہا ہے...

ہم پاکستانی نہ صرف پھاٹک پر بلکہ ٹریفک جیم کے وقت، نان لینے کی قطار میں کھڑے ہونے کے وقت، بل جمع کراتے وقت، شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانا کھاتے وقت بڑے مایہ ناز کھلاڑیوں کی طرح "شارٹ کٹ" مارتے ہیں۔ عادت سے مجبور انسان بھلا کیا کرے آخر ہماری اس شارٹ کٹ مارنے کی عادت کے رنگ ہمارے دینی فرائض اور عقائد میں بھی نظر آنے لگے۔ ہم دین میں بھی شارٹ کٹ کے عادی ہوگئے۔ مثال حاجی صاحب ساری زندگی سود کھاتے ہیں، تجارت میں دو نمبری کاروبار سے پیسہ کماتے ہیں اور جب حج کا وقت آتا ہے تو سب سے پیش پیش حج سے مشرف ہونے چل دیتے ہیں، اس کے علاوہ ایک بڑی خیرات بھی کردیتے ہیں جس میں خود بھی سفید کڑتا اور عطر لگا کر موجود رہتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے غریبوں میں کھانا بھی تقسیم کرتے ہیں، دین کا ٹھیکیدار مولوی بھی اس محفل میں اپنی خضاب کردہ داڑھی کو عطر لگا کر اسے اپنے ہاتھ سے سہلاتاهوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ شارٹ کٹ هے جنت میں جانے کا !!! بھئی کیوں نہ جائیں گے حاجی صاحب جنت میں بھلا، کیا قرآن نے مسکینوں کو کھانا کھلانے پر زور نہیں دیاَ؟ جی جی حضور دیا ہے آپ کے حاجی صاحب 363 دن دونمبریاں کریں اور دو دن خیرات کر کے شارٹ کٹ مار کر جنت میں بیشک جائیں گے ان کو کوٹا ملا هوگا الله کی طرف سے لھذا آپ بھی امید وار رهیں جنت کے...

یہی حال ہم شیعوں کا ہے, ہمارے شارٹ کٹ تو سنیوں سے بھی آسان ہیں۔ ہمارے پاس صرف ع ل ی کہتے جاؤ جنت میں جاتے جاؤ۔  اتنی آسان جنت...!!! ابے کاہے کا روزہ، کاہے کی نماز ، کاہے کا تقویٰ بس نعرائے حیدری لگانا ہے پل سے گذر جانا ہے... خطیب منبر پر آئے گا اور... اچھا ہم شیعوں کے خطیبوں کے بارے میں میں نے ایک بات نوٹ کی ہے وه یه که جو خطیب جتنی زیادہ بگڑی ہوئی شکل والا ہوتا هے اتنی جنت سستی اور آسانی سے دیتا هے آپ کراچی سے چاردہ معصومیں امام بارگاہ سے شروع کریں پنجاب تک چلے جائیں۔ غضنفر تونسوی سب سے گندی شکل کا ہے یہ میرا چیلنج ہے اور آپ کو اس شخص سے زیاده سستی جنت کوئی نہیں دیگا، حافظ تصدق دوسرے نمبر پر ہے چھوٹا ہے قد کا لیکن موٹر بڑی لگی ہے اس کے اندر، ضمیر آختر صاحب ان دونوں سے تھوڑا سا زیادہ "اسمارٹ" ہیں ان کی جنت ان سے ٹھوڑی سی زیادہ مہنگی ہے... لیکن ایک قدر مشترک ہے تینوں میں کہ عمل ومل کی کوئی ضرورت نہیں, متفق علیہ رائے ہے ان صاحبان کی کہ عمل نہیں صرف ع ل ی کرتے جاؤ سیدھے جنت میں ... اور ہم تو شارٹ کٹ کے عادی ہیں سو یہ تو بھیا اللہ نے سن لی ہماری، سو دے دنا دن ان کے پیچھے...

ہر کام کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک ہوتا ہے درست طریقہ جو کہ ثابت شدہ ہوتا ہے اور عقلا اسے استعمال کرتے ہیں اور ایک ہوتا ہے اسی کام کے کرنے کا شارٹ کٹ، یعنی آسان طریقہ, جس کی عقلا کم جہلا زیادہ پیروی کرتے ہیں آپ کو یہ خطیب لوگ صرف ایک ہی پہلو پر بات کرتے دکھائی دیں گے اور وہ ہے شارٹ کٹ والا پہلو مثلاً کہتے ہیں کہ جتنی بھی نمازیں پڑھ لو، جتنا بھی عمل کر لو لیکن اگر محبت اہل بیت (ع) نہیں تو کچھ نہیں۔۔ بات صحیح ہے لیکن شارٹ کٹ ہے!!! کیوں؟ کیوں کہ پورا طریقہ نہیں بتایا گیا آدھی بات کی گئی۔ پوری بات یہ ہے کہ اگر محبت اہل بیت (ع) نہیں تو عمل کسی کام کا نہیں اور اگر عمل نہیں تو محبت اہل بیت (ع) بھی کسی کام کی نہیں، وہ جھوٹا دعوائے محبت ہوگا محبت نہیں۔  ارے میاں یہ کیا کہہ دیا، ہم سے بیبی زھرا (س) نے، ہم سے مولا حسین (ع) نے وعدہ کیا ہے کہ ہم عزاداروں کی شفاعت کریں گے۔ جی جی بیشک کریں گے بھیا لیکن عزادار بنو تو!!! کیا رونے کو عزاداری اور فضائل علی (ع) پڑھنے کو آپ محبت علی (ع) سمجھ بیٹھے ہو؟؟؟ تو چلو میں کتابیں دکھاتا ہوں معاویہ نے مدح علی (ع) کی ہے اب کیا معاویہ بھی محب اہل بیت (ع)؟؟؟ پھر کتابوں میں لکھا ہے یہ آپ کی مقاتل خوارزمی اٹھا لیں اور متعدد مقتل کی کتب میں ملتا هے که آخری وقت جب شمر امام مظلوم (ع) کے سینے پہ سوار تھا بیبی زینب (س)دور کھڑی عمر سعد سے کهہ رہی تھیں اے عمر حسین قتل ہو رہا ہے و انت تنظر علیہ اور تم کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہو عمر کی آنکھوں سے اشک جاری ہوکر اس کی داڑھی پر سے ہوتے ہوئے زمین پر ٹپک رہے تھے اور اس نے حسین (ع) کے قتل کے منظر سے آنکھیں پھیر لیں... آیئے کربلا میں علی اصغر (ع) کو جب حرملہ نے... تو سپاہ یزید کی اکثریت رو رہ تھی... کیا یہ یزیدی لوگ عزادار تھے؟؟؟ کیوں نہیں تھے بھائی آنسو بہا رہے ہیں غم حسین (ع) میں!!! فضائل اور مصائب و گریہ تو بھیا ان لوگوں نے بھی کیا۔ کیا آنسو بہانا جنت میں لے جائیں گے انہیں؟؟؟ نہیں نا؟؟؟ کیوں ؟؟؟ کیونکه عمل!!! عمل کے ساتھ رونا ہو تو بات بنے گی بھیا۔ عمل حسین (ع) کے دکھائے هوئے رستے پر نه کریں نافرمانیاں کرتے جائیں گناه کرتے جائیں اور حسین (ع) پر روتے بھی جائیں تو یه عین سنت عمر سعدی هے.  ہم یہ فضائل اور مصائب کی بڑی بڑی باتیں اسی لئے کرتے ہیں کہ ہمیں شارٹ کٹ سے سب کچھ چاہیئے، عمل والی بات تو لانگ روٹ ہے نا!!!

اور یہ بیبی (س) نے شفاعت کا ذمہ لیا ہے، علی (ع) سفارش کریں گے اس کا کیا مطلب لیا ہے آپ نے ؟؟؟ یہ کہ آپ ایک نمبر کے بے نمازی ہوں، روزہ کبھی آپ نے رکھا نہیں، دو دو تولے چرس آپ روز پیتے ہو اور مست ہوکر نعرے لگا لگا کر زندگی گذار دی اور آخرت میں  علی (ع) آپ کے انتظار میں ہوں گے کہ آجا میرے فضائل پڑھنے و سننے والے میں تجھے جام جنت پلاؤں؟ یا بیبی (س) اپنے بابا سے کہیں گی بابا پوری زندگی اس نے قرآن نہیں کھولا، آپ کی ایک بھی نہیں مانی، آپ کے دین کی خوشبو ذرا بھی اس سے نہیں آتی، پوری زندگی اس کا کام یہ تھا کہ سارا سال بے عمل، دین سے کوئی واسطہ نہ رکھا، محرم کے دس دن قمیض کے بٹن کھول کر ماتم کرتا تھا، نعرے لگا تا تھا بابا اس لئے اسے بخش دو اسے جام جنت پلا دو... کیا ایسا ہوگا؟؟؟ اگر ایسا ہے تو قرآن نعوذباللہ کس کام کا بھائی؟ ایک ایک حکم کھول کر بتایا قرآن نے کہ یہ کرو، فلاں کرو، حتیٰ عورتوں کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کر لو جیسے چھوٹے چھوٹے احکامات بھی بتائے، سلام کرو، نماز میں سستی نہ کرو، بیویوں سے بہتر سلوک، ماں باپ کے حقوق، یتیم، پڑوسی، جہاد، زکوات، کیا کیا نہیں بیان کیا قرآن نے کہ مومن بننے کیلئے اتنا کچھ کرنا پڑے گا... اور آپ ہو کہ شارٹ کٹ میں ان سب چیزوں کو اس لئے بائے پاس کرے جارہے ہو کہ آپ نے ماتم کیا ہے اور نعرے لگائے هیں... واہ!!! میاں پاکستانی منسٹر سے بھی جب بچے کی سفارش لگوانے جاتے ہیں تو کہتا ہے بیٹا ڈگری تو ہے نا؟ ٹیسٹ پاس کر لو گے نا؟ انٹرویو میں سفارش ہم کردیں گے۔ آپ کسی منسٹر کے پاس جاؤ بولو صاحب میرا بیٹا ہے اسے ھیڈ کلرک لگوا دیں ڈگری نہیں، لکھنا بھی نہیں جانتا، پؑڑھنا بھی نہیں،  بس اب آپ تو مہان ہیں آپ کے نعرے لگاتا تھا الیکشن میں اب کرم فرمائیں... کیا ممکن ہے نوکری ملنا؟؟؟؟
میرے بھائی خدا کا واسطہ ہے بات سمجھیں، دین کو سمجھیں، دین ایک پرندہ ہے اس کے ایک پر کا نام عمل اور دوسرے کا نام ہے عقیدہ۔ دونون پر لازم ہیں پرواز کیلئے... ایک پر والا پرندہ نہیں اڑ سکتا۔  خدا را بیوقوف خطیبوں کے شارٹ کٹ کو چھوڑیئے قرآن و اہل بیت (ع) کے بتائے ہوئے روٹ، رستے اور صراط پر چلیئے کیوں کہ یہ اسٹریٹ پاتھ Straight path ، سیدھا راستہ اور صراط مستقیم ہے۔
.
www.facebook.com/arezuyeaab

ہفتہ، 19 ستمبر، 2015

علی (ع) کی زہرا (س) سے شادی اور ہم

( خیال :مرحوم سید مولانا غلام عسکری اعلی اللہ مقامہ)
تحریر :محمد زکی حیدری

آگ آگ آگ! یہ کسی انسان کی چیخ نہیں ہے، یہ آگ کسی ایک گھر میں نہیں لگی، کسی ایک گودام یا دکان میں نہیں لگی، کسی کھیت کھلیان میں بھی نہیں لگی ، نہ ہی یہ آگ کسی ایک گاؤں یا کسی ایک محلے میں لگی ہے بلکہ یہ آگ پورے پاک و ہند میں لگی ہے دونوں ممالک کے لوگ اس میں جھلس رہے ہیں، بھارت و پاکستان کا ہر خاندان اس میں جل رہا ہے، ہر انسان کے تن بدن میں یہ آگ لگی ہے ، ہر عمر کے افراد جوان،  بوڑھے، عورتیں سب اس آگ میں جل رہے ہیں, بچے بھی اپنے بڑوں کے ہاتھوں اس آگ میں جھونکے جانے کے منتظر ہیں اس آگ سے انسانی گوشت  کے جلنے کی بدبو آ رہی ہے اس آگ میں زندگیاں جھلس گئیں ، جوانیاں اس کی بھینٹ چڑھ گئیں ، اس آگ میں دھڑا دھڑ شرافت، انسانیت، حیا، ایمان ، رشتہ داریاں، جل کر دھواں دھواں ہو رہی ہیں . مگر کچھ لوگ اس آگ سے تاپ رہے ہیں ، اس آگ سے گھر میں اجالا کر رہے ہیں،اس آگ پر اپنے چولھے ہانڈی چڑھا رہے ہیں! آپ حیران ہوں گے کہ میں کس آگ کی بات کر رہا ہوں اور کن خبیث لوگوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں جو اسے ہوا دے رہے ہیں تو سنیئے بھیا اس آگ کا نام ہے شادی! اس کا ایندھن ہے جہیز، رسمیں، گھراتی، براتی، اور وہ آدم خور جلاد ہیں دولھا ور دولھا کے گھر والے اور تمام خود فریب جو رسموں کے، شگن کے اور شکوک کے پجاری ہیں! یہ تمام لوگ بیک وقت بھیڑ بھی ہیں اور بھیڑیے بھی، ظالم بھی  ہیں اور مظلوم بھی ، رونے والے بھی یہی رلانے والے بھی ، یہ ڈستے بھی ہیں اور ڈسے جاتے بھی ہیں، نوچتے ہیں اور نوچے جاتے بھی ہیں۔

اس معاشرے کو سب سے پہلے ایک پاگل کتے نے کاٹا جس کا نام ہے "لوگ کیا کہیں گے"  اس کتے کے اگلے پیروں کا نام ہے جہیز اور رسمیں اور اس کے پچھلے پیروں کے نام ہیں قرض مہر اور ساری زندگی لڑکی والوں سے خوفزدہ رہنا اس کتے پر سوار ہیں دولہا میاں اور اس کے گرد جمع ہیں گھراتی، باراتی اور رسموں کے پجاری، اس پاگل کتے کے تیز دانتوں کا نام ہے دکھاوا! اس کتے نے اپنے تیز دانتوں سے دین و ایمان و شرافت و رحمدلی و قناعت و ۔۔۔ سب کو بھبھوڑ ڈالا ہے۔ پاگل کتا جسے کاٹ لیتا ہے وہ پاگل ہوجاتا ہے اور یہ پاگل جسے ناخن مار دے وہ بھی پاگل ہوجاتا ہے سب پاگل کتے کی طرح بھونکتے ہیں اور سب کے منہ میں کتے کی شکل کے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

"لوگ کیا کہیں گے" کو ملحوظ رکھ  کر جو پہلی شادی ہوئی تھی اس دن اس کتے کا جنم ہوا تھا اور جنم دن پر ہی جہاں اس نے لڑکی والوں کو جہیز کے نام پر خوب نوچا اور پھاڑا وہاں لڑکے والوں کو بھی رسومات کے نام پر کاٹ کاٹ کر لہولہاں کیا۔ اس کے یکے بعد دیگرے خاندان کے خاندان اس پاگل کتے کے زیر اثر آتے چلے گئے اور پاگل ہوتے چلے گئے دین کا ویکسین ناپید تھا یا اسے جان بوجھ کر ایک طرف رکھ دیا گیا تھا ۔ آج ہم اور آپ اسی پاگل سماج میں جی رہے ہیں۔ حال یہ ہے کہ بیٹی رحمت ہوتی ہے کے ماننے والے کے یہاں جب پہلی بیٹی ہوتی ہے تو پریشان ہوجاتا ہے، جب دوسری کی پیدائش ہوتی ہے تو کانپ اٹھتا ہے۔ اور پوری زندگی رعشہ کی یہ بیماری نہیں  جاتی۔ حوا کی بیٹی جب سمجھدار ہوتی ہے تو اسے اپنے چاروں طرف جہنم کی سی جنسی آگ سلگتی ہوئی نظر آتی ہے اس آگ سے بچانے والی پر مسرت شادی کے امکانات جہیز اور رسموں نے بلکل ختم کر دیئے ہیں۔ لیکن کیا کیجے بھیا! بیٹی کی شادی کے وقت آٹھ آنسو رونے والے کے یہاں جب بیٹے کی شادی کی تیاری ہوتی ہے تو وہ لڑکی والوں کو آٹھ ہزار آنسو رلاتا ہے۔ اس طرح یہ آگ ہے کہ جس میں ہم ہی ایندھن ڈالے جا رہے ہیں۔

سچ کہہ رہا ہوں رسمیں جہالت کا نتیجہ ہیں ، دباؤ ڈال کر جہیز لینا حرام ہے، رسومات کی پابندی کا مطالبہ کرنا ناجائز ہے، ان کے ذریعے ملنے والا مال حرام ، ہم منگنی سے لیکر رخصتی تک جو خرچ کرتے ہیں اس میں 99٪ فضول خرچ ہے اور فضول خرچی ناجائز ہے۔  ہماری زبردستیاں، ہماری بے مہار نفسانی خواہشیں، معاشرے کی باتوں کا ہماری سوچ اور فکر پر غلبہ۔۔۔ہم ہر واجب ہوگیا ہے خود کو آگ میں جھونکنا! کیوں کہ معاشرہ ہمیں آگ میں جھلستا ہوا دیکھنا چاہتا ہے, جو معاشرہ چاہے گا ہم کریں گے، ہر عمل معاشرے کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر کریں گے، معاشرے کے خلاف کچھ نہیں  کریں گے، معاشرے کے مقابلے میں اللہ کا حکم محمد و آل محمد (ع) کی سیرت بھی آگئی تو ترجیح معاشرے کی بات کو دیں گے۔۔۔ اور شام کو جاکرجانماز بچھا کر اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوں گے!  علی (ع) اور زہرا (س) کی شادی کے دن آئے تو جھوم جھوم کر خوشی منائیں گے! واہ میاں تمہاری نماز۔۔۔ واہ شیعہ تیرا علی (ع) وزہرا کی شادی کا جشن منانا!

تو کسیے بجھے گی یہ آگ؟ محمد (ص) کے بتائے ہوئے طریقے سے، علی (ع) اور زہرا (س) کی شادی کی طرح اپنے گھر میں موجود علی اور زہرا کی شادیاں کرنے سے! اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے یہ زندگی یہ اولاد تمہاری ہے انہیں اس طرح پال پوس کر بڑا کرو، اللہ و اہل بیت (ع) کیلئے جینا سکھاؤ، اپنے لیئے جینا سکھاؤ، سر پر لہراتی معاشرے کی تلوار کو ہٹا دو، اپنے لیئے شادیاں کرنا سکھاؤ، "لوگ کیا سمجھیں گے" کی جگہ " میرا اللہ، میرا اہلبیت (ع)  کیا سمجھیں گے" رکھ کر زندگی کا ہر عمل انجام دو، دین اطاعت کا نام ہے ہم لوگ اپنے روز مرہ کے امور میں معاشرے کی اطاعت کر رہے ہیں یا اللہ و اہل بیت (ع) کی؟ سوچئے۔
میری شادی نہیں ہوئی میں علی (ع) و زہرا (س) کی شادی کی قسم کھا کر کہتا ہوں فضول خرچہ نہیں  ہونے دونگا چاہے مجھے میرے والدین سے ہی کیوں نہ لڑنا پڑے،  بری رسموں کا آغاز بھی ہم جیسے انسانوں نے کیا تھا تو کیا ان کا قلع قمع کرکے اچھی روایتوں کا آغاز ہم جیسے انسان نہیں کر سکتے؟ اگر ہاں تو اور کوئی کیوں, میں خود سے ہی کیوں نہ شروعات کروں، قرآن بھی یہی کہتا ہے "وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں" اب آپ کا کیا خیال ہے میرے جوان دوستو؟معاشرے کو دکھانے کیلئےشادی کرنی ہے یا علی (ع) اور زہرا (س) کے نمونے  شادی کرنی ہے؟

arezuyeaab.blogspot.com
عزت کر ہے ہو یا بے عزتی؟
.
تحریر: محمد زکی حیدری

ذہن الفاظ کا ایک گودام ہے اور منہ اس کا دروازہ، جیسے الفاظ گودام کے اندر ہوں گے ایسے ہی منہ سے باہر آئیں گے ، گودام میں الفاظ کی کمی بات چیت کے دوران اکثر مفہوم کی مکمل رسائی کے راستے میں حائل ہوجاتی ہے اور بولنے والا اپنے تاثرات درست معنی میں سننے والے تک نہیں پہنچا پاتا ، بات کچھ ہوتی ہے لیکن الفاظ کی کمی کے باعث کچھ  اور ہی کہہ بیٹھتا ہے۔ یہ ہی اصول استعارے اور تشبیہات پر بھی صادر ہوتا ہے مثلاً ایک صاحب منبر پر بیٹھ کر مدح علی (ع) کر رہے تھے، تین کو نیچا دکھانے اور چوتھے نمبر کو اونچا دکھانے کیلئے انہیں اور کوئی مثال نہ ملی بڑے ذاکرانہ انداز میں کہنے لگے "اوئےمنافق تیرے توں تے او کتا چنگا جہڑا پشاب کرن ویلے اک ٹنگ اتے چا کہ تن ٹنگا تے پشاب کردا جے۔۔۔" (او منافق تجھ سے تو وہ کتا بہتر ہے جو ایک ٹانگ اٹھا کر تین ٹانگوں پر پیشاب کرتا ہے) پھر اپنے ہاتھ سے سامعین کو اشارے کرنے لگا کہ تم لوگ بات سمجھے ہی نہیں اور سامعین نے نعروں کا تانتہ باندہ دیا یہ بھی نہ سوچا کہ تین کے ساتھ چوتھے کو بھی اس ذاکر نے کتے کی ٹانگ سے ملا دیا چہ جائیکہ اوپر ہو یا نیچے! (نعوذباللہ)

ہم ایسے ہی ہیں ہم سوچتے نہیں، ہمیں تو بھیا بس عشق ہے! عقل کی بات کوئی ہم سے کرے تو ہم اسے کہتے ہیں عشق کے آگے عقل کچھ نہیں بیچتی ، تو یہ حال ہے ہمارا! اتنا وقت، اتنی توانائی، اتنا سرمایہ دیوبندی- شیعہ کا بالعموم اور سنی- دیوبندی کا بالخصوص فقط اس بات پر صرف ہوا کہ "نبی (ص) نور ہیں کہ نہیں؟" سنی کہتے نبی (ص) نور ہیں ، دیوبندی کہتا نبی بشر، سنی کہتا ہے ابے شرم کر نبی (ص)کو ہم جیسا کہہ دیا۔ بولا تو اور کیا قرآن میں لکھا ہے "انا بشر مثلنا" میں تمہارے جیسا بشر ہوں۔ سنی کہے دفع ہو! وہ رحمت للعالمین ہیں ہم جیسے بھلا کیسے ہو گئے! بات بڑھتی چلی گئی سنی نے کہا بھیا دیکھو بشر کا سایہ ہوتا ہے نبی (ص) اگر بشر تھے تو سایہ کیوں نہ تھا۔ دیوبندی کہتا ہے کمینے تم ہی نے تو کہا ہے کہ حدیث میں ملتا ہے ایک بادل چوبیس گھنٹے حضور (ص) پر سایہ افگن رہتا تھا تو جب سر پہ سایہ ہو تو ان (ص) کا اپنا کیسا سایہ کیسی پرچھائی؟ سنی بولے محمد (ص) نورِ مجسم! دیوبندی جواب میں کہے ہائے ہائے! جاہل بریلوی اگر محمد (ص) نور کے بنے ہوئے تھے تو بتا خندق والے دن پیٹ پر پتھر کس نے باندھا نور پر پتھر ٹِکا کیسے! اچھا یہ بتا طائف کے شریروں نے نبی (ص) کو پتھروں کی برسات کرکے زخمی کر دیا تھا اگر نور کے بنے ہوئے تھے تو نور کو پتھر بھلا کیا کرے گا، یہ چھوڑ یہ بتا نبی (ص) کھاتے پیتے نہ تھے؟ رفع حاجت محسوس نہیں ہوتی تھی، ہیں؟؟؟ نور کو بھلا بھوک کاہے کی؟ بول بے بدعتی۔۔۔؟؟؟ الا بلا ۔۔۔ بحث چلتی رہی تقاریرمیں، سیمیناروں میں، کتابوں میں، ایک ہی جنگ کہ نبی (ص) نور ہیں کہ نہیں!

میں کراچی یونیورسٹی میں تھا وہ الگ دؤر تھا اتنا مذہبی نہیں تھا میں، لے دے کہ بس نماز کی ادائیگی تک محدود! اس میں بھی فجر کی نماز موڈ پر منحصر! وہ تو بعد میں کسی نے آکر زندگی بدل دی۔۔۔ خیر! اس دور میں میرے سامنے دوستوں نے یہ بحث چھیڑی، میں نے کہا یار نور کی تعریف پتہ ہے تم لوگوں کو؟ بولے کیوں نہیں نور مطلب روشنی! میں نے کہا سادہ سی تعریف نور کی اگر یہ کی جائے کہ ہر وہ چیز جس کی وجہ سے اندھیرا دور ہوجائے، تو درست رہے گا؟۔ میں نے ان سے تصدیق کروائی خاص طور پر دیوبندی دوست عبداللہ سے۔ بولا ہاں اس میں  کوئی شک نہیں، میں نے کہا یار دیکھ عرب کی نگری جہالت کے گھپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی؟ بولا ہاں! میں نے کہاں وہ جہالت کا اندھیرا کس نے ہٹایا محمد (ص) نے یا کسی اور نے ؟ کہا محمد (ص) نے! میں کہا تو اندھیرے کو جو ہٹائے اسے کیا کہتے ہیں؟ کہنے لگا نور! میں نے کہا محمد (ص) کو نور مانتے ہو نا کہنے لگا ہاں اس طرح تو مانتے ہیں مگر یار یہ بریلوی کہتے ہیں نورِ مجسم یہ تو غلط ہے نا یار! میں نے کہا رکو!

اب میں نے اس بریلوی دوست عمار سے مخاطب ہو کر کہا یار عمار! نبی (ص) نور کے بنے ہوئے تھے ؟ بولا ہاں! میں نے کہا یہ تو تم حضور (ص) کی اہانت کر رہے ہو۔ بولا کیسے؟ میں نے کہا نوری مخلوق تو فرشتے ہوتے ہیں وہ اشرف المخلوقات نہیں ہیں، اشرف المخلوقات تو انسان ہے۔ تم انسان ہو نا؟ کہنے لگا ہاں ہوں؟ میں نے کہا تو اس نوری مخلوق سے افضل ہو نا؟ بولا ہاں ہوں! میں نے کہا جب تم نوری مخلوق سے افضل ہو تو نبی (ص) کو نوری مخلوق کہہ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟ چپ ہوگیا!کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دبے الفاظ میں کہنے لگا "تو کیا تیرا مطلب یہ ہے کہ نبی (ص) نور نہیں؟" میں نے کہا میں نبی (ص) کو نور مانتا ہوں اور یہ عبداللہ بھی مان چکا ہے۔

ہم لوگ یہی کرتے ہیں، کرنا عزت افزائی چاہتے ہیں لیکن اصل میں اگلے کی تذلیل کر رہے ہوتے ہیں، ایک نبی (ص) کو نور ماننے کو تیار نہیں دوسرا انہیں نوری مخلوق سمجھ بیٹھا۔ افراط و تفریط!  نبی (ص) کے سامنے نور کی حیثیت ہی کیا ہے بھائی! ہمیں کہنا چاہیئے جب یہ ہوری کائنات اس محمد (ص) کے صدقے وجود میں آئی تو کیا نور کوئی انوکھی چیز ہے؟ اس کا وجود بھی محمد (ص) کے توسط سے ہے۔ نور محمد (ص) کی وجہ سے ہے نہ کہ محمد (ص) نور کی وجہ سے! ان بحثوں کو چھوڑیئے، محمد(ص) سے دنیا کا مشکل ترین کام سیکھئے، کیا کام؟ ذہن سازی کا! انسان سازی کا! کردار سازی کا! محمد (ص) نے کتابیں نہیں لکھیں انسان لکھے! محمد (ص) کی کتاب علی (ع) ہیں، محمد (ص) کی کتاب زہرا (س) ہیں، سلمان (رض)، بلال (رض) ابوذر (رض)۔۔۔ ان سب کا استاد محمد (ص) ہے، ان پڑھ ہو کر بھی! یہی وجہ ہے کہ حضرت جوش ملیح آبادی (رح) فرما گئے "عرب کی سی جہالت کی نگری میں جو کسی ایک متنفس کی شاگردی لیئے بغیر بھی پوری کائنات کا استاد کہلائے دبستان ادب کی زبان میں ایسے شخص کو محمد (ص) کہتے ہیں" جناب مدح سرائی کے گر سیکھئے یا چپ رہنا سیکھئے، اپنے کیچڑ سے بھرے گودام کا دروازہ کم از کم ان پاک ہستیوں کیلئے تو نہ کھولیئے۔
arezuyeaab.blogspot.com
یہ کیسا باپ ہے!

تحریر:محمد زکی حیدری

جناب کہتے ہیں کہ قدیم مصر میں ایک شخص تھا، اس نے شادی کی مگر اسے اولاد نہیں ہوئی بیوی اچھی خاصی مالدار تھیں اما صاحب اولاد ہونے میں اپنے شوہر کی مدد نہ کرپانے کی بات کو لیکر بڑی مشوش رہتی، آخر اسے خیال آیا کہ کیوں نہ مصر کے بادشاہ کی طرف سے دی ہوئی ایک کنیز جو اس کے گھر کے کام کاج کرتی ہے، کو اپنے شوہر کو بخش دے اور اس سے عقد کر کے وہ صاحب اولاد ہو جائے، لہذا اس خاتون نے ایسا ہی کیا ور اپنی کنیز اپنے شوہر کو بخش دی، جب عقد ہوا تو بہت جلد اس کنیز سے اس شخص کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس شخص کی زندگی میں تو خوشیوں کی بہار سی آگئی مگر وہاں اس کی مالدار بیوی نے حکم جاری کیا کہ اس کنیز کو بمع اس کے بیٹے کسی دور افتادہ مقام پر چھوڑ آئے کیونکہ وہ ان دونوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتیں!عجب! اس شخص نے بجائے انکار کے اپنے نومولود اور بیوی کو لیا اور مصر سے دور ایک سنسان، سنگریلی بے آب و گیاہ زمین پر چھوڑنے کی غرض سے سفر شروع کیا۔ مقام مقصود پر پہنچ کر اس شخص نے اپنے نومولود اور بیوی کو اس ویرانے میں اتارا اور جب خود سواری سے اترنا چاہا تو اسے اپنی بیوی کی بات یاد آئی، اس کی بیوی نے اس شخص کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ سواری سے اترے بغیر واپس مصر آجائے لھذا اس شخص نے ایسا ہی کیا بغیر اترے واپس جانے لگا۔ نومولود بچے کی ماں نے آہ بکا کی اور لاکھ جتن کئے کہ آپ ہمیں یہاں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہیں، میں تو میں اس نومولود کا کیا قصور کہ اس موت کی گھاٹی میں سسک سسک کر جان دے، دامن گیر ہوئی، سواری کی رقاب تھام لی کہ نہیں جانے دے گی۔ اس شخص نے اس عورت کی ایک بھی نہ سنی اور واپس مصر کوچ کیا۔ اللہ اکبر یه کیسا باپ ہے!

دوپہر کا وقت ہوا چاروں طرف آسمان سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑ اور ان کے درمیاں گرم سنگریلی زمین پر ایک ماں اپنے نومولود کو گود میں لیئے موت کی منتظر ہے، دور دور تک انسان تو انسان پرند و چرند تک کا بھی کوئی نام و نشان نہیں، ماں پریشان، ماں حیران، ماں افسردہ، پہاڑیوں کے بیچ میں دوپہر کا سورج اپنی آب و تاب سے چمکنے لگا اور اس نے اس پتھریلی زمیں کو جہنم کے جیسا گرم کر دیا۔ جو تھوڑا سا پانی لائی تھی وہ ختم ہو چکا ، پستان میں دودہ کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں ، بچہ پیاس کے مارے چیخنے لگتا ہے! کیا کرے؟ سامنے ایک پہاڑی کی طرف دوڑتی ہے شاید کہیں کوئی پانی کا قطرہ میسر آجائے کہ نومولود کی حلق کو گیلا کر سکے مگر نہیں پہاڑ اور اس کے عقب میں بھی دور دور تک پہاڑہی پہاڑ، اتری اس پہاڑ سے، دوسرے پہاڑ کی جانب دوڑ لگائی لیکن مایوسی ۔۔۔! سمجھ گئی کہ اب اوپر والا ہی کچھ کرے تو کرے اس کے بس میں پانی کا انتظام کرنا ناممکن ہے! تھک ہارکے بیٹھ  گئی خود بھی پیاس کے مارے مرنے کو تھی کہ نومولود نے ایڑیاں رگڑیں اور یہ ادا خداوند متعال کو اتنی پسند آئی پانی کا چشمہ جاری ہوا۔۔۔

جی! آپ نے درست سمجھا میں کسی عام باپ کی ، کسی عام ماں کی، کسی عام نومولود کی نہیں بلکہ بت شکن حضرت ابراہیم (ع) اس کی مجاہدہ بیوی حضرت ھاجرہ (س) اور اسماعیل (ع) ہی کی بات بیان کر رہا ہوں۔ وہ سنگریلی زمین مکہ کی وادی تھی، اور بے اولاد زوجہء ابراہیم (ع) کا نام تھا سارہ (س)! بالقصہ اسماعیل (ع) کے اعجازنبوت سے زمزم جاری ہوا تو آس پاس کے پرندوں کے جھنڈ اس طرف آنے لگے، یہ دیکھ کر مکہ کے مضافات میں رہنے والے قبیلے جرہم کے کچھ لوگ اس طرف متوجہ ہوکر مکہ آئے اور بیبی (س) کی اجازت سے وہاں سکونت اختیار کی ، ہاجرہ (س) نے انہیں اپنی روداد سنائی، ابراہیم (ع) بھی کبھی کبھار ان کے یہاں سے چکر لگا لیا کرتے تھے۔

یہ ہے ھاجرہ (س)۔۔۔! اور دیکھیئے یہاں بیٹا سنِ بلوغت کو پہنچا وہاں سے وہی باپ جو اسے بچپن میں بیابان میں چھوڑ گیا تھا، چھری لے کر آگیا، بولا چلو بیٹا گردن کاٹنی ہے تمہاری! ارے۔۔۔! ہاجرہ (س) اٹھو دیکھو تو تمہارے شوہر کے کام! کوئی اور عورت ہوتی تو اٹھ کھڑی ہوتی کہتی کہ میاں دیا ہی کیا ہےتم نے؟ ہیں؟ تمہاری لاڈلی بیوی کے تو بچہ ہوا ہی نہیں، شکر کرو میں نے تمہارے  نرینہ اولاد جن کر دی، اور اس کا سلہ یہ دیا کہ ویرانے میں پھینک کر آ گئے؟ اور اب جب خون پسینہ بہا کر میں اسے پال پوس کر بڑا کیا تو آگئے کہ گردن کاٹنی ہے! بھیڑ بکری سمجھا ہے اسے؟ میرا لخت جگر ہے! ارے کرامتوں والا میرا لاڈلا جس کی کرامت سے چشمہ جاری ہوا اس کی گردن کاٹنے چلے ہو کیسے باپ ہو تم۔۔۔؟ لیکن نہیں! یہ ہاجرا (س) ہے! ظاہر کی نہیں باطن کی آنکھوں سے دیکھتی ہے، اللہ (ج) کا منتخب نبی جب کہہ رہا ہے تو بس! اللہ (ج) اور بس بات ختم! یہی وجہ تھی کہ اللہ (ج) نے بھی ہاجرہ (س) کو عزت بخشی کہ کوئی کتنا بھی بڑا پھنے خان ہو حج پر جائے گا تو اس ہاجرہ (س) کے قدموں پر قدم رکھ کر نہیں دوڑے گا حاجی نہیں کہلائے گا۔

میری ماؤں، بہنو! اللہ (ج) اپنے بندوں کو آزماتا ہے،آپ جب تکلیف میں ہوں تو ھاجرہ (س) کو یاد کریں، ہاجرہ (س) اور اس کے نومولود کا عکس اپنے ذہن میں لائیں، بیابان کو یا د کریں، پتھریلی، تپتی زمین و تنہائی و بے سر و سامانی۔۔۔! اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کے اندر استقامت و صبر پیدا ہوگا آپکو آپکی تکلیف ناچیز محسوس ہوگی اور دوسری بات یہ کہ اس تکلیف کے بعد آنے والے  الہٰی انعامات کی امید آپ کے اندر پیدا ہوگی، کیا ایسا ہو سکتا ہے اللہ (ج) آزمائے اور اس آزمائش میں کامیابی پر انعام سے نہ نوازے؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا لہٰذا آج اگر آپ کو اپنی زندگی مکہ کی سی گرم وادی کی طرح محسوس ہو رہی ہے پھر بھی آپ اللہ (ج) سے پر امید ہیں، تویقین جانئے کہ اللہ (ج) آپ کی زندگی میں زم زم جاری کرنے والا ہے، آپ کے قدموں کے نشانات پر دنیا بھر کے انسانوں کو چلانے والا ہے۔
www.facebook.com/arezuyeaab
.
arezuyeaab.blogspot.com