شیعہ اور شارٹ کٹ
تحریر: محمد زکی حیدری
کهتے هیں کراچی کا ایک واقعه ہے کہ ایک انگریز سیاح خاتون کی
گاڈی ریلوے پها ٹک پر آکر رکی چونکہ پهاٹک بند تھا لھٰذا وہ ٹرین کے گذرنے کاانتظار
کرنے لگی اور فرصت کے لمحات میں وه اپنی گاڈی کی کھڑکی کھول کر آس پاس کے ماحول پر
نظر دوڑانے لگی, اتنے میں سامنے ہی پهاٹک پر اسے ایک بہت عجیب و غریب منظر دیکھنے کو
ملا جس نے اس کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے, اس خاتون نے دیکھا کہ باوجود اس کے کہ پهاٹک
بند ہے ایک سائیکل سوار پاکستانی اپنی سائیکل کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر پهاٹک کے اس
پار لے گیا اور پھر سائیکل پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔ اس انگریز خاتون
جس نے پاکستانیوں کی اپنے ملک میں بڑی برائیاں سنی تھیں کہ کام چور ہیں, وقت کی پابندی
تو بلکل بھی نہیں کرتے وغیرہ، یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی اور سوچنے لگی کہ لوگ تو
خوامخواہ پاکستانیوں کی برائیاں کرتے ہیں اسے دیکھو بیچارہ کتنی جلدی سے اپنے کام
کے پیچھے جا رہا ہے۔ پھاٹک کھلا اس خاتون کی گاڈی جب اگلے ٹریفک سگنل پر رکی تو ایک
اور منظر دیکھ کر وہ اور بھی مبھوط ہوگئی، اس نے دیکھا کہ جس شخص نے جلدی میں سائیکل
کندھے پر اٹھا کر پھاٹک کراس کیا تھا وہ ایک پل کے نیچے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ
کر تاش کھیل رہا ہے اور سگریٹ کے پھوکے بھی
لگا رہا ہے...
ہم پاکستانی نہ صرف پھاٹک پر بلکہ ٹریفک جیم کے وقت، نان لینے
کی قطار میں کھڑے ہونے کے وقت، بل جمع کراتے وقت، شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانا کھاتے
وقت بڑے مایہ ناز کھلاڑیوں کی طرح "شارٹ کٹ" مارتے ہیں۔ عادت سے مجبور انسان
بھلا کیا کرے آخر ہماری اس شارٹ کٹ مارنے کی عادت کے رنگ ہمارے دینی فرائض اور عقائد
میں بھی نظر آنے لگے۔ ہم دین میں بھی شارٹ کٹ کے عادی ہوگئے۔ مثال حاجی صاحب ساری زندگی
سود کھاتے ہیں، تجارت میں دو نمبری کاروبار سے پیسہ کماتے ہیں اور جب حج کا وقت آتا
ہے تو سب سے پیش پیش حج سے مشرف ہونے چل دیتے ہیں، اس کے علاوہ ایک بڑی خیرات بھی کردیتے
ہیں جس میں خود بھی سفید کڑتا اور عطر لگا کر موجود رہتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے غریبوں
میں کھانا بھی تقسیم کرتے ہیں، دین کا ٹھیکیدار مولوی بھی اس محفل میں اپنی خضاب کردہ
داڑھی کو عطر لگا کر اسے اپنے ہاتھ سے سہلاتاهوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ شارٹ کٹ هے جنت
میں جانے کا !!! بھئی کیوں نہ جائیں گے حاجی صاحب جنت میں بھلا، کیا قرآن نے مسکینوں
کو کھانا کھلانے پر زور نہیں دیاَ؟ جی جی حضور دیا ہے آپ کے حاجی صاحب 363 دن دونمبریاں
کریں اور دو دن خیرات کر کے شارٹ کٹ مار کر جنت میں بیشک جائیں گے ان کو کوٹا ملا هوگا
الله کی طرف سے لھذا آپ بھی امید وار رهیں جنت کے...
یہی حال ہم شیعوں کا ہے, ہمارے شارٹ کٹ تو سنیوں سے بھی آسان
ہیں۔ ہمارے پاس صرف ع ل ی کہتے جاؤ جنت میں جاتے جاؤ۔ اتنی آسان جنت...!!! ابے کاہے کا روزہ، کاہے کی
نماز ، کاہے کا تقویٰ بس نعرائے حیدری لگانا ہے پل سے گذر جانا ہے... خطیب منبر پر
آئے گا اور... اچھا ہم شیعوں کے خطیبوں کے بارے میں میں نے ایک بات نوٹ کی ہے وه یه
که جو خطیب جتنی زیادہ بگڑی ہوئی شکل والا ہوتا هے اتنی جنت سستی اور آسانی سے دیتا
هے آپ کراچی سے چاردہ معصومیں امام بارگاہ سے شروع کریں پنجاب تک چلے جائیں۔ غضنفر
تونسوی سب سے گندی شکل کا ہے یہ میرا چیلنج ہے اور آپ کو اس شخص سے زیاده سستی جنت
کوئی نہیں دیگا، حافظ تصدق دوسرے نمبر پر ہے چھوٹا ہے قد کا لیکن موٹر بڑی لگی ہے اس
کے اندر، ضمیر آختر صاحب ان دونوں سے تھوڑا سا زیادہ "اسمارٹ" ہیں ان کی
جنت ان سے ٹھوڑی سی زیادہ مہنگی ہے... لیکن ایک قدر مشترک ہے تینوں میں کہ عمل ومل
کی کوئی ضرورت نہیں, متفق علیہ رائے ہے ان صاحبان کی کہ عمل نہیں صرف ع ل ی کرتے جاؤ
سیدھے جنت میں ... اور ہم تو شارٹ کٹ کے عادی ہیں سو یہ تو بھیا اللہ نے سن لی ہماری،
سو دے دنا دن ان کے پیچھے...
ہر کام کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک ہوتا ہے درست طریقہ جو کہ ثابت
شدہ ہوتا ہے اور عقلا اسے استعمال کرتے ہیں اور ایک ہوتا ہے اسی کام کے کرنے کا شارٹ
کٹ، یعنی آسان طریقہ, جس کی عقلا کم جہلا زیادہ پیروی کرتے ہیں آپ کو یہ خطیب لوگ صرف
ایک ہی پہلو پر بات کرتے دکھائی دیں گے اور وہ ہے شارٹ کٹ والا پہلو مثلاً کہتے ہیں
کہ جتنی بھی نمازیں پڑھ لو، جتنا بھی عمل کر لو لیکن اگر محبت اہل بیت (ع) نہیں تو
کچھ نہیں۔۔ بات صحیح ہے لیکن شارٹ کٹ ہے!!! کیوں؟ کیوں کہ پورا طریقہ نہیں بتایا گیا
آدھی بات کی گئی۔ پوری بات یہ ہے کہ اگر محبت اہل بیت (ع) نہیں تو عمل کسی کام کا نہیں
اور اگر عمل نہیں تو محبت اہل بیت (ع) بھی کسی کام کی نہیں، وہ جھوٹا دعوائے محبت ہوگا
محبت نہیں۔ ارے میاں یہ کیا کہہ دیا، ہم سے
بیبی زھرا (س) نے، ہم سے مولا حسین (ع) نے وعدہ کیا ہے کہ ہم عزاداروں کی شفاعت کریں
گے۔ جی جی بیشک کریں گے بھیا لیکن عزادار بنو تو!!! کیا رونے کو عزاداری اور فضائل
علی (ع) پڑھنے کو آپ محبت علی (ع) سمجھ بیٹھے ہو؟؟؟ تو چلو میں کتابیں دکھاتا ہوں معاویہ
نے مدح علی (ع) کی ہے اب کیا معاویہ بھی محب اہل بیت (ع)؟؟؟ پھر کتابوں میں لکھا ہے
یہ آپ کی مقاتل خوارزمی اٹھا لیں اور متعدد مقتل کی کتب میں ملتا هے که آخری وقت جب
شمر امام مظلوم (ع) کے سینے پہ سوار تھا بیبی زینب (س)دور کھڑی عمر سعد سے کهہ رہی
تھیں اے عمر حسین قتل ہو رہا ہے و انت تنظر علیہ اور تم کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہو عمر
کی آنکھوں سے اشک جاری ہوکر اس کی داڑھی پر سے ہوتے ہوئے زمین پر ٹپک رہے تھے اور اس
نے حسین (ع) کے قتل کے منظر سے آنکھیں پھیر لیں... آیئے کربلا میں علی اصغر (ع) کو
جب حرملہ نے... تو سپاہ یزید کی اکثریت رو رہ تھی... کیا یہ یزیدی لوگ عزادار تھے؟؟؟
کیوں نہیں تھے بھائی آنسو بہا رہے ہیں غم حسین (ع) میں!!! فضائل اور مصائب و گریہ تو
بھیا ان لوگوں نے بھی کیا۔ کیا آنسو بہانا جنت میں لے جائیں گے انہیں؟؟؟ نہیں نا؟؟؟ کیوں ؟؟؟ کیونکه عمل!!! عمل کے ساتھ رونا ہو تو بات بنے گی بھیا۔ عمل حسین (ع) کے دکھائے
هوئے رستے پر نه کریں نافرمانیاں کرتے جائیں گناه کرتے جائیں اور حسین (ع) پر روتے
بھی جائیں تو یه عین سنت عمر سعدی هے. ہم یہ
فضائل اور مصائب کی بڑی بڑی باتیں اسی لئے کرتے ہیں کہ ہمیں شارٹ کٹ سے سب کچھ چاہیئے،
عمل والی بات تو لانگ روٹ ہے نا!!!
اور یہ بیبی (س) نے شفاعت کا ذمہ لیا ہے، علی (ع) سفارش کریں
گے اس کا کیا مطلب لیا ہے آپ نے ؟؟؟ یہ کہ آپ ایک نمبر کے بے نمازی ہوں، روزہ کبھی
آپ نے رکھا نہیں، دو دو تولے چرس آپ روز پیتے ہو اور مست ہوکر نعرے لگا لگا کر زندگی
گذار دی اور آخرت میں علی (ع) آپ کے انتظار
میں ہوں گے کہ آجا میرے فضائل پڑھنے و سننے والے میں تجھے جام جنت پلاؤں؟ یا بیبی
(س) اپنے بابا سے کہیں گی بابا پوری زندگی اس نے قرآن نہیں کھولا، آپ کی ایک بھی نہیں
مانی، آپ کے دین کی خوشبو ذرا بھی اس سے نہیں آتی، پوری زندگی اس کا کام یہ تھا کہ
سارا سال بے عمل، دین سے کوئی واسطہ نہ رکھا، محرم کے دس دن قمیض کے بٹن کھول کر ماتم
کرتا تھا، نعرے لگا تا تھا بابا اس لئے اسے بخش دو اسے جام جنت پلا دو... کیا ایسا
ہوگا؟؟؟ اگر ایسا ہے تو قرآن نعوذباللہ کس کام کا بھائی؟ ایک ایک حکم کھول کر بتایا
قرآن نے کہ یہ کرو، فلاں کرو، حتیٰ عورتوں کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کر لو جیسے چھوٹے
چھوٹے احکامات بھی بتائے، سلام کرو، نماز میں سستی نہ کرو، بیویوں سے بہتر سلوک، ماں
باپ کے حقوق، یتیم، پڑوسی، جہاد، زکوات، کیا کیا نہیں بیان کیا قرآن نے کہ مومن بننے
کیلئے اتنا کچھ کرنا پڑے گا... اور آپ ہو کہ شارٹ کٹ میں ان سب چیزوں کو اس لئے بائے
پاس کرے جارہے ہو کہ آپ نے ماتم کیا ہے اور نعرے لگائے هیں... واہ!!! میاں پاکستانی
منسٹر سے بھی جب بچے کی سفارش لگوانے جاتے ہیں تو کہتا ہے بیٹا ڈگری تو ہے نا؟ ٹیسٹ
پاس کر لو گے نا؟ انٹرویو میں سفارش ہم کردیں گے۔ آپ کسی منسٹر کے پاس جاؤ بولو صاحب
میرا بیٹا ہے اسے ھیڈ کلرک لگوا دیں ڈگری نہیں، لکھنا بھی نہیں جانتا، پؑڑھنا بھی نہیں، بس اب آپ تو مہان ہیں آپ کے نعرے لگاتا تھا الیکشن
میں اب کرم فرمائیں... کیا ممکن ہے نوکری ملنا؟؟؟؟
میرے بھائی خدا کا واسطہ ہے بات سمجھیں، دین کو سمجھیں، دین
ایک پرندہ ہے اس کے ایک پر کا نام عمل اور دوسرے کا نام ہے عقیدہ۔ دونون پر لازم ہیں
پرواز کیلئے... ایک پر والا پرندہ نہیں اڑ سکتا۔
خدا را بیوقوف خطیبوں کے شارٹ کٹ کو چھوڑیئے قرآن و اہل بیت (ع) کے بتائے ہوئے
روٹ، رستے اور صراط پر چلیئے کیوں کہ یہ اسٹریٹ پاتھ Straight path ،
سیدھا راستہ اور صراط مستقیم ہے۔
.
www.facebook.com/arezuyeaab
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں