ہفتہ، 15 اگست، 2015

عشق و عقل اور ہم

تحریر : محمد زکی حیدری

 ہم خود کو معصوم سمجھتے ہیں! سچ کہہ رہا ہوں اس کی دلیل یہ ہے کہ ہم خود کو کبھی غلط نہیں سمجھتے، نہ ہم اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب یه که ہم ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں،  جو شخص کوئی غلط کام کرتا ہی نہیں تو بھیا اس سے بڑا معصوم بھلا کون ہوسکتا ہے۔ خود کو معصوم ثابت کرنے کیلئے ہم رشوت کو "خرچی"، "چائے کے پیسے"، "مٹھائی" ؛ بھتے کو "پروٹیکشن منی" (حفاطت کی اجرت)، فضول اخراجات کو "تقاضائے وقت یا مجبوری" ؛ عریانی کو "فیشن"؛ دین سے انحرافی کو "روشن فکری" ،اپنے سیاسی جلسوں کیلئے دکانداروں سے زبردستی پیسے لینے کو "چندہ" یا "مالی معاونت" وغیرہ کہتے ہیں تا کہ ان تمام تر قبیح کاموں کو اچھے الفاظ کی چادر پهنا کر ان کی قباحت کو چھپایا جا سکے اور خود کو معصوم ظاہر کیا جا سکے۔

اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے عجیب و غریب اور خلاف عقل و خلاف انسانیت کاموں کو چھپانے کیلئے لفظ "عشق" استعال کرتے ہیں ان سے کہا جائے جناب درگاہ پر جاکر رقص کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا اچھے خاصے متدین انسان ہو آپ، تو جواب آئے گا "بھائی عشق ہے! یہاں عقل کو ایک طرف رکھو۔ "... ارے بھیا ذوالجناح کی زیارت کرو، اسے مس کرو منت مانگو لیکن یا ر سجدہ تو نہ کرو جواب آئے گا "بھائی هر کسی کے عشق کی بات ہے۔۔۔ " .... اجی قمہ مت ماریئے چھوڑیئے یار ھاتھ کا ماتم کریئے مولا قبول فرمائیں گے بولے عشق ہے عقل کو "سائڈ" پر رکھیئے۔...

اچھا! کیا قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ عقل کوایک طرف رکھو؟ کیا آئمہ (ع) کے قول و فعل میں بھی ایسا ملتا ہے؟؟؟ میرے بھائی قرآن نے افلا تدبرون، افلا تعقلون ، تفکرون۔۔۔ جیسے الفاظ بار بار دہرائے ہیں کہ بھائی عقل سے کام لو جہاں عقل نہیں وہاں جنون ہے اور جو عقل سے کنارہ کش ہوکر جنون کی طرف جائے وہ مجنوں ہے مجنوں عربی میں کہتے ہی پاگل کو ہیں, جس کے پاس صرف عشق ہو عقل نہ ہو اور یہ مجنوں کا لفظ اللہ کو اتنا برا لگا کہ سورہ تکویر میں آواز دی "وما صاحبکم بمجنون" تمہارا  نبی (ص) مجنوں نہیں ہے۔  دیکھیئے اصول کا فی میں الگ باب ہے "کتاب عقل و جہل" کا جس سے یہ روایت ہے امام موسیٰ کاظم فرما رہے ہیں: قال الکاظم عليه السلام:
يَا هِشَامُ مَا بَعَثَ اللّهُ أَنْبِيَاءَهُ وَ رُسُلَهُ إِلَى عِبَادِهِ إِلّا لِيَعْقِلُوا عَنِ اللّهِ فَأَحْسَنُهُمُ اسْتِجَابَةً أَحْسَنُهُمْ مَعْرِفَةً وَ أَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللّهِ أَحْسَنُهُمْ عَقْلًا وَ أَکْمَلُهُمْ عَقْلًا أَرْفَعُهُمْ دَرَجَةً فِي الدّنْيَا وَ الْ‏آخِرَةِ يَا هِشَامُ إِنّ لِلّهِ عَلَى النّاسِ حُجّتَيْنِ حُجّةً ظَاهِرَةً وَ حُجّةً بَاطِنَةً فَأَمّا الظّاهِرَةُ فَالرّسُلُ وَ الْأَنْبِيَاءُ وَ الْأَئِمّةُ وَ أَمّا الْبَاطِنَةُ فَالْعُقُولُ ... يَا هِشَامُ کَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ مَا عُبِدَ اللّهُ بِشَيْ‏ءٍ أَفْضَلَ مِنَ الْعَقْلِ
اے ہشام ہمارے خداوند متعال نے عقل کے ذریعے سے تمام لوگوں پراپنی حجت تمام کی اور پیغمبروں کی بیان کے ذریعے مدد کی، اور اپنے ربوبیت پر برہان کی مدد سے ان کی دلالت کی۔۔۔ اور صاحبان عقل کو بہتریں چہرے کے طور پر یاد کیا اور اسے بہترین زیور سے آراستہ کیا اور فرمایا: اللہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس نے حکمت لی اس نے بڑا ہی خیر کمایا اور یہ بات عقل والوں کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔۔ ای ہشام خدا لوگوں پر دو قسم کی حجت رکھتا ہے : حجت ظاہری اور حجت باطنی، حجت ظاہری رسول، پیغمبران، اور آئمہ ہیں اور حجت باطنی عقل انسانی ہے!۔۔۔۔ اے ہشام امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا : خدا کی بندگی عقل سے زیادہ کسی اور بہتر چیز سے نہیں کی جاسکتی۔

اصل میں بات یہ ہے کہ عشق کو ہم سمجھ نہیں پائے عشق کی ہم نے تعریف یہ بنالی کہ جس کا بھی خلاف عقل کام کرنے کا من کرے وہ سینہ تان کر اس کام کو انجام دے اور جب اس سے جواب طلب کیا جائے تو وہ اپنے کیئے ہوئے فعل پر "عشق" کا لیبل چسپاں کر دے۔ ! عشق کوئی قبیح چیز نہیں بلکہ اس کے سوا تو گذارا ہی نہیں مگر لٖفظ عشق کی اصل روح کو سمجھیئے عشق و عقل کا تضاد ہے ہی نہیں، عقل ادراک ہے اور عشق عمل، عقل عقیدہ ہے اور عشق عمل۔۔۔ وہ عشق کسی کام کا نہیں جو عقل سے عاری ہو اور وہ عقل عقلِ حقیقی نہیں جو عشق کے رنگ میں نہ رنگا ہو۔۔۔ عقل روح ہے اور عشق جسم۔۔ یہ قوم بڑی باشعور ہے مجھے اندازہ ہے کہ یہ پوچھے گی اب ان میں سے افضل کون ہے؟ سادی سی مثال دے دوں نماز افضل ہے یا وضو؟ آپ کہیں گے نماز کی فضیلت زیادہ ہے اچھا بھائی بغیر وضو کے نماز قبول ہوگی؟ آپ کہیں گے نہیں وضو تو لازمی ہے. بس اسی طرح نماز کو عشق جانیئے اور عقل کو وضو، جو عقل سے وضو کئے بغیر نماز عشق کیلئے کھڑا ہوا اسکا  نماز عشق بغیر وضو کے سمجھنا! اور جس نے خالی وضو کیا اور نماز ادا نہ کی تو اس نے چھوٹے مقصد پر کفایت کی بڑے مقصد کق پانے سے محروم رہا ۔۔۔ یاد رکھو جہاں وضو (عقل) ٹوٹا وہاں نماز (عشق) باطل ہے!

حسین (ع) عاشقوں کے امام ہیں لیکن مجنوں کے نہیں ! پاگلوں کے نہیں ! دیوانوں کے نہیں ! جی جی بڑے وثوق سے عرض کر رہا ہوں، میں جانتا ہوں کہ لفظ "دیوانہ" سن کر آپ کے اذہاں میں ایک ہی شخص کا عکس آئے گا اور بول پڑیں گے کہ  جناب یہ تو ٹھیک ہے  لیکن گھروندے بناکر جنت بیچنے والے دیوانے بہلول  کا کیا کہیں گے؟ تو بھیا عرض ہے کہ آپ نے اگر بہلول کو (نعوذباللہ)  دیوانہ، مجنوں کہا تو یہ اس عظیم درویش کی شان میں گستاخی ہوگی جس کا مشہور زمانہ لقب ہی دانا ہے "بہول دانا" ... ہاں طرز زندگی ذرا ہٹ کے پیشک تھا مگر عقل کی حدود کو پار نہیں کیا کبھی اس عظیم درویش نے... بہلول درویش ہے لیکن دانا، بہلول عاشق اہل بیت(ع)  ہے لیکن دانائی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتا... پس ثابت ہوا کہ جو عقل پر قدم رکھ کر عشق کی اونچائیوں کو چھوئے اسے ہی بہلول کہتے ہیں ۔ آپ نے عقل وعشق کے امتزاج کا بہتریں نمونہ دیکھنا ہے تو اس درویش عاشق اہل بیت (ع) بہلول کو دیکھ لیجئے۔ مجھے بہلول کا ایک فعل ایسا دکھا دیں جس میں (نعوذباللہ) اس دانا نے عقل کو "سائیڈ" پر رکھا ہو!

اب رہی بات شعر و شاعری کی تو جناب شعر و شاعری میں الفاظ کچھ ہوتے ہیں اور معانی کچھ اور, شاعر جس سطح فکری، جس معرفت کی منزل پر بیٹھ کر بات کر رہا ہوتا ہے وہاں تک عام انسان کی رسائی ممکن نہیں خود دیوان امام خمینی (رح) کے اشعار میں مستعمل الفاظ مے و جام و یار و۔۔۔ کو لغوی لحاظ سے دیکھا جائے تو آپ نعوذ باللہ امام (رہ) کو ہی منحرف سمجھیں گے۔ بات شاعری کی نہیں بات ہے عام عمومی علم کی... خود اقبال کو ہی لے لیجئے کس طرح عقل کے چشمے سے وضو کر کے عشق کی نماز میں کھڑے ہوئے ہیں کہ ایک طرف فرماتے ہیں:
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں.
لیکن یہ کہه کر وہ عورت کے تعاقب میں دیوانہ وار نہیں پھرتے بلکہ ان لوگوں پر افسوس کرتے ہیں کہ جو عورت کے وجود میں غرق ہو گئے فرمایا:
ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار...
اقبال کو علم تھا کہ عشق میں جب عقل کا دامن چھوٹ جائے تو رسوائی ہوتی ہے لھٰذا فرمایا :
عشق اب پیروی عقل خدا داد کرے
آبرو کوچہ جاناں میں نہ برباد کرے..
بھر حال ہمارے لیئے کوئی شاعر حجت نہیں ہے , ہمارے لیئے حجت قرآن و اہل بیت (ع) ہیں جن کے قول و فعل سے عقل و عشق کا ساتھ ثابت ہے ان میں تضاد نہیں نہ ہی ایک کا معراج دوسرے کے متروک ہونے کی دلیل، اس لیئے ہم پر بھی واجب ہے کہ سمجھیں کی معرفت اور عشق ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہیں معرفت کے بغیر عشق کے دعوے خود کو ہی بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔


arezuyeaab.blogspot.com

جمعرات، 13 اگست، 2015


آزادی اور انقلاب کی کہانی !

(مرکزی خیال : قدرت اللہ شہاب کی کتاب سرخ فیتہ سے ماخوذ)

تحریر: محمد زکی حیدری


1947 ع... یہ لاہور ہے, بھارت سےآنے والے مہاجروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اسٹیشن سے سیدھا انہیں لاہور کے ایک بہت بڑے سے کھلے میدان "مہاجر کیمپ" میں منتقل کیا جا رہا ہے، یہاں ان کی "رہائش" کا انتظام ہے۔ میدان بہت بڑا ہونے کے باوجود کھچا کھچ بھرا ہے دور دور تک مہاجر ہی مہاجر نظر آرہے ہیں جن میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں ہر کوئی اپنے بال بچوں سمیت ٹولیوں کی شکل میں بیٹھا ہے۔ میدان کے ایک کونے میں بھٹی ہے جس سے اٹھتا ہوا دھواں اور مہاجرین کیلئے "طعام" کا بندوبست کرنے والے کچھ افراد کام میں مشغول نظر آرہے ہیں... ایک کونے میں چھوٹا سا اسٹور نما کمرہ سا بنایا ہوا ہے جہاں سے مہاجرین میں "کپڑے" تقسیم کیئے جائیں گے.
دوپہر ہوئی تو کھانا لینے کیلئے بھٹی پر مہاجروں کا جم غفیر ٹوٹ پڑا اور جب سہ پہر کا وقت قریب آنے لگا تو جم غفیر اب اس اسٹور کی جانب دؤڑ پڑتا ہے جہاں سے کپڑوں کا آسرا تھا، کیونکہ جاڑے کی رات پڑنے والی ہے اور ان کے پاس نہ لحاف ہے نہ کمبل, بس جو دو کپڑے تن پر ہیں سو ہی ہیں۔ "ارے او تجھے سمجھ نہیں آتی کتنی بار کہا ہےقطار میں کھڑی ہو جا جاکر, سنائی نہیں دیتا سالی بہری کہیں کی! " مسلمہ اپنی بچی بغل میں لئے، رش کو توڑتی ہوئی جوں ہی اسٹور بابو کے قریب پہنچی تو اسٹور بابو نے جھڑک دیا۔ مسلمہ اپنی پانچ سالہ بیٹی آزادی کے ساتھ مہاجر خانے میں ہے اس نے آزادی کیلئے بڑی دعائیں مانگیں تھیں اور اسے آزادی اتنی پسند تھی کہ بیٹی کا نام ہی آزادی رکھ دیا اور آج وہ اور اس کی بیٹی آزاد ہو کر اپنے آزاد ملک پاکستان میں ہیں۔ جوں جوں شام قریب آتی جا رہی ہے اسٹور پر لوگوں کا مجمع بڑھتا جا رہا ہے۔ "بس بس! جس کو جو ملا، اب جاؤ اپنی اپنی جگہ پر، حکومت کا اعلان ہے کہ رات 8 بجے کے بعد اسٹور بند ہوجائے گا جس کو کمبل لینا ہے صبح یہاں قطار میں آکر کھڑا ہو جائے، فی الحال جاؤ" مسلمہ اور آزادی کو کئی مہاجروں کی طرح پاکستان میں پہلی رات بغیر کمبل کے گذارنی پڑے گی۔
جاڑے کی رات نے جب لاہور پر اپنی زلفیں بکھیر دیں تو میدان پر گھپ اندھیرا چھا گیا , بتیوں کی مدھم روشنی ابر آلود موسم کے آگے ہار مان چکی تھی, سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے...آزادی اپنی ماں مسلمہ کی گود میں ہے ماں مسلسل اپنے جسم کی گرمی اپنی بیٹی میں منتقل کرنے کوکوشش کر رہی ہے، جاڑے کی سرد ہوا کے جھونکے اور اس پر ابر آلود موسم آسمان ہر لحاظ سے ان بے سرو سامان مہاجروں کی دشمنی پر کمر بستہ اور زمین والا اسٹور بابو اپنے اسٹور میں گرم کمبلوں اور لحافوں کے ڈھیر کے بیچ سو گیا ۔ آزادی کی ماں اور آزاد ملک کے موسم کے درمیان جنگ جاری تھی سردی ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، جب ماں نے دیکھا کہ اس کی آزادی ٹھنڈ سے ٹھٹھرا رہی ہے اور اس کا جسم اسے گرمی منتقل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے تو ایک مرتبہ اس نے ارد گرد کے ماحول پر نظر گھمائی, گھپ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اس نے اپنے کپڑے اتارے اور آزادی پر ڈال دیئے کہ آزادی کی حفاظت ہو سکے... اتنے میں آسمان سے ایک بجلی چمکی اور آزادی کی اس محافظہ کا عریاں بدن عرش اور فرش مکینوں کو للکار کر پکار رہا تھا کہ دیکھو ایسے ہوتی ہے آزادی کی حفاطت...
اتنے میں آسمان سے ایک دھماکیدار آواز سنائی دیتی ہے...ٹپ ٹپ بارش کی بودیں برسنے لگتی ہیں, مہاجر خانے میں موجود مہاجروں کی سرگوشیاں شروع ہوئیں لیکن اتنے میں بارش کے بوندوں کی آواز ان کی سس پس کی آوازوں پر غالب آگئی... آزادی کی ماں کے برہنہ جسم پر گولیوں کے چھرے کی مانند برستی یہ بارش کی ٹھنڈی بوندیں... رات ڈھلتی گئی اور لاہور کے اس مہاجر کیمپ پر موت کی سی خاموشی چھا گئی...
صبح ہوئی انتظامیہ کے لوگ آئے، آزادی کی ماں اور اس کی گود میں آزادی کسی سنگ مرمر کے تراشے ہوئے مجمسے کی مانند اس طرح خوبصورت انداز میں پڑے تھے کہ دنیا کا کوئی بھی مجسمہ ساز دیکھ کر رشک کرتا ... اسٹور بابو پر یہ منظر نا گوار گذرا اس نے اپنے بغل میں رکھے ہوئے کمبلوں کے ڈھیر میں سے ایک کمبل لیا اور اس مجسمے پر ڈال دیا۔
حکومت نے اعلان کیا کہ جو جو اس حادثے میں جان بحق ہوئے انہیں معاوضہ دیا جائے گا۔
2015 ع یہ کراچی ہے! پاکستان کی آزادی کو 68 سال کا عرصہ گذر چکا ہے، رمضان المبارک مبارک کا مہینہ ہے، موسم گرما عروج پر ہے، پروین بھی ان کے خاندان میں سے ہے جو ہجرت کر کے پاکستان آئے پروین آج صاحبہء اولاد ہے اس کے بیٹے کا نام انقلاب ہے۔ انقلاب کی عمر ابھی بہت چھوٹی ہے مگر بضد ہے کہ روزہ رکھے گا ,ماں کے لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ اپنی ضد پر اڑا رہا، انقلاب جب اپنی ضد پر آجاتا تو کسی کی نہیں سنتا تھا، ظہر کا وقت ہو چکا ہے، لوہے کے کسی پرانے شٹر سے بنی ہوئی چھت والا پروین کا یہ گھر گرمی کی تپش سے جھنم بنتا جا رہا ہے اس پر غضب یہ کہ بجلی آنے کے دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہیں، ایک پنکھا ہی تھا جو اس تپتے ہوئے کمرے کے ماحول کو بیٹھنے لائق بناتا تھا مگر بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ نے گرمی کی شدت کو موتمار حد تک بڑھا دیا تھا۔ انقلاب کی ماں بھی بے حال و نڈھال تھی۔ انقلاب کے ہونٹ خشک ہوتے چلے گئے، ماں نے لاکھ جتن کیئے کہ وہ روزہ توڑ دے مگربچے کو مولانا صاحب کی بات یاد تھی کہ تم پر اب روزے فرض ہیں، انقلاب ٹوٹی چارپائی پر مسلسل کروٹیں بدل رہا ہے، وہ اس طرح تڑپ رہا تھا جیسے مچھلی پانی کے بغیر! اچانک اس نے آنکھ بند کر دی جیسے سو گیا ہو ,ماں نے سوچا بے ہوش ہو گیا ہے زبردستی منہ کھول کر پانی کے چند قطرے اس کے منہ میں ڈالے، مگر لاحاصل! پروین کے چیخنے چلانے کی آواز سن کر پڑوس کی عورتیں مرد اکٹھے ہوئے، بھاگ دوڑ شروع ہوئی، موٹر سائیکل پر بٹھا کر تپتی دھوپ میں ہسپتال لے گئے مگرانقلاب نہ آیا اس کی لاش آئی...
اس دن کراچی میں لوڈشیڈنگ اور "ہیٹ اسٹروک" (گرمی) کے باعث کئی اموات ہوئیں۔ حکومت نے اعلان کیا کہ جان بحق ہونے والوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔
1947 ع میں "آزادی" تھی اور 2015ع میں "انقلاب" ہے، دونوں کا اختتام کس طرح ہوا اسی اختتام کے اندر ہماری ترقی کی حقیقت پنہاں ہیں مگر کوئی دیکھنے والا ہو تو...

.
www.facebook.com/arezuyeaab
arezuyeaab.blogspot.com

منگل، 11 اگست، 2015

سادات اور بھرتپور ریاست میں بارش! تحریر: محمد زکی حیدری

سادات اور بھرتپور ریاست میں بارش!

تحریر: محمد زکی حیدری

1937 ع... یہ بھرتپور ریاست هے جس میں میرے مرشد جعفری سادات کا ایک گاؤں ہے پہر سر۔۔۔ ریاست میں سخت قحط سالی ہے۔۔ بارش کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے، ریاست کے ہندو راجه پریشان ہیں۔۔۔ مندروں میں وشیش پراتھنا (خاص دعا) کرنے کی حکومتی سفارشات جاری ہوئیں لیکن لاحاصل...آخر راجہ نے بڑے بڑے پنڈتوں کی بیٹھک بلائی کہ سب مل کر پراتھنا کریں۔۔۔ بڑے بڑے پائے کے پنڈٹ اور سادھو ریاست کے خرچ پر آنے لگے ایک مہا پراتھنا (اکھنڈ کیرتن) کا انتظام ہوا، جادوگر، سوامی، سادھو، گرو، چیلے، پنڈت سب آئے تین شب و روز تک یہ رسومات جاری رہیں مگر ان کے بارش کے دیوتا اندر صاحب راضی نہ ہوئے ۔۔۔ اور ان تمام پنڈتوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا کہ راجہ جی ہم کچھ نہیں کر سکتے...
اس وقت کے انگریز وزیر اعظم یعنی بھرتپور انتظامیہ کے صدر (راجہ کے مہا منتری) مسٹر ہینکوک صاحب نے مسئلہ پر غور کیا اور ان کے ذھن میں ایک بات آئی کہ ریاست کے تمام مذاہب سے متعلقین نے اپنے گھوڑے دؤڑا لیئے سوائے بھرتپور کے مسلمان سادات کے... لہٰذا انہوں نے سوچا چلیئے انہیں بھی بلا لیتے ہیں کہ پتہ چلے یہ کتنے پانی میں ہیں...جب سادات تک یہ دعوت پہنچی تو باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ جلوس و علم حضرت عباس (ع) برآمد کیا جائے..
29 اگست 1937 کو جلوس برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا یاد رہے کہ اس دن کے بارے میں ہندو جوتشیوں نے پیشگوئی کر رکھی تھی کہ اس دن بارش کے کوئی امکانات نہیں اور محکمہ موسمیات نے بھی بارش کے کسی امکان کو رد کیا تھا۔
آج 29 اگست کی صبح ہے سارے سادات بچے، جوان، بوڑھے محلہ گھیرسی صاحب میں جوق در جوق آرهے هیں، جیسے جیسے سادات کے آمد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا هے سورج کی کرنوں کی تپش میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارها هے , مگر سادات نے تحیہ کر رکھا تھا کہ کسی بھی صورت علم برآمد کرنا ہے...
دن کے دو بجے ہیں، چلچلاتی دھوپ، جسم کو جھلسا کر رکھ دینے والی کڑی دھوپ، اتنی گرم لو کہ جیسے جھنم کی کوئی کھڑکی بھرتپور کی طرف کھل گئی ہو، سورج کی کرنیں گھر سے باہر آنے والی ہر مخلوق کو بھون کر رکھ دینے پر تلی ہوئیں... اور محلہ گھیرسی صاحب سے سادات عزاداروں کے ایک جم غفیر کے همراه بڑی آب و تاب سے اپنے مولا (ع) کا علم بر آمد کرتے هیں، پورا محلہ یا حسین کی فلک شگاف صداؤں سے گونج اٹھتا هے، دور دور تک زمین پر سادات ہی سادات اور بادلوں سے صاف آسمان مین لہراتا ہوا غازی کا علم...
یہ چلے سادات وعزادار... منزل ہے کربلا جو کہ شہر سے تین میل دور ہے... کڑکتی دھوپ کہ پرندہ بھی گھونسلے سے باہر آنے سے قبل ہزار بار سوچے، جھلسا دینے والی لو چل رہی ہے، چلا کاروان سادات کا ، سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے لبوں پہ نوحے کے بول " ابر باراں بھیج یا رب مصطفی کے واسطے ، پیاسوں کی فریاد سن مرتضی کے واسطے” سجائے ہوئے عزاداروں کا جم غفیر اپنی منزل کربلا کی جانب روان دوان... جوں ہی جلوس شہر سے باہر نکلا تو گرمی کی شدت اور باد مخالف کی تپش میں اضافہ ہوا لیکن عزادار بے نیاز، سادات بے نیاز ہوکر " ابر باراں بھیج یا رب مصطفی کے واسطے ، پیاسوں کی فریاد سن مرتضی کے واسطے” کہتے ہوئے سینوں پر ہاتھ مارتے ہوئے جا رہے ہیں.. آخر شام 4 بجے یہ قافلہ کربلا پہنچا لیکن بادلوں کا کوئی نام و نشان تک نہیں ، ماتم جاری رہا کربلا پہنچنے کے بعد آدھا گھنٹا جم کر ماتم ہوا...

اب ہوا کی تیزی میں کمی آ چکی تھی، ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہوا رک گئی ہے، ماتم اسی جوش سے جاری رہا یاحسین، یا حسین کی صدائیں فلک مکینوں تک پہنچ رہی تھیں کیونکہ سادات نے تحیہ کر رکھا تھا جب تک بارش نہ ہوگی ماتم نہ رکے گا... بڑی دیر ماتم کے بعد اچانک بھرتپور واسیوں نے دیکھا کہ بھرت پور کے مشرق سے بھورے بادل نمودار ہونے لگے جو کہ آہستہ آھستہ پوری ریاست پر چھاگئے اور بوندہ باندی کے بعد بڑے زور کی بارش ہونے لگی۔۔۔ سادات کے آباو اجداد نے اللہ کے یہاں سادت کی سفارش کردی تھی ۔۔۔
بارش کافی دیر کے بعد رکی۔ شرکاۓ جلوس اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے اور جب صدر دروازے سے شہر میں داخل ہوۓ تو یہ دیکھا کہ مین شاہراہ پر پانی بہہ رہا تھا۔ شاہراہ کے دونوں جانب ہندوؤں کی دکانیں تھیں اور جلوس کے لوگوں کو آتا دیکھ کر یہ تمام لوگ تعظیماً کھڑے ہوگئے۔ قصہ گو (فیض بہرتپوری) نے یہ الفاظ اپنے سے سنے تھے ایک بنیا دوسرے سے بلند آواز میں کہہ رہا تھا – دیکھو یہ ہیں جو پیاسے سے پانی مانگنے گئے تھے پیاسے نے بھی ایسا پلون ہار پانی دیا کہ مجا (مزا) آگیا۔ اس پورے سال میں یہی ایک بارش ہوئی تھی جسکی وجہ سے قحط ٹل گیا۔ راجہ بہرتپور اعلی حکام اور عوام سب کے سب اس واقعہ سے متاثر ہوۓ اور شیعوں کا برابر احسان مانتے رہے۔
دوسرے روز یعنی 30 اگست 1937 کو کربلا میں مجلس شکرانہ ہوئ اور بہت جم کے ہوئ۔ کافی مجمع تھا۔ پوری ریاست پر شیعوں کی دھاک بیٹھ گئ تھی۔

با تشکر خاص:

سید سرفراز حسین زیدی الواسطی فیض بہرتپوری


مکان نمبر 5 قطار نمبر 11 بلاک سی


بلاک 5 ناظم آباد


کراچی


.


جمعہ، 7 اگست، 2015

دو بادشاہ تحریر: محمد زکی حیدری

دو بادشاہ

تحریر: محمد زکی حیدری

حضور ایسا ہے کہ دور قدیم کی ایک ریاست میں دو بادشاہ تھے ایک کا نام ردیح تھاجو کہ انصاف پسند تھا خدا سے ڈرنے والا، بلکہ اس کا پورا خاندان ہی اچھا تھا اور اس کے مقابلے میں جو دوسرا بادشاہ تھا جس کا نام ہیواعم تھا وہ بدنام زمانہ تھا ظالم تھا، مفادپرستی  و منافقت اس کے آباو اجداد کی میراث کے طور پر اسے ملی تھی۔ ردیح صاحب کی رعایا بڑی جوشیلی تھی، یہ جب ردیح بادشاہ کی دربار میں آتی تو کہتی تھی بادشاہ سلامت حقیقی بادشاہ آپ ہیں ہیواعم ظالم ہے اپنے منہ بادشاہت کا دعویٰ کرتا هے, اس میں اہلیت ہی نہیں، یہ ظالم ، یہ غاصب یہ۔۔۔ آپ ظل الٰہی، آپ خدا کامظہر، آپ یہ آپ وہ۔۔۔ ان کی محبت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب ردیح بادشاہ کا جنم دن ہوتا تو پورے شہر کو مشعلوں سے روشن کرتے اور بڑے بڑے خطباء، شعراء، قصیدہ خواں بلا کر ردیح بادشاہ کی شان میں محافل منعقد کرتے اس کے برعکس یہ ہیواعم بادشاہ کی دشمنی میں اتنے آگے جاچکے تھے کہ انہی محافل میں سرعام ہیواعم اور اس کے چاہنے والوں  پر لعنت کرتے تھے۔ لیکن جب بھی ردیح کی دربار سے باہر نکلتے تو ردیح کی عملی مخالفت کرتے تھے اور ہیواعم سے عملی موافقت!

 ردیح نے ان سے کہہ رکھا تھا زنا مت کرنا، سود مت کھانا، رشوت مت لینا ، جھوٹ مت بولنا حتیٰ کہ ہیواعم کے لوگ تم سے بدتمیزی کریں تو بھی انہیں حسن ظن دکھانا لیکن یہ لوگ باہر جاکر ہر وہ کام کرتے جس سے ردیح نے انہیں منع کیا تھا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ  اس وقت بھی ان کی زبان پر ردیح بادشاہ کی تعریف و توصیف جاری رہتی!!! حیرت تو تب ہوتی  کہ جب ردیح کی دربار میں ردیح سے وفاداری اور عشق کا دم بھر کے جوں ہی باہر نکلتے تو سیدھے ہیواعم کے چاہنے والوں کے ساتھ مل کر ہیواعم کے پسندیدہ کام یعنی شباب و غنا کی محافل سجایا کرتے لیکن اس وقت بھی ان کی "زبان" پر تعریف و توصیف و فصائلِ ردیح ہی جاری رہتے۔ ردیح کے کچھ سچے ساتھی ان سے کہتے کہ بھائی یہ کیا بات ہوئی تم تو زبان سے ردیح کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن عمل میں تو ہیواعم باد شاہ کی بتائی ہوئی نحس باتون پر چلتے ہو، اور انہی کے ساتھیوں کے ساتھ نظر آتے ہو! تو وہ کہتے تم لوگ منافق ہو تمہیں ہمارے بادشاہ ردیح کی تعریف گراں گذرتی ہے ہم تو ردیح کے دشمنوں پر لعنت بھیجتے ہیں صبح شام،  تم وہ ہو جو چاہتے ہو کوئی ردیح بادشاہ کی تعریف نہ کرے۔۔۔ اور یہ کہہ کر یہ لوگ ردیح بادشاہ کے سچے ساتھیوں کو "رصقم" کے لقب دیتے اور ردیح کے سچے ساتھی انہیں "یلاغ" کہہ کرپکارتے۔۔۔

میرے عزیز شیعہ بھائیو! آپ کو ردیح کے ان زبانی دعویدار درباریوں پر بہت غصہ آیا ہوگا بیشک آنا چاہیئے یہ فطری عمل ہے! لیکن آپ سے عرض ہے کہ ان دونوں بادشاہوں کے ناموں اور ردیح بادشاہ کے ماننے والے دو گروہوں کو ایک دوسرے کو دیئے ہوئے القاب کو الٹا پڑھیئے تو آپ کو قصہ سمجھ آئے گا کہ یہ دور جہالت کے کسی بادشاہ کی رعایا کی کہانی نہیں بلکہ 21 ویں صدی کے پاکستانی شیعوں کی ہی کہانی ہے !!! کوئی ردیح بادشاہ نہیں یہ "حیدر" ہے اور نہ کوئی " ہیواعم" بادشاہ ہے بلکہ یہ معاویہ ہے اسی طرح جو دو گروہ ہیں انہیں الٹا پڑھیئے تو "مقصر" اور "غالی" ہی بنتے ہیں!

میں نے ایسا کیوں کیا؟ تاکہ آپ کو یقین دلاؤں کہ ہمارے پاکستان کے شیعوں کی کہانی 21 ویں صدی نہیں بلکہ دور جہالت کے قدیم بادشاہی دور میں بھی لے کر "فٹ" کردی جائے تو بھی آپ کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ خدارا یا تو قول و فعل میں حیدر (ع) کے ہوجاؤ یا قول و فعل میں معاویہ کے۔ صرف امام بارگاہ میں حیدر حیدر کرنے سے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔

ہم علی (ع) کوامام بارگاہ میں  چھوڑ کر آجاتے ہیں، وہاں علی (ع)  کے محب ہوتے ہیں لیکن جیسے  باہر نکلے آفیس گئے رشوت لیتے وقت نوٹوں کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں ، بیٹے بیٹی کا رشتہ کرتے وقت داماد و بہو میں بنگلے، گاڈی، بنک بیلنس دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ٹی وی دیکھتے وقت ہم ہندوستانی چینلز میں موجود فیشن کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، لڑکے لڑکیاں اپنا ہمسر پسند کرتے وقت خوبصورتی و مال و زر و۔۔۔ کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ووٹ ڈالتے وقت کسی خبیث بھائی، کسی منحوس وڈیرے، کسی مکروہ  پیر، کسی جاہل چودھری، کسی ظالم سردار کا انتخابی نشان دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے۔۔۔

 بس کردو یار!!! خدا کو مانو!!! اب تو سدھر جاؤ یہ اکسویں صدی ہے دوستو! دنیا کے شیعہ کہاں جا پہنچے اور آپ ابھی تک علی (ع) و حسین (ع) کو "رسمی"  امام بناکر بیٹھے ہیں، مخصوص دنوں تک محدود علی (ع)، مخصوص عمارتوں تک محدود علی (ع) ، مختلف جلوسی سڑکوں تک محدود حسین (ع)۔۔۔۔ هم نے لامحدود شخصیات کو محدود بنا دیا اور خوش هوتے ہیں، فخر کرتے ہیں!!!  بس مسجدوں و امام بارگاہوں میں حیدر حیدر ہے مگر زندگیوں میں نہیں۔۔۔  علی (ع) کو صرف امام بارگاہ میں مت لاؤ علی (ع) کو زندگی میں لاؤ۔ جنت اس کی جس کی "زندگی میں" علی (ع)ہوگا۔
.
www.facebook.com/arezuyeaab
.
arezuyeaab.blogspot.com

بدھ، 5 اگست، 2015

شہید عارف کی قبر پر! تحریر:محمد زکی حیدری



شہید عارف کی قبر پر!

تحریر:محمد زکی حیدری

اے میرے "شہید"! اے میرے "عارف"! اے میرے "حسینی"!  میں اس ناتواں زبان سے کیا آپکی تعریف کروں میرے استعجاب کیلئے آپ کے نام میں موجود الفاظ ہی کافی ہیں! میرا سلام ہے اس بردبار باپ پر جس نے آپ کا یہ نام رکھا اور اس باعفت سیدہ ماں پر جس نے آپ کی تربیت ایسی کی کہ آپ نے اپنے نام میں موجود ہر لفظ کی عملی تفسیر کر کے دکھائی. آپ نے اس قوم کے ظاہری اور باطنی حالات و مسائل کی  کامل معرفت حاصل کرکے اور ان کا حل تجویز کرکے ثابت کیا کہ آپ ایک "عارف" رہنما تھے، اس کے بعد حسین (ع) کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے باطل سے برسر پیکار ہوکر ثابت کیا کہ آپ "حسینی" سید ہیں اور اس کے بعد اپنی سوئی ہوئی قوم کو اپنے پاک خون کے چھینٹوں سے بیدار کرنے کی کوشش میں "شہید" ہوئے، آپ کے نام سے جڑے ہر لفظ کی عملی تفسیر کے نشانات بدین (سندہ) سے لے کر گلگت تک نظر آتے ہیں.

اے میرے شہید! میں آپ کو بہت یاد کرتا ہوں لیکن مجھ سے بھی زیادہ آج پاکستانی کی شیعہ سنی عوام آپ کو یاد کرتی ہے میرے شھید قائد! مجھے علم نہیں آپ کا دور کیسا تھا، آپ کے دور کے حالات کیسے تھے، میں نے اس وقت ابھی آنکھ نہیں کھولی تھی، مگر بابا اور چاچا آپ کے ساتھ ہوتے تھےان سے سنا تو معلوم ہوا آپ قوم کو بلاتے تھے تو لوگوں کا ٹھانٹھیں مارتا ہوا سمندر آپ کی جانب آنے لگتا تھا، مینار پاکستان پر چار لاکھ افراد جمع ہونے کا سن کر میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کاش میں بھی اس دور میں ہوتا!

میرے شہید! میں آپ کی قبر پر آکرآپ سے بہت باتیں کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے جانے کے بعد ہمارے ساتھ کیا کیا ہوا اور دور دور تک کوئی ہمارا پرسان حال نہ
یں، اگر ہیں بھی تو کلمة الحق یراد به الباطل (بات سچی مگر نیت بری) کی مصداق۔۔۔ میرے شہید آپ تو اتحاد بین المسلمین کے سچے داعی تھے مگر آپ کے جانے کے بعد آپ کی مسند پر ایک سید کو بٹھایا گیا اور ان کی قائدانه  غیر فعالیت اور کچھ مشکوک فعالیتوں کی وجه سے جلد ہی ان پر گھنونے الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی اور وہ قوم کے مسائل کا حل سوچنے کی بجائے الزام لگانے والے مخالف گروپ کو صفائیاں، ثبوت دینے لگ گئے ہم چپ رہے، ہم دیکھتے رہے۔

میرے شہید! کل آپ کے ساتھیوں کے منعقد کیئے ہوئے ہر جلسے سے  اتحاد بین المسلمین کی خوشبو آتی تھی مگر آپ کے جانے کے بعد ان کے ہر جلسے سے انتشار بین المومنین کی بدبوء آنے لگی۔ آپ کے ہوتے ہوئے جو بھی لٹریچر چھپتا اس سے اہل سنت برادران  کو قریب لانے اور ان میں موجود تفرقہ بازوں کی سرزنش و مذمت کی پاکائی نظر آتی تھی لیکن آپ کے جانے کے بعد ہم نے ایسا لٹریچر دیکھا جس میں ایک شیعہ کی دوسرے شیعہ پر الزاموں کی غلاظت نظر آئی. ہم دیکھتے رہے!

میرے شہید!  پھر یہ ہوا کہ دشمن کی جانب سے بوئے اس تفرقے کا بیج غنچے میں تبدیل ہوا اور شیعہ دشمن عناصر جنہوں نے ہر بار آپ کی با بصیرت قیادت سے منہ کی کھائی تھی نے اس غلیظ غنچے کی خوب آبیاری کی اور آپ کے جانشین اس چال کو سمجھ نہ سکے آخر بات یہاں تک آگئی کے تنظیمیں الگ ہونے لگی، وہ دشمن جو آپ کے ہوتے ہوئے شیعہ سنی کو لڑانا بھی ناممکن سجھتا تھا نے بڑی آسانی سے شیعہ کو شیعہ سے دست و گریباں کر دیا اور خوش ہوا۔ میرے شہید ہم دیکھتے رہے!

 میرے قائد! پھر یہ ہوا کہ دشمن نے ہم کو منتشر پایا تو ہماری طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنا شروع کی اور ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں اتنے مگن تھے کہ ہمیں  خیال نہ رہا کہ دشمن ہماری عبادتگاہوں تک آ پہنچا آپ کے فرزندوں نے اپنے خون کے نذرانے دینا شروع کیئے مگر بجائے اس کے کہ ہمارے قائدین دشمن کی اس گھنؤنی حرکت کو اتحاد کے ذریعے  جواب دیتے ہم نے اتحاد پر دھیان نہیں دیا!

میرے قائد! جسیے جیسے یہ غنچہ طاقت پکڑتا گیا ایسے ایسے ہم کمزور سے کمزور تر ہوتے  چلے گئے نوبت یہاں تک آئی که غنچه درخت بنا اور اس کے نجس پھل  کے طفیل ہماری عبادتگاہوں کو بموں سے اڑایا جانے لگا، ہمارے لوگوں کو چن چن کر مارا جانے لگا، ہماری عوام کو بسوں سے اتار اتار کر مارا جانے لگا۔ میرے قائد آپ کے عوام کی مائیں ہر روز اپنے جوان بیٹوں کے لاشوں پر بین کرتیں، اس طرح چلا چلا کر پکارتی هیں کہ اگر دو پتھر کی مورتیاں بھی ایک دوسرے سے جدا ہوتیں تو وہ بھی ان ماؤں کی آہ و بکا کے طفیل مجبور ہوکر ایک دوسرے کو گلے لگا کر رونے لگتیں مگر پتھر دل انسان شاید اس پتھر سے بھی زیادہ سخت تھا کہ اس پر ان حوادث کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس نے اسی طرح دو دھڑے رہنے دیئے! آپ کے جانشین اتحاد بین المومنین کی بجائے اتحاد بین المسلمین کے دعوے کرتے رهے اور ان کے مخالفین تنقید!

میرے شہید! پھر یہ ہوا کہ کچھ نوجوان آپ کی مسند پر بیٹھے ہوئے قائد سے خفا ہوئے اور الگ ہو گئے اور باضابطہ طور پر الگ پلیٹ فارم بنا لیا اور بڑے بڑے جلسے کرنے لگے اس سے یہ ہوا کہ آپ کے جانشین نے بھی جوابی جلسے کرنا شروع کردیئے ہم دیکھتے رہے! میرے قائد آپ کے جلسوں میں عوام دل اور روح ساتھ لیکر آتی تھی مگر ان جلسوں میں  ہم جاتے ضرور ہیں مگر صرف جسم لے کر! آخر دو مخالف بھائیوں میں سے کسی ایک کی دعوت پر جاکر اتحاد کی باتیں سننا باضمیرانسان پر گراں گذرتا ہے! الگ الگ بیٹھ کر اتحاد کی باتیں! کیا کیجیئے دل نہیں مانتا کیوںکہ اس طرف بھی ہمارے بھائی اور اس طرف بھی ہمارے بھائی!  اچھا پھر یہ لوگ الگ الگ الیکشن لڑے، چار ووٹ دینے والوں کو دو امیدوار سامنے تھے جو کہ دونوں شیعہ ! ہم بھوکھلا گئے جائیں تو کہاں جائیں ہم نے ووٹ ہی نہ ڈالا!

میرے قائد ! ان لوگوں کو اتحاد کی طاقت کا علم بھی ہے اور ایک بار عملی طور پر انہوں نے اس کا مظاہرا بھی کیا اور بلوچستان حکومت کو چنے چبوا دیئے مگر اس کامیابی سے بھی انہوں نے سبق نہ سیکھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کی عوام عمامے والوں سے یه کهه کر متنفر هوگئی که "یار یه تو بس ایک دوسرے سے هی لڑتے رهتے هیں" عمامے کے ساتھ اپنوں نے ظلم کیا میرے قائد جس عمامے کو خمینی (رح) نے پوری دنیا اور آپ نے پورے پاکستان کے ظالموں کیلئے موت کی نشانی کے طور پر مشھور کیا. اس عمامے سے آپ کی قوم اب نا امید ہونے لگی ہے۔
میرے قائد! میرے شہید! میرے عارف! میرے حسینی! بیانِ حالِ دل طویل ہے کیا کیا بتا کر کیا بتاؤں۔۔۔ بس اب اتنا عرض ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ میرے مولا حسین  (ع) سے آپ کی ملاقات ضرور ہوتی ہوگی اب کے ان سے ملیئے تو کہیئے گا  اس طالبعلم کو سچ بولنے کی ایسی سزا ملے کہ اس کے جسم کا ایک ذرا مشرق تو دوسرا مغرب سے ملے کیونکہ اگر میں عام موت مارا گیا تو آپ کو کیا منہ دکھاؤں گا میرے شہید قائد!
یاعلی!
www.facebook.com/arezuyeaab
arezuyeaab.blogspot.com

ہفتہ، 1 اگست، 2015

افواہ

ایک عوت نے اپنے ایک پڑوسی شخص کے بارے میں بہت ہی نازیبا بات گڑھی اور اسے پورے محلے میں پھیلا دیا۔ تھوڑے عرصے میں ہی یہ بات پورے شہر میں پھیل گئی، سب کو پتہ چل گیا اور اس افواہ کی وجہ سے اس شخص کو بہت صدمہ پہنچا اور اسے مشکلات کا سامنہ کرنا پڑا۔ ایک مدت کے بعد اس عورت نے اس شخص کا حال دیکھا تو اسے پشیمانی ہوئی لھٰذا وہ ایک بزرگ کے پاس گئی اور اس سے پوچھا کہ کس طرح اس جرم کا ازالہ کرے۔
بزرگ نے اسے کہا: بازار جاؤ اور ایک مرغہ خریدو، اسے مار کر اس کے پروں کو اپنے محلے میں ایک ایک کرکے پھیلا دو اور کل میرے پاس آنا۔" عورت کو تعجب ہوا مگر اس نے بزرگ کی بات مانتے ہوئے اس کام کو انجام دیا۔
اگلے دن جب وہ عورت اس بزرگ کے پاس آئی تو بزرگ نے اسے کہا :"اب جاؤ جو جو پر تم نے محلے میں پھیلائے تھے انہیں لے آؤ!" عورت گئی مگر تین چار پروں سے زیادہ لے کر نہ آ سکی۔   بزرگ نے اس عورت سے کہا: جس طرح پروں کا پھیلانا آسان تھا اور پھر سے انہیں جمع کرنا مشکل، اسی طرح افواہ کا پھیلانا بھی آسان ہوتا ہے مگر اسے ختم کرنا بہت مشکل۔"


مترجم: محمد زکی حیدری و آب
arezuyeaab.blogspot.com

ایک قدم

ایک قدم

ابوسعید ابوالخیر کو ایک مسجد میں تقریر کرنی تھی گرد و نواح کے گاؤں اور شہروں سے لوگ آکر ان کی تقریر سننے کیلئے جمع ہوئے، حتیٰ کہ بیٹھنے کی جگہ کم پڑ گئی  اور کچھ لوگوں کو مسجد کے باہر بیٹھنا پڑا لھٰذا ابوسعید ابوالخیر کے شاگرد نے لوگوں سے کہا "آپ کو خدا کا واسطہ جس جگہ آپ تشریف فرما ہیں اس جگہ سےایک قدم آگے آئیے" سب لوگ ایک قدم آگے آکر بیٹھ گئے۔
ابوسعید ابوالخیر کے تقریر کا وقت آیا توانہوں نے تقریر کرنے سے انکار کردیا! وہ لوگ جو ایک گھنٹے سے منتظر تھے اور بیٹھ بیٹھ کر خائف ہوگئے تھے، نے احتجاج کرنا شروع کردیا ابوسعید ابوالخیر نے تھوڑی  دیر خاموش رہنے کے بعد کہا "میں جو کچھ آپ لوگوں سے کہنا چاہتا تھا وہ میرے شاگرد نے کہہ دیا ، آپ ایک قدم بڑھائیں اللہ دس قدم آپ کی طرف بڑھائے گا۔"

منبع: www.pandamoz.com
مترجم: محمد زکی حیدری و آب
arezuyeaab.blogspot.com