سادات
اور بھرتپور ریاست میں بارش!
تحریر:
محمد زکی حیدری
1937
ع...
یہ بھرتپور ریاست هے جس میں میرے مرشد جعفری سادات کا ایک گاؤں ہے پہر سر۔۔۔ ریاست
میں سخت قحط سالی ہے۔۔ بارش کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے، ریاست کے ہندو
راجه پریشان ہیں۔۔۔ مندروں میں وشیش پراتھنا (خاص دعا) کرنے کی حکومتی سفارشات
جاری ہوئیں لیکن لاحاصل...آخر راجہ نے بڑے بڑے پنڈتوں کی بیٹھک بلائی کہ سب مل کر
پراتھنا کریں۔۔۔ بڑے بڑے پائے کے پنڈٹ اور سادھو ریاست کے خرچ پر آنے لگے ایک مہا
پراتھنا (اکھنڈ کیرتن) کا انتظام ہوا، جادوگر، سوامی، سادھو، گرو، چیلے، پنڈت سب
آئے تین شب و روز تک یہ رسومات جاری رہیں مگر ان کے بارش کے دیوتا اندر صاحب راضی
نہ ہوئے ۔۔۔ اور ان تمام پنڈتوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا کہ راجہ جی ہم کچھ
نہیں کر سکتے...
اس
وقت کے انگریز وزیر اعظم یعنی بھرتپور انتظامیہ کے صدر (راجہ کے مہا منتری) مسٹر
ہینکوک صاحب نے مسئلہ پر غور کیا اور ان کے ذھن میں ایک بات آئی کہ ریاست کے تمام
مذاہب سے متعلقین نے اپنے گھوڑے دؤڑا لیئے سوائے بھرتپور کے مسلمان سادات کے...
لہٰذا انہوں نے سوچا چلیئے انہیں بھی بلا لیتے ہیں کہ پتہ چلے یہ کتنے پانی میں
ہیں...جب سادات تک یہ دعوت
پہنچی تو باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ جلوس و علم حضرت عباس (ع) برآمد کیا جائے..
29
اگست
1937 کو جلوس برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا یاد رہے کہ اس دن کے بارے میں ہندو
جوتشیوں نے پیشگوئی کر رکھی تھی کہ اس دن بارش کے کوئی امکانات نہیں اور محکمہ
موسمیات نے بھی بارش کے کسی امکان کو رد کیا تھا۔
آج
29 اگست کی صبح ہے سارے سادات بچے، جوان، بوڑھے محلہ گھیرسی صاحب میں جوق در جوق
آرهے هیں، جیسے جیسے سادات کے آمد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا هے سورج کی کرنوں کی تپش
میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارها هے , مگر سادات نے تحیہ کر رکھا تھا کہ کسی بھی صورت
علم برآمد کرنا ہے...
دن
کے دو بجے ہیں، چلچلاتی دھوپ، جسم کو جھلسا کر رکھ دینے والی کڑی دھوپ، اتنی گرم
لو کہ جیسے جھنم کی کوئی کھڑکی بھرتپور کی طرف کھل گئی ہو، سورج کی کرنیں گھر سے
باہر آنے والی ہر مخلوق کو بھون کر رکھ دینے پر تلی ہوئیں... اور محلہ گھیرسی صاحب
سے سادات عزاداروں کے ایک جم غفیر کے همراه بڑی آب و تاب سے اپنے مولا (ع) کا علم
بر آمد کرتے هیں، پورا محلہ یا حسین کی فلک شگاف صداؤں سے گونج اٹھتا هے، دور دور
تک زمین پر سادات ہی سادات اور بادلوں سے صاف آسمان مین لہراتا ہوا غازی کا علم...
یہ
چلے سادات وعزادار... منزل ہے کربلا جو کہ شہر سے تین میل دور ہے... کڑکتی دھوپ کہ
پرندہ بھی گھونسلے سے باہر آنے سے قبل ہزار بار سوچے، جھلسا دینے والی لو چل رہی
ہے، چلا کاروان سادات کا ، سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے لبوں پہ نوحے کے بول "
ابر باراں بھیج یا رب مصطفی کے واسطے ، پیاسوں کی فریاد سن مرتضی کے واسطے” سجائے
ہوئے عزاداروں کا جم غفیر اپنی منزل کربلا کی جانب روان دوان... جوں ہی جلوس شہر
سے باہر نکلا تو گرمی کی شدت اور باد مخالف کی تپش میں اضافہ ہوا لیکن عزادار بے
نیاز، سادات بے نیاز ہوکر " ابر باراں بھیج یا رب مصطفی کے واسطے ، پیاسوں کی
فریاد سن مرتضی کے واسطے” کہتے ہوئے سینوں پر ہاتھ مارتے ہوئے جا رہے ہیں.. آخر شام 4 بجے یہ قافلہ کربلا پہنچا
لیکن بادلوں کا کوئی نام و نشان تک نہیں ، ماتم جاری رہا کربلا پہنچنے کے بعد آدھا
گھنٹا جم کر ماتم ہوا...
اب ہوا کی تیزی میں کمی آ چکی تھی، ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہوا رک گئی ہے، ماتم اسی جوش سے جاری رہا یاحسین، یا حسین کی صدائیں فلک مکینوں تک پہنچ رہی تھیں کیونکہ سادات نے تحیہ کر رکھا تھا جب تک بارش نہ ہوگی ماتم نہ رکے گا... بڑی دیر ماتم کے بعد اچانک بھرتپور واسیوں نے دیکھا کہ بھرت پور کے مشرق سے بھورے بادل نمودار ہونے لگے جو کہ آہستہ آھستہ پوری ریاست پر چھاگئے اور بوندہ باندی کے بعد بڑے زور کی بارش ہونے لگی۔۔۔ سادات کے آباو اجداد نے اللہ کے یہاں سادت کی سفارش کردی تھی ۔۔۔
بارش
کافی دیر کے بعد رکی۔ شرکاۓ جلوس اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے اور جب صدر دروازے
سے شہر میں داخل ہوۓ تو یہ دیکھا کہ مین شاہراہ پر پانی بہہ رہا تھا۔ شاہراہ کے
دونوں جانب ہندوؤں کی دکانیں تھیں اور جلوس کے لوگوں کو آتا دیکھ کر یہ تمام لوگ
تعظیماً کھڑے ہوگئے۔ قصہ گو (فیض بہرتپوری) نے یہ الفاظ اپنے سے سنے تھے ایک بنیا
دوسرے سے بلند آواز میں کہہ رہا تھا – دیکھو یہ ہیں جو پیاسے سے پانی مانگنے گئے
تھے پیاسے نے بھی ایسا پلون ہار پانی دیا کہ مجا (مزا) آگیا۔ اس پورے سال میں یہی
ایک بارش ہوئی تھی جسکی وجہ سے قحط ٹل گیا۔ راجہ بہرتپور اعلی حکام اور عوام سب کے
سب اس واقعہ سے متاثر ہوۓ اور شیعوں کا برابر احسان مانتے رہے۔
دوسرے
روز یعنی 30 اگست 1937 کو کربلا میں مجلس شکرانہ ہوئ اور بہت جم کے ہوئ۔ کافی مجمع
تھا۔ پوری ریاست پر شیعوں کی دھاک بیٹھ گئ تھی۔
با تشکر خاص:
سید سرفراز حسین
زیدی الواسطی فیض بہرتپوری
مکان نمبر 5
قطار نمبر 11 بلاک سی
بلاک 5 ناظم
آباد
کراچی
.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں