اتوار، 20 ستمبر، 2015

شیعہ اور شارٹ کٹ

تحریر: محمد زکی حیدری

کهتے هیں کراچی کا ایک واقعه ہے کہ ایک انگریز سیاح خاتون کی گاڈی ریلوے پها ٹک پر آکر رکی چونکہ پهاٹک بند تھا لھٰذا وہ ٹرین کے گذرنے کاانتظار کرنے لگی اور فرصت کے لمحات میں وه اپنی گاڈی کی کھڑکی کھول کر آس پاس کے ماحول پر نظر دوڑانے لگی, اتنے میں سامنے ہی پهاٹک پر اسے ایک بہت عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا جس نے اس کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے, اس خاتون نے دیکھا کہ باوجود اس کے کہ پهاٹک بند ہے ایک سائیکل سوار پاکستانی اپنی سائیکل کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر پهاٹک کے اس پار لے گیا اور پھر سائیکل پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔ اس انگریز خاتون جس نے پاکستانیوں کی اپنے ملک میں بڑی برائیاں سنی تھیں کہ کام چور ہیں, وقت کی پابندی تو بلکل بھی نہیں کرتے وغیرہ، یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی اور سوچنے لگی کہ لوگ تو خوامخواہ پاکستانیوں کی برائیاں کرتے ہیں اسے دیکھو بیچارہ کتنی جلدی سے اپنے کام کے پیچھے جا رہا ہے۔ پھاٹک کھلا اس خاتون کی گاڈی جب اگلے ٹریفک سگنل پر رکی تو ایک اور منظر دیکھ کر وہ اور بھی مبھوط ہوگئی، اس نے دیکھا کہ جس شخص نے جلدی میں سائیکل کندھے پر اٹھا کر پھاٹک کراس کیا تھا وہ ایک پل کے نیچے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر تاش کھیل  رہا ہے اور سگریٹ کے پھوکے بھی لگا رہا ہے...

ہم پاکستانی نہ صرف پھاٹک پر بلکہ ٹریفک جیم کے وقت، نان لینے کی قطار میں کھڑے ہونے کے وقت، بل جمع کراتے وقت، شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانا کھاتے وقت بڑے مایہ ناز کھلاڑیوں کی طرح "شارٹ کٹ" مارتے ہیں۔ عادت سے مجبور انسان بھلا کیا کرے آخر ہماری اس شارٹ کٹ مارنے کی عادت کے رنگ ہمارے دینی فرائض اور عقائد میں بھی نظر آنے لگے۔ ہم دین میں بھی شارٹ کٹ کے عادی ہوگئے۔ مثال حاجی صاحب ساری زندگی سود کھاتے ہیں، تجارت میں دو نمبری کاروبار سے پیسہ کماتے ہیں اور جب حج کا وقت آتا ہے تو سب سے پیش پیش حج سے مشرف ہونے چل دیتے ہیں، اس کے علاوہ ایک بڑی خیرات بھی کردیتے ہیں جس میں خود بھی سفید کڑتا اور عطر لگا کر موجود رہتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے غریبوں میں کھانا بھی تقسیم کرتے ہیں، دین کا ٹھیکیدار مولوی بھی اس محفل میں اپنی خضاب کردہ داڑھی کو عطر لگا کر اسے اپنے ہاتھ سے سہلاتاهوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ شارٹ کٹ هے جنت میں جانے کا !!! بھئی کیوں نہ جائیں گے حاجی صاحب جنت میں بھلا، کیا قرآن نے مسکینوں کو کھانا کھلانے پر زور نہیں دیاَ؟ جی جی حضور دیا ہے آپ کے حاجی صاحب 363 دن دونمبریاں کریں اور دو دن خیرات کر کے شارٹ کٹ مار کر جنت میں بیشک جائیں گے ان کو کوٹا ملا هوگا الله کی طرف سے لھذا آپ بھی امید وار رهیں جنت کے...

یہی حال ہم شیعوں کا ہے, ہمارے شارٹ کٹ تو سنیوں سے بھی آسان ہیں۔ ہمارے پاس صرف ع ل ی کہتے جاؤ جنت میں جاتے جاؤ۔  اتنی آسان جنت...!!! ابے کاہے کا روزہ، کاہے کی نماز ، کاہے کا تقویٰ بس نعرائے حیدری لگانا ہے پل سے گذر جانا ہے... خطیب منبر پر آئے گا اور... اچھا ہم شیعوں کے خطیبوں کے بارے میں میں نے ایک بات نوٹ کی ہے وه یه که جو خطیب جتنی زیادہ بگڑی ہوئی شکل والا ہوتا هے اتنی جنت سستی اور آسانی سے دیتا هے آپ کراچی سے چاردہ معصومیں امام بارگاہ سے شروع کریں پنجاب تک چلے جائیں۔ غضنفر تونسوی سب سے گندی شکل کا ہے یہ میرا چیلنج ہے اور آپ کو اس شخص سے زیاده سستی جنت کوئی نہیں دیگا، حافظ تصدق دوسرے نمبر پر ہے چھوٹا ہے قد کا لیکن موٹر بڑی لگی ہے اس کے اندر، ضمیر آختر صاحب ان دونوں سے تھوڑا سا زیادہ "اسمارٹ" ہیں ان کی جنت ان سے ٹھوڑی سی زیادہ مہنگی ہے... لیکن ایک قدر مشترک ہے تینوں میں کہ عمل ومل کی کوئی ضرورت نہیں, متفق علیہ رائے ہے ان صاحبان کی کہ عمل نہیں صرف ع ل ی کرتے جاؤ سیدھے جنت میں ... اور ہم تو شارٹ کٹ کے عادی ہیں سو یہ تو بھیا اللہ نے سن لی ہماری، سو دے دنا دن ان کے پیچھے...

ہر کام کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک ہوتا ہے درست طریقہ جو کہ ثابت شدہ ہوتا ہے اور عقلا اسے استعمال کرتے ہیں اور ایک ہوتا ہے اسی کام کے کرنے کا شارٹ کٹ، یعنی آسان طریقہ, جس کی عقلا کم جہلا زیادہ پیروی کرتے ہیں آپ کو یہ خطیب لوگ صرف ایک ہی پہلو پر بات کرتے دکھائی دیں گے اور وہ ہے شارٹ کٹ والا پہلو مثلاً کہتے ہیں کہ جتنی بھی نمازیں پڑھ لو، جتنا بھی عمل کر لو لیکن اگر محبت اہل بیت (ع) نہیں تو کچھ نہیں۔۔ بات صحیح ہے لیکن شارٹ کٹ ہے!!! کیوں؟ کیوں کہ پورا طریقہ نہیں بتایا گیا آدھی بات کی گئی۔ پوری بات یہ ہے کہ اگر محبت اہل بیت (ع) نہیں تو عمل کسی کام کا نہیں اور اگر عمل نہیں تو محبت اہل بیت (ع) بھی کسی کام کی نہیں، وہ جھوٹا دعوائے محبت ہوگا محبت نہیں۔  ارے میاں یہ کیا کہہ دیا، ہم سے بیبی زھرا (س) نے، ہم سے مولا حسین (ع) نے وعدہ کیا ہے کہ ہم عزاداروں کی شفاعت کریں گے۔ جی جی بیشک کریں گے بھیا لیکن عزادار بنو تو!!! کیا رونے کو عزاداری اور فضائل علی (ع) پڑھنے کو آپ محبت علی (ع) سمجھ بیٹھے ہو؟؟؟ تو چلو میں کتابیں دکھاتا ہوں معاویہ نے مدح علی (ع) کی ہے اب کیا معاویہ بھی محب اہل بیت (ع)؟؟؟ پھر کتابوں میں لکھا ہے یہ آپ کی مقاتل خوارزمی اٹھا لیں اور متعدد مقتل کی کتب میں ملتا هے که آخری وقت جب شمر امام مظلوم (ع) کے سینے پہ سوار تھا بیبی زینب (س)دور کھڑی عمر سعد سے کهہ رہی تھیں اے عمر حسین قتل ہو رہا ہے و انت تنظر علیہ اور تم کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہو عمر کی آنکھوں سے اشک جاری ہوکر اس کی داڑھی پر سے ہوتے ہوئے زمین پر ٹپک رہے تھے اور اس نے حسین (ع) کے قتل کے منظر سے آنکھیں پھیر لیں... آیئے کربلا میں علی اصغر (ع) کو جب حرملہ نے... تو سپاہ یزید کی اکثریت رو رہ تھی... کیا یہ یزیدی لوگ عزادار تھے؟؟؟ کیوں نہیں تھے بھائی آنسو بہا رہے ہیں غم حسین (ع) میں!!! فضائل اور مصائب و گریہ تو بھیا ان لوگوں نے بھی کیا۔ کیا آنسو بہانا جنت میں لے جائیں گے انہیں؟؟؟ نہیں نا؟؟؟ کیوں ؟؟؟ کیونکه عمل!!! عمل کے ساتھ رونا ہو تو بات بنے گی بھیا۔ عمل حسین (ع) کے دکھائے هوئے رستے پر نه کریں نافرمانیاں کرتے جائیں گناه کرتے جائیں اور حسین (ع) پر روتے بھی جائیں تو یه عین سنت عمر سعدی هے.  ہم یہ فضائل اور مصائب کی بڑی بڑی باتیں اسی لئے کرتے ہیں کہ ہمیں شارٹ کٹ سے سب کچھ چاہیئے، عمل والی بات تو لانگ روٹ ہے نا!!!

اور یہ بیبی (س) نے شفاعت کا ذمہ لیا ہے، علی (ع) سفارش کریں گے اس کا کیا مطلب لیا ہے آپ نے ؟؟؟ یہ کہ آپ ایک نمبر کے بے نمازی ہوں، روزہ کبھی آپ نے رکھا نہیں، دو دو تولے چرس آپ روز پیتے ہو اور مست ہوکر نعرے لگا لگا کر زندگی گذار دی اور آخرت میں  علی (ع) آپ کے انتظار میں ہوں گے کہ آجا میرے فضائل پڑھنے و سننے والے میں تجھے جام جنت پلاؤں؟ یا بیبی (س) اپنے بابا سے کہیں گی بابا پوری زندگی اس نے قرآن نہیں کھولا، آپ کی ایک بھی نہیں مانی، آپ کے دین کی خوشبو ذرا بھی اس سے نہیں آتی، پوری زندگی اس کا کام یہ تھا کہ سارا سال بے عمل، دین سے کوئی واسطہ نہ رکھا، محرم کے دس دن قمیض کے بٹن کھول کر ماتم کرتا تھا، نعرے لگا تا تھا بابا اس لئے اسے بخش دو اسے جام جنت پلا دو... کیا ایسا ہوگا؟؟؟ اگر ایسا ہے تو قرآن نعوذباللہ کس کام کا بھائی؟ ایک ایک حکم کھول کر بتایا قرآن نے کہ یہ کرو، فلاں کرو، حتیٰ عورتوں کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کر لو جیسے چھوٹے چھوٹے احکامات بھی بتائے، سلام کرو، نماز میں سستی نہ کرو، بیویوں سے بہتر سلوک، ماں باپ کے حقوق، یتیم، پڑوسی، جہاد، زکوات، کیا کیا نہیں بیان کیا قرآن نے کہ مومن بننے کیلئے اتنا کچھ کرنا پڑے گا... اور آپ ہو کہ شارٹ کٹ میں ان سب چیزوں کو اس لئے بائے پاس کرے جارہے ہو کہ آپ نے ماتم کیا ہے اور نعرے لگائے هیں... واہ!!! میاں پاکستانی منسٹر سے بھی جب بچے کی سفارش لگوانے جاتے ہیں تو کہتا ہے بیٹا ڈگری تو ہے نا؟ ٹیسٹ پاس کر لو گے نا؟ انٹرویو میں سفارش ہم کردیں گے۔ آپ کسی منسٹر کے پاس جاؤ بولو صاحب میرا بیٹا ہے اسے ھیڈ کلرک لگوا دیں ڈگری نہیں، لکھنا بھی نہیں جانتا، پؑڑھنا بھی نہیں،  بس اب آپ تو مہان ہیں آپ کے نعرے لگاتا تھا الیکشن میں اب کرم فرمائیں... کیا ممکن ہے نوکری ملنا؟؟؟؟
میرے بھائی خدا کا واسطہ ہے بات سمجھیں، دین کو سمجھیں، دین ایک پرندہ ہے اس کے ایک پر کا نام عمل اور دوسرے کا نام ہے عقیدہ۔ دونون پر لازم ہیں پرواز کیلئے... ایک پر والا پرندہ نہیں اڑ سکتا۔  خدا را بیوقوف خطیبوں کے شارٹ کٹ کو چھوڑیئے قرآن و اہل بیت (ع) کے بتائے ہوئے روٹ، رستے اور صراط پر چلیئے کیوں کہ یہ اسٹریٹ پاتھ Straight path ، سیدھا راستہ اور صراط مستقیم ہے۔
.
www.facebook.com/arezuyeaab

ہفتہ، 19 ستمبر، 2015

علی (ع) کی زہرا (س) سے شادی اور ہم

( خیال :مرحوم سید مولانا غلام عسکری اعلی اللہ مقامہ)
تحریر :محمد زکی حیدری

آگ آگ آگ! یہ کسی انسان کی چیخ نہیں ہے، یہ آگ کسی ایک گھر میں نہیں لگی، کسی ایک گودام یا دکان میں نہیں لگی، کسی کھیت کھلیان میں بھی نہیں لگی ، نہ ہی یہ آگ کسی ایک گاؤں یا کسی ایک محلے میں لگی ہے بلکہ یہ آگ پورے پاک و ہند میں لگی ہے دونوں ممالک کے لوگ اس میں جھلس رہے ہیں، بھارت و پاکستان کا ہر خاندان اس میں جل رہا ہے، ہر انسان کے تن بدن میں یہ آگ لگی ہے ، ہر عمر کے افراد جوان،  بوڑھے، عورتیں سب اس آگ میں جل رہے ہیں, بچے بھی اپنے بڑوں کے ہاتھوں اس آگ میں جھونکے جانے کے منتظر ہیں اس آگ سے انسانی گوشت  کے جلنے کی بدبو آ رہی ہے اس آگ میں زندگیاں جھلس گئیں ، جوانیاں اس کی بھینٹ چڑھ گئیں ، اس آگ میں دھڑا دھڑ شرافت، انسانیت، حیا، ایمان ، رشتہ داریاں، جل کر دھواں دھواں ہو رہی ہیں . مگر کچھ لوگ اس آگ سے تاپ رہے ہیں ، اس آگ سے گھر میں اجالا کر رہے ہیں،اس آگ پر اپنے چولھے ہانڈی چڑھا رہے ہیں! آپ حیران ہوں گے کہ میں کس آگ کی بات کر رہا ہوں اور کن خبیث لوگوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں جو اسے ہوا دے رہے ہیں تو سنیئے بھیا اس آگ کا نام ہے شادی! اس کا ایندھن ہے جہیز، رسمیں، گھراتی، براتی، اور وہ آدم خور جلاد ہیں دولھا ور دولھا کے گھر والے اور تمام خود فریب جو رسموں کے، شگن کے اور شکوک کے پجاری ہیں! یہ تمام لوگ بیک وقت بھیڑ بھی ہیں اور بھیڑیے بھی، ظالم بھی  ہیں اور مظلوم بھی ، رونے والے بھی یہی رلانے والے بھی ، یہ ڈستے بھی ہیں اور ڈسے جاتے بھی ہیں، نوچتے ہیں اور نوچے جاتے بھی ہیں۔

اس معاشرے کو سب سے پہلے ایک پاگل کتے نے کاٹا جس کا نام ہے "لوگ کیا کہیں گے"  اس کتے کے اگلے پیروں کا نام ہے جہیز اور رسمیں اور اس کے پچھلے پیروں کے نام ہیں قرض مہر اور ساری زندگی لڑکی والوں سے خوفزدہ رہنا اس کتے پر سوار ہیں دولہا میاں اور اس کے گرد جمع ہیں گھراتی، باراتی اور رسموں کے پجاری، اس پاگل کتے کے تیز دانتوں کا نام ہے دکھاوا! اس کتے نے اپنے تیز دانتوں سے دین و ایمان و شرافت و رحمدلی و قناعت و ۔۔۔ سب کو بھبھوڑ ڈالا ہے۔ پاگل کتا جسے کاٹ لیتا ہے وہ پاگل ہوجاتا ہے اور یہ پاگل جسے ناخن مار دے وہ بھی پاگل ہوجاتا ہے سب پاگل کتے کی طرح بھونکتے ہیں اور سب کے منہ میں کتے کی شکل کے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

"لوگ کیا کہیں گے" کو ملحوظ رکھ  کر جو پہلی شادی ہوئی تھی اس دن اس کتے کا جنم ہوا تھا اور جنم دن پر ہی جہاں اس نے لڑکی والوں کو جہیز کے نام پر خوب نوچا اور پھاڑا وہاں لڑکے والوں کو بھی رسومات کے نام پر کاٹ کاٹ کر لہولہاں کیا۔ اس کے یکے بعد دیگرے خاندان کے خاندان اس پاگل کتے کے زیر اثر آتے چلے گئے اور پاگل ہوتے چلے گئے دین کا ویکسین ناپید تھا یا اسے جان بوجھ کر ایک طرف رکھ دیا گیا تھا ۔ آج ہم اور آپ اسی پاگل سماج میں جی رہے ہیں۔ حال یہ ہے کہ بیٹی رحمت ہوتی ہے کے ماننے والے کے یہاں جب پہلی بیٹی ہوتی ہے تو پریشان ہوجاتا ہے، جب دوسری کی پیدائش ہوتی ہے تو کانپ اٹھتا ہے۔ اور پوری زندگی رعشہ کی یہ بیماری نہیں  جاتی۔ حوا کی بیٹی جب سمجھدار ہوتی ہے تو اسے اپنے چاروں طرف جہنم کی سی جنسی آگ سلگتی ہوئی نظر آتی ہے اس آگ سے بچانے والی پر مسرت شادی کے امکانات جہیز اور رسموں نے بلکل ختم کر دیئے ہیں۔ لیکن کیا کیجے بھیا! بیٹی کی شادی کے وقت آٹھ آنسو رونے والے کے یہاں جب بیٹے کی شادی کی تیاری ہوتی ہے تو وہ لڑکی والوں کو آٹھ ہزار آنسو رلاتا ہے۔ اس طرح یہ آگ ہے کہ جس میں ہم ہی ایندھن ڈالے جا رہے ہیں۔

سچ کہہ رہا ہوں رسمیں جہالت کا نتیجہ ہیں ، دباؤ ڈال کر جہیز لینا حرام ہے، رسومات کی پابندی کا مطالبہ کرنا ناجائز ہے، ان کے ذریعے ملنے والا مال حرام ، ہم منگنی سے لیکر رخصتی تک جو خرچ کرتے ہیں اس میں 99٪ فضول خرچ ہے اور فضول خرچی ناجائز ہے۔  ہماری زبردستیاں، ہماری بے مہار نفسانی خواہشیں، معاشرے کی باتوں کا ہماری سوچ اور فکر پر غلبہ۔۔۔ہم ہر واجب ہوگیا ہے خود کو آگ میں جھونکنا! کیوں کہ معاشرہ ہمیں آگ میں جھلستا ہوا دیکھنا چاہتا ہے, جو معاشرہ چاہے گا ہم کریں گے، ہر عمل معاشرے کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر کریں گے، معاشرے کے خلاف کچھ نہیں  کریں گے، معاشرے کے مقابلے میں اللہ کا حکم محمد و آل محمد (ع) کی سیرت بھی آگئی تو ترجیح معاشرے کی بات کو دیں گے۔۔۔ اور شام کو جاکرجانماز بچھا کر اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوں گے!  علی (ع) اور زہرا (س) کی شادی کے دن آئے تو جھوم جھوم کر خوشی منائیں گے! واہ میاں تمہاری نماز۔۔۔ واہ شیعہ تیرا علی (ع) وزہرا کی شادی کا جشن منانا!

تو کسیے بجھے گی یہ آگ؟ محمد (ص) کے بتائے ہوئے طریقے سے، علی (ع) اور زہرا (س) کی شادی کی طرح اپنے گھر میں موجود علی اور زہرا کی شادیاں کرنے سے! اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے یہ زندگی یہ اولاد تمہاری ہے انہیں اس طرح پال پوس کر بڑا کرو، اللہ و اہل بیت (ع) کیلئے جینا سکھاؤ، اپنے لیئے جینا سکھاؤ، سر پر لہراتی معاشرے کی تلوار کو ہٹا دو، اپنے لیئے شادیاں کرنا سکھاؤ، "لوگ کیا سمجھیں گے" کی جگہ " میرا اللہ، میرا اہلبیت (ع)  کیا سمجھیں گے" رکھ کر زندگی کا ہر عمل انجام دو، دین اطاعت کا نام ہے ہم لوگ اپنے روز مرہ کے امور میں معاشرے کی اطاعت کر رہے ہیں یا اللہ و اہل بیت (ع) کی؟ سوچئے۔
میری شادی نہیں ہوئی میں علی (ع) و زہرا (س) کی شادی کی قسم کھا کر کہتا ہوں فضول خرچہ نہیں  ہونے دونگا چاہے مجھے میرے والدین سے ہی کیوں نہ لڑنا پڑے،  بری رسموں کا آغاز بھی ہم جیسے انسانوں نے کیا تھا تو کیا ان کا قلع قمع کرکے اچھی روایتوں کا آغاز ہم جیسے انسان نہیں کر سکتے؟ اگر ہاں تو اور کوئی کیوں, میں خود سے ہی کیوں نہ شروعات کروں، قرآن بھی یہی کہتا ہے "وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں" اب آپ کا کیا خیال ہے میرے جوان دوستو؟معاشرے کو دکھانے کیلئےشادی کرنی ہے یا علی (ع) اور زہرا (س) کے نمونے  شادی کرنی ہے؟

arezuyeaab.blogspot.com
عزت کر ہے ہو یا بے عزتی؟
.
تحریر: محمد زکی حیدری

ذہن الفاظ کا ایک گودام ہے اور منہ اس کا دروازہ، جیسے الفاظ گودام کے اندر ہوں گے ایسے ہی منہ سے باہر آئیں گے ، گودام میں الفاظ کی کمی بات چیت کے دوران اکثر مفہوم کی مکمل رسائی کے راستے میں حائل ہوجاتی ہے اور بولنے والا اپنے تاثرات درست معنی میں سننے والے تک نہیں پہنچا پاتا ، بات کچھ ہوتی ہے لیکن الفاظ کی کمی کے باعث کچھ  اور ہی کہہ بیٹھتا ہے۔ یہ ہی اصول استعارے اور تشبیہات پر بھی صادر ہوتا ہے مثلاً ایک صاحب منبر پر بیٹھ کر مدح علی (ع) کر رہے تھے، تین کو نیچا دکھانے اور چوتھے نمبر کو اونچا دکھانے کیلئے انہیں اور کوئی مثال نہ ملی بڑے ذاکرانہ انداز میں کہنے لگے "اوئےمنافق تیرے توں تے او کتا چنگا جہڑا پشاب کرن ویلے اک ٹنگ اتے چا کہ تن ٹنگا تے پشاب کردا جے۔۔۔" (او منافق تجھ سے تو وہ کتا بہتر ہے جو ایک ٹانگ اٹھا کر تین ٹانگوں پر پیشاب کرتا ہے) پھر اپنے ہاتھ سے سامعین کو اشارے کرنے لگا کہ تم لوگ بات سمجھے ہی نہیں اور سامعین نے نعروں کا تانتہ باندہ دیا یہ بھی نہ سوچا کہ تین کے ساتھ چوتھے کو بھی اس ذاکر نے کتے کی ٹانگ سے ملا دیا چہ جائیکہ اوپر ہو یا نیچے! (نعوذباللہ)

ہم ایسے ہی ہیں ہم سوچتے نہیں، ہمیں تو بھیا بس عشق ہے! عقل کی بات کوئی ہم سے کرے تو ہم اسے کہتے ہیں عشق کے آگے عقل کچھ نہیں بیچتی ، تو یہ حال ہے ہمارا! اتنا وقت، اتنی توانائی، اتنا سرمایہ دیوبندی- شیعہ کا بالعموم اور سنی- دیوبندی کا بالخصوص فقط اس بات پر صرف ہوا کہ "نبی (ص) نور ہیں کہ نہیں؟" سنی کہتے نبی (ص) نور ہیں ، دیوبندی کہتا نبی بشر، سنی کہتا ہے ابے شرم کر نبی (ص)کو ہم جیسا کہہ دیا۔ بولا تو اور کیا قرآن میں لکھا ہے "انا بشر مثلنا" میں تمہارے جیسا بشر ہوں۔ سنی کہے دفع ہو! وہ رحمت للعالمین ہیں ہم جیسے بھلا کیسے ہو گئے! بات بڑھتی چلی گئی سنی نے کہا بھیا دیکھو بشر کا سایہ ہوتا ہے نبی (ص) اگر بشر تھے تو سایہ کیوں نہ تھا۔ دیوبندی کہتا ہے کمینے تم ہی نے تو کہا ہے کہ حدیث میں ملتا ہے ایک بادل چوبیس گھنٹے حضور (ص) پر سایہ افگن رہتا تھا تو جب سر پہ سایہ ہو تو ان (ص) کا اپنا کیسا سایہ کیسی پرچھائی؟ سنی بولے محمد (ص) نورِ مجسم! دیوبندی جواب میں کہے ہائے ہائے! جاہل بریلوی اگر محمد (ص) نور کے بنے ہوئے تھے تو بتا خندق والے دن پیٹ پر پتھر کس نے باندھا نور پر پتھر ٹِکا کیسے! اچھا یہ بتا طائف کے شریروں نے نبی (ص) کو پتھروں کی برسات کرکے زخمی کر دیا تھا اگر نور کے بنے ہوئے تھے تو نور کو پتھر بھلا کیا کرے گا، یہ چھوڑ یہ بتا نبی (ص) کھاتے پیتے نہ تھے؟ رفع حاجت محسوس نہیں ہوتی تھی، ہیں؟؟؟ نور کو بھلا بھوک کاہے کی؟ بول بے بدعتی۔۔۔؟؟؟ الا بلا ۔۔۔ بحث چلتی رہی تقاریرمیں، سیمیناروں میں، کتابوں میں، ایک ہی جنگ کہ نبی (ص) نور ہیں کہ نہیں!

میں کراچی یونیورسٹی میں تھا وہ الگ دؤر تھا اتنا مذہبی نہیں تھا میں، لے دے کہ بس نماز کی ادائیگی تک محدود! اس میں بھی فجر کی نماز موڈ پر منحصر! وہ تو بعد میں کسی نے آکر زندگی بدل دی۔۔۔ خیر! اس دور میں میرے سامنے دوستوں نے یہ بحث چھیڑی، میں نے کہا یار نور کی تعریف پتہ ہے تم لوگوں کو؟ بولے کیوں نہیں نور مطلب روشنی! میں نے کہا سادہ سی تعریف نور کی اگر یہ کی جائے کہ ہر وہ چیز جس کی وجہ سے اندھیرا دور ہوجائے، تو درست رہے گا؟۔ میں نے ان سے تصدیق کروائی خاص طور پر دیوبندی دوست عبداللہ سے۔ بولا ہاں اس میں  کوئی شک نہیں، میں نے کہا یار دیکھ عرب کی نگری جہالت کے گھپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی؟ بولا ہاں! میں نے کہاں وہ جہالت کا اندھیرا کس نے ہٹایا محمد (ص) نے یا کسی اور نے ؟ کہا محمد (ص) نے! میں کہا تو اندھیرے کو جو ہٹائے اسے کیا کہتے ہیں؟ کہنے لگا نور! میں نے کہا محمد (ص) کو نور مانتے ہو نا کہنے لگا ہاں اس طرح تو مانتے ہیں مگر یار یہ بریلوی کہتے ہیں نورِ مجسم یہ تو غلط ہے نا یار! میں نے کہا رکو!

اب میں نے اس بریلوی دوست عمار سے مخاطب ہو کر کہا یار عمار! نبی (ص) نور کے بنے ہوئے تھے ؟ بولا ہاں! میں نے کہا یہ تو تم حضور (ص) کی اہانت کر رہے ہو۔ بولا کیسے؟ میں نے کہا نوری مخلوق تو فرشتے ہوتے ہیں وہ اشرف المخلوقات نہیں ہیں، اشرف المخلوقات تو انسان ہے۔ تم انسان ہو نا؟ کہنے لگا ہاں ہوں؟ میں نے کہا تو اس نوری مخلوق سے افضل ہو نا؟ بولا ہاں ہوں! میں نے کہا جب تم نوری مخلوق سے افضل ہو تو نبی (ص) کو نوری مخلوق کہہ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟ چپ ہوگیا!کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دبے الفاظ میں کہنے لگا "تو کیا تیرا مطلب یہ ہے کہ نبی (ص) نور نہیں؟" میں نے کہا میں نبی (ص) کو نور مانتا ہوں اور یہ عبداللہ بھی مان چکا ہے۔

ہم لوگ یہی کرتے ہیں، کرنا عزت افزائی چاہتے ہیں لیکن اصل میں اگلے کی تذلیل کر رہے ہوتے ہیں، ایک نبی (ص) کو نور ماننے کو تیار نہیں دوسرا انہیں نوری مخلوق سمجھ بیٹھا۔ افراط و تفریط!  نبی (ص) کے سامنے نور کی حیثیت ہی کیا ہے بھائی! ہمیں کہنا چاہیئے جب یہ ہوری کائنات اس محمد (ص) کے صدقے وجود میں آئی تو کیا نور کوئی انوکھی چیز ہے؟ اس کا وجود بھی محمد (ص) کے توسط سے ہے۔ نور محمد (ص) کی وجہ سے ہے نہ کہ محمد (ص) نور کی وجہ سے! ان بحثوں کو چھوڑیئے، محمد(ص) سے دنیا کا مشکل ترین کام سیکھئے، کیا کام؟ ذہن سازی کا! انسان سازی کا! کردار سازی کا! محمد (ص) نے کتابیں نہیں لکھیں انسان لکھے! محمد (ص) کی کتاب علی (ع) ہیں، محمد (ص) کی کتاب زہرا (س) ہیں، سلمان (رض)، بلال (رض) ابوذر (رض)۔۔۔ ان سب کا استاد محمد (ص) ہے، ان پڑھ ہو کر بھی! یہی وجہ ہے کہ حضرت جوش ملیح آبادی (رح) فرما گئے "عرب کی سی جہالت کی نگری میں جو کسی ایک متنفس کی شاگردی لیئے بغیر بھی پوری کائنات کا استاد کہلائے دبستان ادب کی زبان میں ایسے شخص کو محمد (ص) کہتے ہیں" جناب مدح سرائی کے گر سیکھئے یا چپ رہنا سیکھئے، اپنے کیچڑ سے بھرے گودام کا دروازہ کم از کم ان پاک ہستیوں کیلئے تو نہ کھولیئے۔
arezuyeaab.blogspot.com
یہ کیسا باپ ہے!

تحریر:محمد زکی حیدری

جناب کہتے ہیں کہ قدیم مصر میں ایک شخص تھا، اس نے شادی کی مگر اسے اولاد نہیں ہوئی بیوی اچھی خاصی مالدار تھیں اما صاحب اولاد ہونے میں اپنے شوہر کی مدد نہ کرپانے کی بات کو لیکر بڑی مشوش رہتی، آخر اسے خیال آیا کہ کیوں نہ مصر کے بادشاہ کی طرف سے دی ہوئی ایک کنیز جو اس کے گھر کے کام کاج کرتی ہے، کو اپنے شوہر کو بخش دے اور اس سے عقد کر کے وہ صاحب اولاد ہو جائے، لہذا اس خاتون نے ایسا ہی کیا ور اپنی کنیز اپنے شوہر کو بخش دی، جب عقد ہوا تو بہت جلد اس کنیز سے اس شخص کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس شخص کی زندگی میں تو خوشیوں کی بہار سی آگئی مگر وہاں اس کی مالدار بیوی نے حکم جاری کیا کہ اس کنیز کو بمع اس کے بیٹے کسی دور افتادہ مقام پر چھوڑ آئے کیونکہ وہ ان دونوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتیں!عجب! اس شخص نے بجائے انکار کے اپنے نومولود اور بیوی کو لیا اور مصر سے دور ایک سنسان، سنگریلی بے آب و گیاہ زمین پر چھوڑنے کی غرض سے سفر شروع کیا۔ مقام مقصود پر پہنچ کر اس شخص نے اپنے نومولود اور بیوی کو اس ویرانے میں اتارا اور جب خود سواری سے اترنا چاہا تو اسے اپنی بیوی کی بات یاد آئی، اس کی بیوی نے اس شخص کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ سواری سے اترے بغیر واپس مصر آجائے لھذا اس شخص نے ایسا ہی کیا بغیر اترے واپس جانے لگا۔ نومولود بچے کی ماں نے آہ بکا کی اور لاکھ جتن کئے کہ آپ ہمیں یہاں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہیں، میں تو میں اس نومولود کا کیا قصور کہ اس موت کی گھاٹی میں سسک سسک کر جان دے، دامن گیر ہوئی، سواری کی رقاب تھام لی کہ نہیں جانے دے گی۔ اس شخص نے اس عورت کی ایک بھی نہ سنی اور واپس مصر کوچ کیا۔ اللہ اکبر یه کیسا باپ ہے!

دوپہر کا وقت ہوا چاروں طرف آسمان سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑ اور ان کے درمیاں گرم سنگریلی زمین پر ایک ماں اپنے نومولود کو گود میں لیئے موت کی منتظر ہے، دور دور تک انسان تو انسان پرند و چرند تک کا بھی کوئی نام و نشان نہیں، ماں پریشان، ماں حیران، ماں افسردہ، پہاڑیوں کے بیچ میں دوپہر کا سورج اپنی آب و تاب سے چمکنے لگا اور اس نے اس پتھریلی زمیں کو جہنم کے جیسا گرم کر دیا۔ جو تھوڑا سا پانی لائی تھی وہ ختم ہو چکا ، پستان میں دودہ کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں ، بچہ پیاس کے مارے چیخنے لگتا ہے! کیا کرے؟ سامنے ایک پہاڑی کی طرف دوڑتی ہے شاید کہیں کوئی پانی کا قطرہ میسر آجائے کہ نومولود کی حلق کو گیلا کر سکے مگر نہیں پہاڑ اور اس کے عقب میں بھی دور دور تک پہاڑہی پہاڑ، اتری اس پہاڑ سے، دوسرے پہاڑ کی جانب دوڑ لگائی لیکن مایوسی ۔۔۔! سمجھ گئی کہ اب اوپر والا ہی کچھ کرے تو کرے اس کے بس میں پانی کا انتظام کرنا ناممکن ہے! تھک ہارکے بیٹھ  گئی خود بھی پیاس کے مارے مرنے کو تھی کہ نومولود نے ایڑیاں رگڑیں اور یہ ادا خداوند متعال کو اتنی پسند آئی پانی کا چشمہ جاری ہوا۔۔۔

جی! آپ نے درست سمجھا میں کسی عام باپ کی ، کسی عام ماں کی، کسی عام نومولود کی نہیں بلکہ بت شکن حضرت ابراہیم (ع) اس کی مجاہدہ بیوی حضرت ھاجرہ (س) اور اسماعیل (ع) ہی کی بات بیان کر رہا ہوں۔ وہ سنگریلی زمین مکہ کی وادی تھی، اور بے اولاد زوجہء ابراہیم (ع) کا نام تھا سارہ (س)! بالقصہ اسماعیل (ع) کے اعجازنبوت سے زمزم جاری ہوا تو آس پاس کے پرندوں کے جھنڈ اس طرف آنے لگے، یہ دیکھ کر مکہ کے مضافات میں رہنے والے قبیلے جرہم کے کچھ لوگ اس طرف متوجہ ہوکر مکہ آئے اور بیبی (س) کی اجازت سے وہاں سکونت اختیار کی ، ہاجرہ (س) نے انہیں اپنی روداد سنائی، ابراہیم (ع) بھی کبھی کبھار ان کے یہاں سے چکر لگا لیا کرتے تھے۔

یہ ہے ھاجرہ (س)۔۔۔! اور دیکھیئے یہاں بیٹا سنِ بلوغت کو پہنچا وہاں سے وہی باپ جو اسے بچپن میں بیابان میں چھوڑ گیا تھا، چھری لے کر آگیا، بولا چلو بیٹا گردن کاٹنی ہے تمہاری! ارے۔۔۔! ہاجرہ (س) اٹھو دیکھو تو تمہارے شوہر کے کام! کوئی اور عورت ہوتی تو اٹھ کھڑی ہوتی کہتی کہ میاں دیا ہی کیا ہےتم نے؟ ہیں؟ تمہاری لاڈلی بیوی کے تو بچہ ہوا ہی نہیں، شکر کرو میں نے تمہارے  نرینہ اولاد جن کر دی، اور اس کا سلہ یہ دیا کہ ویرانے میں پھینک کر آ گئے؟ اور اب جب خون پسینہ بہا کر میں اسے پال پوس کر بڑا کیا تو آگئے کہ گردن کاٹنی ہے! بھیڑ بکری سمجھا ہے اسے؟ میرا لخت جگر ہے! ارے کرامتوں والا میرا لاڈلا جس کی کرامت سے چشمہ جاری ہوا اس کی گردن کاٹنے چلے ہو کیسے باپ ہو تم۔۔۔؟ لیکن نہیں! یہ ہاجرا (س) ہے! ظاہر کی نہیں باطن کی آنکھوں سے دیکھتی ہے، اللہ (ج) کا منتخب نبی جب کہہ رہا ہے تو بس! اللہ (ج) اور بس بات ختم! یہی وجہ تھی کہ اللہ (ج) نے بھی ہاجرہ (س) کو عزت بخشی کہ کوئی کتنا بھی بڑا پھنے خان ہو حج پر جائے گا تو اس ہاجرہ (س) کے قدموں پر قدم رکھ کر نہیں دوڑے گا حاجی نہیں کہلائے گا۔

میری ماؤں، بہنو! اللہ (ج) اپنے بندوں کو آزماتا ہے،آپ جب تکلیف میں ہوں تو ھاجرہ (س) کو یاد کریں، ہاجرہ (س) اور اس کے نومولود کا عکس اپنے ذہن میں لائیں، بیابان کو یا د کریں، پتھریلی، تپتی زمین و تنہائی و بے سر و سامانی۔۔۔! اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کے اندر استقامت و صبر پیدا ہوگا آپکو آپکی تکلیف ناچیز محسوس ہوگی اور دوسری بات یہ کہ اس تکلیف کے بعد آنے والے  الہٰی انعامات کی امید آپ کے اندر پیدا ہوگی، کیا ایسا ہو سکتا ہے اللہ (ج) آزمائے اور اس آزمائش میں کامیابی پر انعام سے نہ نوازے؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا لہٰذا آج اگر آپ کو اپنی زندگی مکہ کی سی گرم وادی کی طرح محسوس ہو رہی ہے پھر بھی آپ اللہ (ج) سے پر امید ہیں، تویقین جانئے کہ اللہ (ج) آپ کی زندگی میں زم زم جاری کرنے والا ہے، آپ کے قدموں کے نشانات پر دنیا بھر کے انسانوں کو چلانے والا ہے۔
www.facebook.com/arezuyeaab
.
arezuyeaab.blogspot.com

ہفتہ، 15 اگست، 2015

عشق و عقل اور ہم

تحریر : محمد زکی حیدری

 ہم خود کو معصوم سمجھتے ہیں! سچ کہہ رہا ہوں اس کی دلیل یہ ہے کہ ہم خود کو کبھی غلط نہیں سمجھتے، نہ ہم اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب یه که ہم ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں،  جو شخص کوئی غلط کام کرتا ہی نہیں تو بھیا اس سے بڑا معصوم بھلا کون ہوسکتا ہے۔ خود کو معصوم ثابت کرنے کیلئے ہم رشوت کو "خرچی"، "چائے کے پیسے"، "مٹھائی" ؛ بھتے کو "پروٹیکشن منی" (حفاطت کی اجرت)، فضول اخراجات کو "تقاضائے وقت یا مجبوری" ؛ عریانی کو "فیشن"؛ دین سے انحرافی کو "روشن فکری" ،اپنے سیاسی جلسوں کیلئے دکانداروں سے زبردستی پیسے لینے کو "چندہ" یا "مالی معاونت" وغیرہ کہتے ہیں تا کہ ان تمام تر قبیح کاموں کو اچھے الفاظ کی چادر پهنا کر ان کی قباحت کو چھپایا جا سکے اور خود کو معصوم ظاہر کیا جا سکے۔

اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے عجیب و غریب اور خلاف عقل و خلاف انسانیت کاموں کو چھپانے کیلئے لفظ "عشق" استعال کرتے ہیں ان سے کہا جائے جناب درگاہ پر جاکر رقص کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا اچھے خاصے متدین انسان ہو آپ، تو جواب آئے گا "بھائی عشق ہے! یہاں عقل کو ایک طرف رکھو۔ "... ارے بھیا ذوالجناح کی زیارت کرو، اسے مس کرو منت مانگو لیکن یا ر سجدہ تو نہ کرو جواب آئے گا "بھائی هر کسی کے عشق کی بات ہے۔۔۔ " .... اجی قمہ مت ماریئے چھوڑیئے یار ھاتھ کا ماتم کریئے مولا قبول فرمائیں گے بولے عشق ہے عقل کو "سائڈ" پر رکھیئے۔...

اچھا! کیا قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ عقل کوایک طرف رکھو؟ کیا آئمہ (ع) کے قول و فعل میں بھی ایسا ملتا ہے؟؟؟ میرے بھائی قرآن نے افلا تدبرون، افلا تعقلون ، تفکرون۔۔۔ جیسے الفاظ بار بار دہرائے ہیں کہ بھائی عقل سے کام لو جہاں عقل نہیں وہاں جنون ہے اور جو عقل سے کنارہ کش ہوکر جنون کی طرف جائے وہ مجنوں ہے مجنوں عربی میں کہتے ہی پاگل کو ہیں, جس کے پاس صرف عشق ہو عقل نہ ہو اور یہ مجنوں کا لفظ اللہ کو اتنا برا لگا کہ سورہ تکویر میں آواز دی "وما صاحبکم بمجنون" تمہارا  نبی (ص) مجنوں نہیں ہے۔  دیکھیئے اصول کا فی میں الگ باب ہے "کتاب عقل و جہل" کا جس سے یہ روایت ہے امام موسیٰ کاظم فرما رہے ہیں: قال الکاظم عليه السلام:
يَا هِشَامُ مَا بَعَثَ اللّهُ أَنْبِيَاءَهُ وَ رُسُلَهُ إِلَى عِبَادِهِ إِلّا لِيَعْقِلُوا عَنِ اللّهِ فَأَحْسَنُهُمُ اسْتِجَابَةً أَحْسَنُهُمْ مَعْرِفَةً وَ أَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللّهِ أَحْسَنُهُمْ عَقْلًا وَ أَکْمَلُهُمْ عَقْلًا أَرْفَعُهُمْ دَرَجَةً فِي الدّنْيَا وَ الْ‏آخِرَةِ يَا هِشَامُ إِنّ لِلّهِ عَلَى النّاسِ حُجّتَيْنِ حُجّةً ظَاهِرَةً وَ حُجّةً بَاطِنَةً فَأَمّا الظّاهِرَةُ فَالرّسُلُ وَ الْأَنْبِيَاءُ وَ الْأَئِمّةُ وَ أَمّا الْبَاطِنَةُ فَالْعُقُولُ ... يَا هِشَامُ کَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ مَا عُبِدَ اللّهُ بِشَيْ‏ءٍ أَفْضَلَ مِنَ الْعَقْلِ
اے ہشام ہمارے خداوند متعال نے عقل کے ذریعے سے تمام لوگوں پراپنی حجت تمام کی اور پیغمبروں کی بیان کے ذریعے مدد کی، اور اپنے ربوبیت پر برہان کی مدد سے ان کی دلالت کی۔۔۔ اور صاحبان عقل کو بہتریں چہرے کے طور پر یاد کیا اور اسے بہترین زیور سے آراستہ کیا اور فرمایا: اللہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس نے حکمت لی اس نے بڑا ہی خیر کمایا اور یہ بات عقل والوں کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔۔ ای ہشام خدا لوگوں پر دو قسم کی حجت رکھتا ہے : حجت ظاہری اور حجت باطنی، حجت ظاہری رسول، پیغمبران، اور آئمہ ہیں اور حجت باطنی عقل انسانی ہے!۔۔۔۔ اے ہشام امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا : خدا کی بندگی عقل سے زیادہ کسی اور بہتر چیز سے نہیں کی جاسکتی۔

اصل میں بات یہ ہے کہ عشق کو ہم سمجھ نہیں پائے عشق کی ہم نے تعریف یہ بنالی کہ جس کا بھی خلاف عقل کام کرنے کا من کرے وہ سینہ تان کر اس کام کو انجام دے اور جب اس سے جواب طلب کیا جائے تو وہ اپنے کیئے ہوئے فعل پر "عشق" کا لیبل چسپاں کر دے۔ ! عشق کوئی قبیح چیز نہیں بلکہ اس کے سوا تو گذارا ہی نہیں مگر لٖفظ عشق کی اصل روح کو سمجھیئے عشق و عقل کا تضاد ہے ہی نہیں، عقل ادراک ہے اور عشق عمل، عقل عقیدہ ہے اور عشق عمل۔۔۔ وہ عشق کسی کام کا نہیں جو عقل سے عاری ہو اور وہ عقل عقلِ حقیقی نہیں جو عشق کے رنگ میں نہ رنگا ہو۔۔۔ عقل روح ہے اور عشق جسم۔۔ یہ قوم بڑی باشعور ہے مجھے اندازہ ہے کہ یہ پوچھے گی اب ان میں سے افضل کون ہے؟ سادی سی مثال دے دوں نماز افضل ہے یا وضو؟ آپ کہیں گے نماز کی فضیلت زیادہ ہے اچھا بھائی بغیر وضو کے نماز قبول ہوگی؟ آپ کہیں گے نہیں وضو تو لازمی ہے. بس اسی طرح نماز کو عشق جانیئے اور عقل کو وضو، جو عقل سے وضو کئے بغیر نماز عشق کیلئے کھڑا ہوا اسکا  نماز عشق بغیر وضو کے سمجھنا! اور جس نے خالی وضو کیا اور نماز ادا نہ کی تو اس نے چھوٹے مقصد پر کفایت کی بڑے مقصد کق پانے سے محروم رہا ۔۔۔ یاد رکھو جہاں وضو (عقل) ٹوٹا وہاں نماز (عشق) باطل ہے!

حسین (ع) عاشقوں کے امام ہیں لیکن مجنوں کے نہیں ! پاگلوں کے نہیں ! دیوانوں کے نہیں ! جی جی بڑے وثوق سے عرض کر رہا ہوں، میں جانتا ہوں کہ لفظ "دیوانہ" سن کر آپ کے اذہاں میں ایک ہی شخص کا عکس آئے گا اور بول پڑیں گے کہ  جناب یہ تو ٹھیک ہے  لیکن گھروندے بناکر جنت بیچنے والے دیوانے بہلول  کا کیا کہیں گے؟ تو بھیا عرض ہے کہ آپ نے اگر بہلول کو (نعوذباللہ)  دیوانہ، مجنوں کہا تو یہ اس عظیم درویش کی شان میں گستاخی ہوگی جس کا مشہور زمانہ لقب ہی دانا ہے "بہول دانا" ... ہاں طرز زندگی ذرا ہٹ کے پیشک تھا مگر عقل کی حدود کو پار نہیں کیا کبھی اس عظیم درویش نے... بہلول درویش ہے لیکن دانا، بہلول عاشق اہل بیت(ع)  ہے لیکن دانائی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتا... پس ثابت ہوا کہ جو عقل پر قدم رکھ کر عشق کی اونچائیوں کو چھوئے اسے ہی بہلول کہتے ہیں ۔ آپ نے عقل وعشق کے امتزاج کا بہتریں نمونہ دیکھنا ہے تو اس درویش عاشق اہل بیت (ع) بہلول کو دیکھ لیجئے۔ مجھے بہلول کا ایک فعل ایسا دکھا دیں جس میں (نعوذباللہ) اس دانا نے عقل کو "سائیڈ" پر رکھا ہو!

اب رہی بات شعر و شاعری کی تو جناب شعر و شاعری میں الفاظ کچھ ہوتے ہیں اور معانی کچھ اور, شاعر جس سطح فکری، جس معرفت کی منزل پر بیٹھ کر بات کر رہا ہوتا ہے وہاں تک عام انسان کی رسائی ممکن نہیں خود دیوان امام خمینی (رح) کے اشعار میں مستعمل الفاظ مے و جام و یار و۔۔۔ کو لغوی لحاظ سے دیکھا جائے تو آپ نعوذ باللہ امام (رہ) کو ہی منحرف سمجھیں گے۔ بات شاعری کی نہیں بات ہے عام عمومی علم کی... خود اقبال کو ہی لے لیجئے کس طرح عقل کے چشمے سے وضو کر کے عشق کی نماز میں کھڑے ہوئے ہیں کہ ایک طرف فرماتے ہیں:
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں.
لیکن یہ کہه کر وہ عورت کے تعاقب میں دیوانہ وار نہیں پھرتے بلکہ ان لوگوں پر افسوس کرتے ہیں کہ جو عورت کے وجود میں غرق ہو گئے فرمایا:
ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار...
اقبال کو علم تھا کہ عشق میں جب عقل کا دامن چھوٹ جائے تو رسوائی ہوتی ہے لھٰذا فرمایا :
عشق اب پیروی عقل خدا داد کرے
آبرو کوچہ جاناں میں نہ برباد کرے..
بھر حال ہمارے لیئے کوئی شاعر حجت نہیں ہے , ہمارے لیئے حجت قرآن و اہل بیت (ع) ہیں جن کے قول و فعل سے عقل و عشق کا ساتھ ثابت ہے ان میں تضاد نہیں نہ ہی ایک کا معراج دوسرے کے متروک ہونے کی دلیل، اس لیئے ہم پر بھی واجب ہے کہ سمجھیں کی معرفت اور عشق ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہیں معرفت کے بغیر عشق کے دعوے خود کو ہی بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔


arezuyeaab.blogspot.com

جمعرات، 13 اگست، 2015


آزادی اور انقلاب کی کہانی !

(مرکزی خیال : قدرت اللہ شہاب کی کتاب سرخ فیتہ سے ماخوذ)

تحریر: محمد زکی حیدری


1947 ع... یہ لاہور ہے, بھارت سےآنے والے مہاجروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اسٹیشن سے سیدھا انہیں لاہور کے ایک بہت بڑے سے کھلے میدان "مہاجر کیمپ" میں منتقل کیا جا رہا ہے، یہاں ان کی "رہائش" کا انتظام ہے۔ میدان بہت بڑا ہونے کے باوجود کھچا کھچ بھرا ہے دور دور تک مہاجر ہی مہاجر نظر آرہے ہیں جن میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں ہر کوئی اپنے بال بچوں سمیت ٹولیوں کی شکل میں بیٹھا ہے۔ میدان کے ایک کونے میں بھٹی ہے جس سے اٹھتا ہوا دھواں اور مہاجرین کیلئے "طعام" کا بندوبست کرنے والے کچھ افراد کام میں مشغول نظر آرہے ہیں... ایک کونے میں چھوٹا سا اسٹور نما کمرہ سا بنایا ہوا ہے جہاں سے مہاجرین میں "کپڑے" تقسیم کیئے جائیں گے.
دوپہر ہوئی تو کھانا لینے کیلئے بھٹی پر مہاجروں کا جم غفیر ٹوٹ پڑا اور جب سہ پہر کا وقت قریب آنے لگا تو جم غفیر اب اس اسٹور کی جانب دؤڑ پڑتا ہے جہاں سے کپڑوں کا آسرا تھا، کیونکہ جاڑے کی رات پڑنے والی ہے اور ان کے پاس نہ لحاف ہے نہ کمبل, بس جو دو کپڑے تن پر ہیں سو ہی ہیں۔ "ارے او تجھے سمجھ نہیں آتی کتنی بار کہا ہےقطار میں کھڑی ہو جا جاکر, سنائی نہیں دیتا سالی بہری کہیں کی! " مسلمہ اپنی بچی بغل میں لئے، رش کو توڑتی ہوئی جوں ہی اسٹور بابو کے قریب پہنچی تو اسٹور بابو نے جھڑک دیا۔ مسلمہ اپنی پانچ سالہ بیٹی آزادی کے ساتھ مہاجر خانے میں ہے اس نے آزادی کیلئے بڑی دعائیں مانگیں تھیں اور اسے آزادی اتنی پسند تھی کہ بیٹی کا نام ہی آزادی رکھ دیا اور آج وہ اور اس کی بیٹی آزاد ہو کر اپنے آزاد ملک پاکستان میں ہیں۔ جوں جوں شام قریب آتی جا رہی ہے اسٹور پر لوگوں کا مجمع بڑھتا جا رہا ہے۔ "بس بس! جس کو جو ملا، اب جاؤ اپنی اپنی جگہ پر، حکومت کا اعلان ہے کہ رات 8 بجے کے بعد اسٹور بند ہوجائے گا جس کو کمبل لینا ہے صبح یہاں قطار میں آکر کھڑا ہو جائے، فی الحال جاؤ" مسلمہ اور آزادی کو کئی مہاجروں کی طرح پاکستان میں پہلی رات بغیر کمبل کے گذارنی پڑے گی۔
جاڑے کی رات نے جب لاہور پر اپنی زلفیں بکھیر دیں تو میدان پر گھپ اندھیرا چھا گیا , بتیوں کی مدھم روشنی ابر آلود موسم کے آگے ہار مان چکی تھی, سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے...آزادی اپنی ماں مسلمہ کی گود میں ہے ماں مسلسل اپنے جسم کی گرمی اپنی بیٹی میں منتقل کرنے کوکوشش کر رہی ہے، جاڑے کی سرد ہوا کے جھونکے اور اس پر ابر آلود موسم آسمان ہر لحاظ سے ان بے سرو سامان مہاجروں کی دشمنی پر کمر بستہ اور زمین والا اسٹور بابو اپنے اسٹور میں گرم کمبلوں اور لحافوں کے ڈھیر کے بیچ سو گیا ۔ آزادی کی ماں اور آزاد ملک کے موسم کے درمیان جنگ جاری تھی سردی ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، جب ماں نے دیکھا کہ اس کی آزادی ٹھنڈ سے ٹھٹھرا رہی ہے اور اس کا جسم اسے گرمی منتقل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے تو ایک مرتبہ اس نے ارد گرد کے ماحول پر نظر گھمائی, گھپ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اس نے اپنے کپڑے اتارے اور آزادی پر ڈال دیئے کہ آزادی کی حفاظت ہو سکے... اتنے میں آسمان سے ایک بجلی چمکی اور آزادی کی اس محافظہ کا عریاں بدن عرش اور فرش مکینوں کو للکار کر پکار رہا تھا کہ دیکھو ایسے ہوتی ہے آزادی کی حفاطت...
اتنے میں آسمان سے ایک دھماکیدار آواز سنائی دیتی ہے...ٹپ ٹپ بارش کی بودیں برسنے لگتی ہیں, مہاجر خانے میں موجود مہاجروں کی سرگوشیاں شروع ہوئیں لیکن اتنے میں بارش کے بوندوں کی آواز ان کی سس پس کی آوازوں پر غالب آگئی... آزادی کی ماں کے برہنہ جسم پر گولیوں کے چھرے کی مانند برستی یہ بارش کی ٹھنڈی بوندیں... رات ڈھلتی گئی اور لاہور کے اس مہاجر کیمپ پر موت کی سی خاموشی چھا گئی...
صبح ہوئی انتظامیہ کے لوگ آئے، آزادی کی ماں اور اس کی گود میں آزادی کسی سنگ مرمر کے تراشے ہوئے مجمسے کی مانند اس طرح خوبصورت انداز میں پڑے تھے کہ دنیا کا کوئی بھی مجسمہ ساز دیکھ کر رشک کرتا ... اسٹور بابو پر یہ منظر نا گوار گذرا اس نے اپنے بغل میں رکھے ہوئے کمبلوں کے ڈھیر میں سے ایک کمبل لیا اور اس مجسمے پر ڈال دیا۔
حکومت نے اعلان کیا کہ جو جو اس حادثے میں جان بحق ہوئے انہیں معاوضہ دیا جائے گا۔
2015 ع یہ کراچی ہے! پاکستان کی آزادی کو 68 سال کا عرصہ گذر چکا ہے، رمضان المبارک مبارک کا مہینہ ہے، موسم گرما عروج پر ہے، پروین بھی ان کے خاندان میں سے ہے جو ہجرت کر کے پاکستان آئے پروین آج صاحبہء اولاد ہے اس کے بیٹے کا نام انقلاب ہے۔ انقلاب کی عمر ابھی بہت چھوٹی ہے مگر بضد ہے کہ روزہ رکھے گا ,ماں کے لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ اپنی ضد پر اڑا رہا، انقلاب جب اپنی ضد پر آجاتا تو کسی کی نہیں سنتا تھا، ظہر کا وقت ہو چکا ہے، لوہے کے کسی پرانے شٹر سے بنی ہوئی چھت والا پروین کا یہ گھر گرمی کی تپش سے جھنم بنتا جا رہا ہے اس پر غضب یہ کہ بجلی آنے کے دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہیں، ایک پنکھا ہی تھا جو اس تپتے ہوئے کمرے کے ماحول کو بیٹھنے لائق بناتا تھا مگر بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ نے گرمی کی شدت کو موتمار حد تک بڑھا دیا تھا۔ انقلاب کی ماں بھی بے حال و نڈھال تھی۔ انقلاب کے ہونٹ خشک ہوتے چلے گئے، ماں نے لاکھ جتن کیئے کہ وہ روزہ توڑ دے مگربچے کو مولانا صاحب کی بات یاد تھی کہ تم پر اب روزے فرض ہیں، انقلاب ٹوٹی چارپائی پر مسلسل کروٹیں بدل رہا ہے، وہ اس طرح تڑپ رہا تھا جیسے مچھلی پانی کے بغیر! اچانک اس نے آنکھ بند کر دی جیسے سو گیا ہو ,ماں نے سوچا بے ہوش ہو گیا ہے زبردستی منہ کھول کر پانی کے چند قطرے اس کے منہ میں ڈالے، مگر لاحاصل! پروین کے چیخنے چلانے کی آواز سن کر پڑوس کی عورتیں مرد اکٹھے ہوئے، بھاگ دوڑ شروع ہوئی، موٹر سائیکل پر بٹھا کر تپتی دھوپ میں ہسپتال لے گئے مگرانقلاب نہ آیا اس کی لاش آئی...
اس دن کراچی میں لوڈشیڈنگ اور "ہیٹ اسٹروک" (گرمی) کے باعث کئی اموات ہوئیں۔ حکومت نے اعلان کیا کہ جان بحق ہونے والوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔
1947 ع میں "آزادی" تھی اور 2015ع میں "انقلاب" ہے، دونوں کا اختتام کس طرح ہوا اسی اختتام کے اندر ہماری ترقی کی حقیقت پنہاں ہیں مگر کوئی دیکھنے والا ہو تو...

.
www.facebook.com/arezuyeaab
arezuyeaab.blogspot.com

منگل، 11 اگست، 2015

سادات اور بھرتپور ریاست میں بارش! تحریر: محمد زکی حیدری

سادات اور بھرتپور ریاست میں بارش!

تحریر: محمد زکی حیدری

1937 ع... یہ بھرتپور ریاست هے جس میں میرے مرشد جعفری سادات کا ایک گاؤں ہے پہر سر۔۔۔ ریاست میں سخت قحط سالی ہے۔۔ بارش کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے، ریاست کے ہندو راجه پریشان ہیں۔۔۔ مندروں میں وشیش پراتھنا (خاص دعا) کرنے کی حکومتی سفارشات جاری ہوئیں لیکن لاحاصل...آخر راجہ نے بڑے بڑے پنڈتوں کی بیٹھک بلائی کہ سب مل کر پراتھنا کریں۔۔۔ بڑے بڑے پائے کے پنڈٹ اور سادھو ریاست کے خرچ پر آنے لگے ایک مہا پراتھنا (اکھنڈ کیرتن) کا انتظام ہوا، جادوگر، سوامی، سادھو، گرو، چیلے، پنڈت سب آئے تین شب و روز تک یہ رسومات جاری رہیں مگر ان کے بارش کے دیوتا اندر صاحب راضی نہ ہوئے ۔۔۔ اور ان تمام پنڈتوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا کہ راجہ جی ہم کچھ نہیں کر سکتے...
اس وقت کے انگریز وزیر اعظم یعنی بھرتپور انتظامیہ کے صدر (راجہ کے مہا منتری) مسٹر ہینکوک صاحب نے مسئلہ پر غور کیا اور ان کے ذھن میں ایک بات آئی کہ ریاست کے تمام مذاہب سے متعلقین نے اپنے گھوڑے دؤڑا لیئے سوائے بھرتپور کے مسلمان سادات کے... لہٰذا انہوں نے سوچا چلیئے انہیں بھی بلا لیتے ہیں کہ پتہ چلے یہ کتنے پانی میں ہیں...جب سادات تک یہ دعوت پہنچی تو باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ جلوس و علم حضرت عباس (ع) برآمد کیا جائے..
29 اگست 1937 کو جلوس برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا یاد رہے کہ اس دن کے بارے میں ہندو جوتشیوں نے پیشگوئی کر رکھی تھی کہ اس دن بارش کے کوئی امکانات نہیں اور محکمہ موسمیات نے بھی بارش کے کسی امکان کو رد کیا تھا۔
آج 29 اگست کی صبح ہے سارے سادات بچے، جوان، بوڑھے محلہ گھیرسی صاحب میں جوق در جوق آرهے هیں، جیسے جیسے سادات کے آمد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا هے سورج کی کرنوں کی تپش میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارها هے , مگر سادات نے تحیہ کر رکھا تھا کہ کسی بھی صورت علم برآمد کرنا ہے...
دن کے دو بجے ہیں، چلچلاتی دھوپ، جسم کو جھلسا کر رکھ دینے والی کڑی دھوپ، اتنی گرم لو کہ جیسے جھنم کی کوئی کھڑکی بھرتپور کی طرف کھل گئی ہو، سورج کی کرنیں گھر سے باہر آنے والی ہر مخلوق کو بھون کر رکھ دینے پر تلی ہوئیں... اور محلہ گھیرسی صاحب سے سادات عزاداروں کے ایک جم غفیر کے همراه بڑی آب و تاب سے اپنے مولا (ع) کا علم بر آمد کرتے هیں، پورا محلہ یا حسین کی فلک شگاف صداؤں سے گونج اٹھتا هے، دور دور تک زمین پر سادات ہی سادات اور بادلوں سے صاف آسمان مین لہراتا ہوا غازی کا علم...
یہ چلے سادات وعزادار... منزل ہے کربلا جو کہ شہر سے تین میل دور ہے... کڑکتی دھوپ کہ پرندہ بھی گھونسلے سے باہر آنے سے قبل ہزار بار سوچے، جھلسا دینے والی لو چل رہی ہے، چلا کاروان سادات کا ، سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے لبوں پہ نوحے کے بول " ابر باراں بھیج یا رب مصطفی کے واسطے ، پیاسوں کی فریاد سن مرتضی کے واسطے” سجائے ہوئے عزاداروں کا جم غفیر اپنی منزل کربلا کی جانب روان دوان... جوں ہی جلوس شہر سے باہر نکلا تو گرمی کی شدت اور باد مخالف کی تپش میں اضافہ ہوا لیکن عزادار بے نیاز، سادات بے نیاز ہوکر " ابر باراں بھیج یا رب مصطفی کے واسطے ، پیاسوں کی فریاد سن مرتضی کے واسطے” کہتے ہوئے سینوں پر ہاتھ مارتے ہوئے جا رہے ہیں.. آخر شام 4 بجے یہ قافلہ کربلا پہنچا لیکن بادلوں کا کوئی نام و نشان تک نہیں ، ماتم جاری رہا کربلا پہنچنے کے بعد آدھا گھنٹا جم کر ماتم ہوا...

اب ہوا کی تیزی میں کمی آ چکی تھی، ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہوا رک گئی ہے، ماتم اسی جوش سے جاری رہا یاحسین، یا حسین کی صدائیں فلک مکینوں تک پہنچ رہی تھیں کیونکہ سادات نے تحیہ کر رکھا تھا جب تک بارش نہ ہوگی ماتم نہ رکے گا... بڑی دیر ماتم کے بعد اچانک بھرتپور واسیوں نے دیکھا کہ بھرت پور کے مشرق سے بھورے بادل نمودار ہونے لگے جو کہ آہستہ آھستہ پوری ریاست پر چھاگئے اور بوندہ باندی کے بعد بڑے زور کی بارش ہونے لگی۔۔۔ سادات کے آباو اجداد نے اللہ کے یہاں سادت کی سفارش کردی تھی ۔۔۔
بارش کافی دیر کے بعد رکی۔ شرکاۓ جلوس اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے اور جب صدر دروازے سے شہر میں داخل ہوۓ تو یہ دیکھا کہ مین شاہراہ پر پانی بہہ رہا تھا۔ شاہراہ کے دونوں جانب ہندوؤں کی دکانیں تھیں اور جلوس کے لوگوں کو آتا دیکھ کر یہ تمام لوگ تعظیماً کھڑے ہوگئے۔ قصہ گو (فیض بہرتپوری) نے یہ الفاظ اپنے سے سنے تھے ایک بنیا دوسرے سے بلند آواز میں کہہ رہا تھا – دیکھو یہ ہیں جو پیاسے سے پانی مانگنے گئے تھے پیاسے نے بھی ایسا پلون ہار پانی دیا کہ مجا (مزا) آگیا۔ اس پورے سال میں یہی ایک بارش ہوئی تھی جسکی وجہ سے قحط ٹل گیا۔ راجہ بہرتپور اعلی حکام اور عوام سب کے سب اس واقعہ سے متاثر ہوۓ اور شیعوں کا برابر احسان مانتے رہے۔
دوسرے روز یعنی 30 اگست 1937 کو کربلا میں مجلس شکرانہ ہوئ اور بہت جم کے ہوئ۔ کافی مجمع تھا۔ پوری ریاست پر شیعوں کی دھاک بیٹھ گئ تھی۔

با تشکر خاص:

سید سرفراز حسین زیدی الواسطی فیض بہرتپوری


مکان نمبر 5 قطار نمبر 11 بلاک سی


بلاک 5 ناظم آباد


کراچی


.


جمعہ، 7 اگست، 2015

دو بادشاہ تحریر: محمد زکی حیدری

دو بادشاہ

تحریر: محمد زکی حیدری

حضور ایسا ہے کہ دور قدیم کی ایک ریاست میں دو بادشاہ تھے ایک کا نام ردیح تھاجو کہ انصاف پسند تھا خدا سے ڈرنے والا، بلکہ اس کا پورا خاندان ہی اچھا تھا اور اس کے مقابلے میں جو دوسرا بادشاہ تھا جس کا نام ہیواعم تھا وہ بدنام زمانہ تھا ظالم تھا، مفادپرستی  و منافقت اس کے آباو اجداد کی میراث کے طور پر اسے ملی تھی۔ ردیح صاحب کی رعایا بڑی جوشیلی تھی، یہ جب ردیح بادشاہ کی دربار میں آتی تو کہتی تھی بادشاہ سلامت حقیقی بادشاہ آپ ہیں ہیواعم ظالم ہے اپنے منہ بادشاہت کا دعویٰ کرتا هے, اس میں اہلیت ہی نہیں، یہ ظالم ، یہ غاصب یہ۔۔۔ آپ ظل الٰہی، آپ خدا کامظہر، آپ یہ آپ وہ۔۔۔ ان کی محبت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب ردیح بادشاہ کا جنم دن ہوتا تو پورے شہر کو مشعلوں سے روشن کرتے اور بڑے بڑے خطباء، شعراء، قصیدہ خواں بلا کر ردیح بادشاہ کی شان میں محافل منعقد کرتے اس کے برعکس یہ ہیواعم بادشاہ کی دشمنی میں اتنے آگے جاچکے تھے کہ انہی محافل میں سرعام ہیواعم اور اس کے چاہنے والوں  پر لعنت کرتے تھے۔ لیکن جب بھی ردیح کی دربار سے باہر نکلتے تو ردیح کی عملی مخالفت کرتے تھے اور ہیواعم سے عملی موافقت!

 ردیح نے ان سے کہہ رکھا تھا زنا مت کرنا، سود مت کھانا، رشوت مت لینا ، جھوٹ مت بولنا حتیٰ کہ ہیواعم کے لوگ تم سے بدتمیزی کریں تو بھی انہیں حسن ظن دکھانا لیکن یہ لوگ باہر جاکر ہر وہ کام کرتے جس سے ردیح نے انہیں منع کیا تھا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ  اس وقت بھی ان کی زبان پر ردیح بادشاہ کی تعریف و توصیف جاری رہتی!!! حیرت تو تب ہوتی  کہ جب ردیح کی دربار میں ردیح سے وفاداری اور عشق کا دم بھر کے جوں ہی باہر نکلتے تو سیدھے ہیواعم کے چاہنے والوں کے ساتھ مل کر ہیواعم کے پسندیدہ کام یعنی شباب و غنا کی محافل سجایا کرتے لیکن اس وقت بھی ان کی "زبان" پر تعریف و توصیف و فصائلِ ردیح ہی جاری رہتے۔ ردیح کے کچھ سچے ساتھی ان سے کہتے کہ بھائی یہ کیا بات ہوئی تم تو زبان سے ردیح کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن عمل میں تو ہیواعم باد شاہ کی بتائی ہوئی نحس باتون پر چلتے ہو، اور انہی کے ساتھیوں کے ساتھ نظر آتے ہو! تو وہ کہتے تم لوگ منافق ہو تمہیں ہمارے بادشاہ ردیح کی تعریف گراں گذرتی ہے ہم تو ردیح کے دشمنوں پر لعنت بھیجتے ہیں صبح شام،  تم وہ ہو جو چاہتے ہو کوئی ردیح بادشاہ کی تعریف نہ کرے۔۔۔ اور یہ کہہ کر یہ لوگ ردیح بادشاہ کے سچے ساتھیوں کو "رصقم" کے لقب دیتے اور ردیح کے سچے ساتھی انہیں "یلاغ" کہہ کرپکارتے۔۔۔

میرے عزیز شیعہ بھائیو! آپ کو ردیح کے ان زبانی دعویدار درباریوں پر بہت غصہ آیا ہوگا بیشک آنا چاہیئے یہ فطری عمل ہے! لیکن آپ سے عرض ہے کہ ان دونوں بادشاہوں کے ناموں اور ردیح بادشاہ کے ماننے والے دو گروہوں کو ایک دوسرے کو دیئے ہوئے القاب کو الٹا پڑھیئے تو آپ کو قصہ سمجھ آئے گا کہ یہ دور جہالت کے کسی بادشاہ کی رعایا کی کہانی نہیں بلکہ 21 ویں صدی کے پاکستانی شیعوں کی ہی کہانی ہے !!! کوئی ردیح بادشاہ نہیں یہ "حیدر" ہے اور نہ کوئی " ہیواعم" بادشاہ ہے بلکہ یہ معاویہ ہے اسی طرح جو دو گروہ ہیں انہیں الٹا پڑھیئے تو "مقصر" اور "غالی" ہی بنتے ہیں!

میں نے ایسا کیوں کیا؟ تاکہ آپ کو یقین دلاؤں کہ ہمارے پاکستان کے شیعوں کی کہانی 21 ویں صدی نہیں بلکہ دور جہالت کے قدیم بادشاہی دور میں بھی لے کر "فٹ" کردی جائے تو بھی آپ کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ خدارا یا تو قول و فعل میں حیدر (ع) کے ہوجاؤ یا قول و فعل میں معاویہ کے۔ صرف امام بارگاہ میں حیدر حیدر کرنے سے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔

ہم علی (ع) کوامام بارگاہ میں  چھوڑ کر آجاتے ہیں، وہاں علی (ع)  کے محب ہوتے ہیں لیکن جیسے  باہر نکلے آفیس گئے رشوت لیتے وقت نوٹوں کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں ، بیٹے بیٹی کا رشتہ کرتے وقت داماد و بہو میں بنگلے، گاڈی، بنک بیلنس دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ٹی وی دیکھتے وقت ہم ہندوستانی چینلز میں موجود فیشن کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، لڑکے لڑکیاں اپنا ہمسر پسند کرتے وقت خوبصورتی و مال و زر و۔۔۔ کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ووٹ ڈالتے وقت کسی خبیث بھائی، کسی منحوس وڈیرے، کسی مکروہ  پیر، کسی جاہل چودھری، کسی ظالم سردار کا انتخابی نشان دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے۔۔۔

 بس کردو یار!!! خدا کو مانو!!! اب تو سدھر جاؤ یہ اکسویں صدی ہے دوستو! دنیا کے شیعہ کہاں جا پہنچے اور آپ ابھی تک علی (ع) و حسین (ع) کو "رسمی"  امام بناکر بیٹھے ہیں، مخصوص دنوں تک محدود علی (ع)، مخصوص عمارتوں تک محدود علی (ع) ، مختلف جلوسی سڑکوں تک محدود حسین (ع)۔۔۔۔ هم نے لامحدود شخصیات کو محدود بنا دیا اور خوش هوتے ہیں، فخر کرتے ہیں!!!  بس مسجدوں و امام بارگاہوں میں حیدر حیدر ہے مگر زندگیوں میں نہیں۔۔۔  علی (ع) کو صرف امام بارگاہ میں مت لاؤ علی (ع) کو زندگی میں لاؤ۔ جنت اس کی جس کی "زندگی میں" علی (ع)ہوگا۔
.
www.facebook.com/arezuyeaab
.
arezuyeaab.blogspot.com

بدھ، 5 اگست، 2015

شہید عارف کی قبر پر! تحریر:محمد زکی حیدری



شہید عارف کی قبر پر!

تحریر:محمد زکی حیدری

اے میرے "شہید"! اے میرے "عارف"! اے میرے "حسینی"!  میں اس ناتواں زبان سے کیا آپکی تعریف کروں میرے استعجاب کیلئے آپ کے نام میں موجود الفاظ ہی کافی ہیں! میرا سلام ہے اس بردبار باپ پر جس نے آپ کا یہ نام رکھا اور اس باعفت سیدہ ماں پر جس نے آپ کی تربیت ایسی کی کہ آپ نے اپنے نام میں موجود ہر لفظ کی عملی تفسیر کر کے دکھائی. آپ نے اس قوم کے ظاہری اور باطنی حالات و مسائل کی  کامل معرفت حاصل کرکے اور ان کا حل تجویز کرکے ثابت کیا کہ آپ ایک "عارف" رہنما تھے، اس کے بعد حسین (ع) کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے باطل سے برسر پیکار ہوکر ثابت کیا کہ آپ "حسینی" سید ہیں اور اس کے بعد اپنی سوئی ہوئی قوم کو اپنے پاک خون کے چھینٹوں سے بیدار کرنے کی کوشش میں "شہید" ہوئے، آپ کے نام سے جڑے ہر لفظ کی عملی تفسیر کے نشانات بدین (سندہ) سے لے کر گلگت تک نظر آتے ہیں.

اے میرے شہید! میں آپ کو بہت یاد کرتا ہوں لیکن مجھ سے بھی زیادہ آج پاکستانی کی شیعہ سنی عوام آپ کو یاد کرتی ہے میرے شھید قائد! مجھے علم نہیں آپ کا دور کیسا تھا، آپ کے دور کے حالات کیسے تھے، میں نے اس وقت ابھی آنکھ نہیں کھولی تھی، مگر بابا اور چاچا آپ کے ساتھ ہوتے تھےان سے سنا تو معلوم ہوا آپ قوم کو بلاتے تھے تو لوگوں کا ٹھانٹھیں مارتا ہوا سمندر آپ کی جانب آنے لگتا تھا، مینار پاکستان پر چار لاکھ افراد جمع ہونے کا سن کر میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کاش میں بھی اس دور میں ہوتا!

میرے شہید! میں آپ کی قبر پر آکرآپ سے بہت باتیں کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے جانے کے بعد ہمارے ساتھ کیا کیا ہوا اور دور دور تک کوئی ہمارا پرسان حال نہ
یں، اگر ہیں بھی تو کلمة الحق یراد به الباطل (بات سچی مگر نیت بری) کی مصداق۔۔۔ میرے شہید آپ تو اتحاد بین المسلمین کے سچے داعی تھے مگر آپ کے جانے کے بعد آپ کی مسند پر ایک سید کو بٹھایا گیا اور ان کی قائدانه  غیر فعالیت اور کچھ مشکوک فعالیتوں کی وجه سے جلد ہی ان پر گھنونے الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی اور وہ قوم کے مسائل کا حل سوچنے کی بجائے الزام لگانے والے مخالف گروپ کو صفائیاں، ثبوت دینے لگ گئے ہم چپ رہے، ہم دیکھتے رہے۔

میرے شہید! کل آپ کے ساتھیوں کے منعقد کیئے ہوئے ہر جلسے سے  اتحاد بین المسلمین کی خوشبو آتی تھی مگر آپ کے جانے کے بعد ان کے ہر جلسے سے انتشار بین المومنین کی بدبوء آنے لگی۔ آپ کے ہوتے ہوئے جو بھی لٹریچر چھپتا اس سے اہل سنت برادران  کو قریب لانے اور ان میں موجود تفرقہ بازوں کی سرزنش و مذمت کی پاکائی نظر آتی تھی لیکن آپ کے جانے کے بعد ہم نے ایسا لٹریچر دیکھا جس میں ایک شیعہ کی دوسرے شیعہ پر الزاموں کی غلاظت نظر آئی. ہم دیکھتے رہے!

میرے شہید!  پھر یہ ہوا کہ دشمن کی جانب سے بوئے اس تفرقے کا بیج غنچے میں تبدیل ہوا اور شیعہ دشمن عناصر جنہوں نے ہر بار آپ کی با بصیرت قیادت سے منہ کی کھائی تھی نے اس غلیظ غنچے کی خوب آبیاری کی اور آپ کے جانشین اس چال کو سمجھ نہ سکے آخر بات یہاں تک آگئی کے تنظیمیں الگ ہونے لگی، وہ دشمن جو آپ کے ہوتے ہوئے شیعہ سنی کو لڑانا بھی ناممکن سجھتا تھا نے بڑی آسانی سے شیعہ کو شیعہ سے دست و گریباں کر دیا اور خوش ہوا۔ میرے شہید ہم دیکھتے رہے!

 میرے قائد! پھر یہ ہوا کہ دشمن نے ہم کو منتشر پایا تو ہماری طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنا شروع کی اور ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں اتنے مگن تھے کہ ہمیں  خیال نہ رہا کہ دشمن ہماری عبادتگاہوں تک آ پہنچا آپ کے فرزندوں نے اپنے خون کے نذرانے دینا شروع کیئے مگر بجائے اس کے کہ ہمارے قائدین دشمن کی اس گھنؤنی حرکت کو اتحاد کے ذریعے  جواب دیتے ہم نے اتحاد پر دھیان نہیں دیا!

میرے قائد! جسیے جیسے یہ غنچہ طاقت پکڑتا گیا ایسے ایسے ہم کمزور سے کمزور تر ہوتے  چلے گئے نوبت یہاں تک آئی که غنچه درخت بنا اور اس کے نجس پھل  کے طفیل ہماری عبادتگاہوں کو بموں سے اڑایا جانے لگا، ہمارے لوگوں کو چن چن کر مارا جانے لگا، ہماری عوام کو بسوں سے اتار اتار کر مارا جانے لگا۔ میرے قائد آپ کے عوام کی مائیں ہر روز اپنے جوان بیٹوں کے لاشوں پر بین کرتیں، اس طرح چلا چلا کر پکارتی هیں کہ اگر دو پتھر کی مورتیاں بھی ایک دوسرے سے جدا ہوتیں تو وہ بھی ان ماؤں کی آہ و بکا کے طفیل مجبور ہوکر ایک دوسرے کو گلے لگا کر رونے لگتیں مگر پتھر دل انسان شاید اس پتھر سے بھی زیادہ سخت تھا کہ اس پر ان حوادث کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس نے اسی طرح دو دھڑے رہنے دیئے! آپ کے جانشین اتحاد بین المومنین کی بجائے اتحاد بین المسلمین کے دعوے کرتے رهے اور ان کے مخالفین تنقید!

میرے شہید! پھر یہ ہوا کہ کچھ نوجوان آپ کی مسند پر بیٹھے ہوئے قائد سے خفا ہوئے اور الگ ہو گئے اور باضابطہ طور پر الگ پلیٹ فارم بنا لیا اور بڑے بڑے جلسے کرنے لگے اس سے یہ ہوا کہ آپ کے جانشین نے بھی جوابی جلسے کرنا شروع کردیئے ہم دیکھتے رہے! میرے قائد آپ کے جلسوں میں عوام دل اور روح ساتھ لیکر آتی تھی مگر ان جلسوں میں  ہم جاتے ضرور ہیں مگر صرف جسم لے کر! آخر دو مخالف بھائیوں میں سے کسی ایک کی دعوت پر جاکر اتحاد کی باتیں سننا باضمیرانسان پر گراں گذرتا ہے! الگ الگ بیٹھ کر اتحاد کی باتیں! کیا کیجیئے دل نہیں مانتا کیوںکہ اس طرف بھی ہمارے بھائی اور اس طرف بھی ہمارے بھائی!  اچھا پھر یہ لوگ الگ الگ الیکشن لڑے، چار ووٹ دینے والوں کو دو امیدوار سامنے تھے جو کہ دونوں شیعہ ! ہم بھوکھلا گئے جائیں تو کہاں جائیں ہم نے ووٹ ہی نہ ڈالا!

میرے قائد ! ان لوگوں کو اتحاد کی طاقت کا علم بھی ہے اور ایک بار عملی طور پر انہوں نے اس کا مظاہرا بھی کیا اور بلوچستان حکومت کو چنے چبوا دیئے مگر اس کامیابی سے بھی انہوں نے سبق نہ سیکھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کی عوام عمامے والوں سے یه کهه کر متنفر هوگئی که "یار یه تو بس ایک دوسرے سے هی لڑتے رهتے هیں" عمامے کے ساتھ اپنوں نے ظلم کیا میرے قائد جس عمامے کو خمینی (رح) نے پوری دنیا اور آپ نے پورے پاکستان کے ظالموں کیلئے موت کی نشانی کے طور پر مشھور کیا. اس عمامے سے آپ کی قوم اب نا امید ہونے لگی ہے۔
میرے قائد! میرے شہید! میرے عارف! میرے حسینی! بیانِ حالِ دل طویل ہے کیا کیا بتا کر کیا بتاؤں۔۔۔ بس اب اتنا عرض ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ میرے مولا حسین  (ع) سے آپ کی ملاقات ضرور ہوتی ہوگی اب کے ان سے ملیئے تو کہیئے گا  اس طالبعلم کو سچ بولنے کی ایسی سزا ملے کہ اس کے جسم کا ایک ذرا مشرق تو دوسرا مغرب سے ملے کیونکہ اگر میں عام موت مارا گیا تو آپ کو کیا منہ دکھاؤں گا میرے شہید قائد!
یاعلی!
www.facebook.com/arezuyeaab
arezuyeaab.blogspot.com

ہفتہ، 1 اگست، 2015

افواہ

ایک عوت نے اپنے ایک پڑوسی شخص کے بارے میں بہت ہی نازیبا بات گڑھی اور اسے پورے محلے میں پھیلا دیا۔ تھوڑے عرصے میں ہی یہ بات پورے شہر میں پھیل گئی، سب کو پتہ چل گیا اور اس افواہ کی وجہ سے اس شخص کو بہت صدمہ پہنچا اور اسے مشکلات کا سامنہ کرنا پڑا۔ ایک مدت کے بعد اس عورت نے اس شخص کا حال دیکھا تو اسے پشیمانی ہوئی لھٰذا وہ ایک بزرگ کے پاس گئی اور اس سے پوچھا کہ کس طرح اس جرم کا ازالہ کرے۔
بزرگ نے اسے کہا: بازار جاؤ اور ایک مرغہ خریدو، اسے مار کر اس کے پروں کو اپنے محلے میں ایک ایک کرکے پھیلا دو اور کل میرے پاس آنا۔" عورت کو تعجب ہوا مگر اس نے بزرگ کی بات مانتے ہوئے اس کام کو انجام دیا۔
اگلے دن جب وہ عورت اس بزرگ کے پاس آئی تو بزرگ نے اسے کہا :"اب جاؤ جو جو پر تم نے محلے میں پھیلائے تھے انہیں لے آؤ!" عورت گئی مگر تین چار پروں سے زیادہ لے کر نہ آ سکی۔   بزرگ نے اس عورت سے کہا: جس طرح پروں کا پھیلانا آسان تھا اور پھر سے انہیں جمع کرنا مشکل، اسی طرح افواہ کا پھیلانا بھی آسان ہوتا ہے مگر اسے ختم کرنا بہت مشکل۔"


مترجم: محمد زکی حیدری و آب
arezuyeaab.blogspot.com