اتوار، 24 مئی، 2015

پاکستانی شیعہ جوان اور حضرت ابراہیم (ع)

پاکستانی شیعہ جوان اور حضرت ابراہیم (ع)

تحریر:محمد زکی حیدری و آب

 شاید آپ کو میری اس تحریر کے عنوان پر تعجب ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ شیعہ جوانوں نے حسین (ع) کا ماتم بھی کرلیا، عباس (ع) کا ہرچم بھی ہاتھ میں اٹھا لیا، علی اصغر (ع) کے جھولے کہ شبیہ بھی روز دیکھتے ہیں، زیارت عاشورہ بھی ہر جمعہ کی رات پڑھتے ہیں، زخمی ذوالجناح بھی ان سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، تیر، تلوار، خون، نیزے سب ہی دیکھ لیئے مگر انہوں نے اس سے صرف رونے کی رسم لی, ان کے فکرو عمل میں حسینیت آنے سے قاصر رہی۔ اس بات کی گواہی میں نہیں حالات دے رہے ہیں یقین نہیں آتا تو پہلے  گلگت سے لیکر بدین (سندہ) تک کی ہر گلی میں بکھرے ہوئے خون  شیعان حیدرکرار کے چھینٹے دیکھیئے اور پھر صرف پانچ منٹ کیلئے فیسبک پر چلے جائیں آپ کوشیعہ جوان ملیں گے مگر نہ ٹارگٹ کلنگ پر بات ہو رہی ہوگی، نا شیعت کے اساسوں مثلاً ڈاکٹرز، انجینیئرز، وکلا، استادوں، پروفیسرز وغیرہ کے مظلومانہ قتل پر بات ہوتی دکھائی دیگی، نہ یمن پر، نہ شام میں آمریکی-اسرائیلی-عربی جارحیت پر، نہ ایران کی استقامت پراور  نہ ہی رہبر معظم (زید عزہ) کے دیئے ہوئے پیغامات پربات ہوتی ہوئی دکھائی دے گی! آپ کو ہمارا جوان یا تو خاموش نظر آئے گا یا اگر مکتب پر احسان کرکے اس پر گفتگو کرے بھی تو ایم ڈبلیوایم اور ایس یو سی کی بحث کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ ہمارا کالج کا جوان، یونیورسٹی کا نوجوان، ہمارا مدرسے کا نوجوان، جو کمپیوٹر و موبائل فون سے نظر ہٹا کر اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہے تو اسے اٌپنی قوم کے محسنوں کی لاشیں بکھری نظر آتی ہیں مگر پھر بھی خاموش ! لہٰذا جب اس نے کربلا کی شبیہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے باوجود اس سے کچھ نہ لیا تو اس ڈاکٹر کی طرح کہ جس کی ایک دوائی مریض پر اثر نہیں کرتی تو وہ دوائی بدلتا ہے، میں نے بھی دوائی بدلنے کا سوچا حسین (ع) و عباس (ع) کو چھوڑ کر ابراہیم (ع) کے کارنامے بتانے کا سوچا۔
اب ابراہیم (ع) اور جوان کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا تعلق؟ قرآن پڑھیں:  قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ[1] اور انہوں نے کہا: سنا ہے ابراہیم نامی ایک "جوان" ہے جو بتوں کے خلاف بولتا رہتا تھا۔ حضرت ابراہیم (ع) اکثر انبیاء کی طرح جوان تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے معبد میں رکھے بت توڑ کر پاش کردیئے اور اس کی قوم والوں نے دیکھا تو پوچھا یہ کس نے کیا، تو ان میں سے کچھ نے کہا ایک "جوان" ۔۔۔ ابراھیم نامیایک  جوان ہے جو بتوں کے خلاف بولتا پھرتا تھا، یہ اسی کے ہی کام ہیں۔ دیکھا آپ نے جب اس وقت کے بت پرستوں نے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو کہا یہ اور کوئی نہیں کر سکتا یہ کسی "جوان" کا ہی کام ہے۔ بتوں کو توڑنا جوان ہی کا کام ہے! اور دوسری طرف ان الفاظ سے خود بت پرست بھی اقرار کر بیٹھے کے ان کی اولاد میں سے کسی میں اتنی "جوانمردی" نہیں کہ بتوں کا بال بھی بیکا کر سکے یہ ضرور کسی موحد جوان کا کام ہے، ان بت پرستوں کو بھی معلوم تھا کہ ان کی اولاد کھوکھلے بتوں کے پیروں کی دھول چاٹتی ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ بتوں پر ضرب لگائے، ان کو معلوم تھا کہ ان کے جوان میں اتنی سوچ نہیں کہ ایسا سوچے کہ یہ جو "دوسروں" کے ہاتھ سے بنا ہوا بت ہے یہ کسی کا کیا بگاڑ سکتا ہے، ان کو یہ یقین تھا کہ ان کا جوان آبا و اجداد کے دیئے ہوئے نظریات کو عقل کے میزان میں تولنے والا ہو ہی نہیں سکتا لہٰذا جب بت ٹوٹے تو ذہن میں پہلا خیال اسی بت شکن طرز فکر رکھنے والے "جوان" ابراہیم کا آیا۔
میرے دوستو! ابراہیم (ع) کے اس کارنامے کو قرآن نے "جوان" کو منسوب کیا، یہ افتخار ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ  تمہارے اندر سچ کو گلے لگانے کی جرآت بوڑھوں سے زیادہ ہے اسی لیئے پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: " اوصيكم بالشباب خيراً فانهم ارقّ افئده ...میں تمہیں جوانوں سے اچھا سلوک کرنے کی سفارش کرتا ہوں کیونکہ ان کے دل حق کو جلد قبول کرنے والے ہیں، مجھے اللہ نے پیغمبری عطا کی تا کہ لوگوں کو رحمت الٰہی کی بشارت دوں اور اس کے عذاب سے ڈراؤں، نوجوانوں نے میرے پیغام کو قبول کر کے مجھے دوست بنایا لیکن بوڑھوں نے میری بات نہ مانی اور میری مخالفت کی۔" [2] اس سے زیادہ اور کیا سند چاہیئے آپکو کہ دنیا کا سچا ترین  انسان آپ کو کہہ رہا ہے کہ آپ وہ زمین ہیں جس میں حق کا بیج ڈالا جائے تو دن دگنی رات چوگنی وہ ایک مضبوط درخت بن جاتا ہے۔ آپ اپنے اندر نگاہ کریں آپ کی ضمیر کی زمین میں کسی چیز کا بیج بویا بھی ہوا ہے کہ نہیں؟ اگر ہاں تو کس کا ہے کیا اس سے کل اموی و عباسی زمینوں میں اگنے والے خآردار کانٹے نکل کر سادات اور اس کے ماننے والوں کے جسموں کو خروچیں گے یا اس میں سے مکتب اہل بیت (ع) سے ملنے والی تقویٰ ،غیرت، شجائت، عزت نفس، حق پرستی، استقامت، دلیری، اور برباری کے پھول نکل کر پورے معاشرے کو دشمن شناسی اور جہاد کی خوشبو سے معطر کردیں گے؟ کیا تمہارے من میں تقویٰ و پرہیزگاری؛حق و حقانیت؛ ایثار و فداکاری؛ مقاومت و جدوجہد کا دریا موجزن ہے یا ظلم پر خاموشی، حقائق سے چشمپوشی، جہاد سے عدم دلچسپی، کاہلی، سستی کی خاموش میلے پانی کی جھیل بنی ہوئی ہے؟
ذرا سوچیئے آپ اپنے اندر جھانکیئے آج تک آپ نے تنقید کے سوا کیا کام کیا ہے ؟ کیا آپ گھر بیٹھ کر تنقید کرنے کے مجاز ہیں جب کے آپ کے اندر صلاحیت ہونے کے باوجود میدان خالی ہے! مورچوں پر جوانوں کی ضرورت ہے اور آپ بستر پر ناقد بنے بیٹھے  ہیں۔ اب سوال کروگے کیا کریں؟ ہم ٹارگٹ کلنگ تو نہیں روک سکتے۔ یمن کا کیا کریں وہاں جا تو نہیں سکتے، جمعہ نماز کے بعد ریلی میں گئے تو تھے! دشمن پہ لعنت کی اور کیا کریں!  ہاں جی بلکل کیا کریں  آپ؟ اچھا جناب ذرا بتایئے کہ دشمن ہے کون ہمارا؟  پھٹ سے جواب آئے گا آمریکا! جناب کیا آپ دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ آمریکا ہی ہے جو سب کچھ کر رہا؟ ٹھوس تاریخی ثبوتوں کا علم ہے آپکو؟ اس سوال پر ذرا ڈھیلے پڑ جائیں گے! کیوں؟ کیوں کہ مطالعہ نہیں کرتے جو مولوی صاحب نے بتادیا اسی پر چلتے ہیں۔ اسرائیل مردہ باد فلسطینی زندہ باد، صہیونی جارحیت نا منظور! اچھا بھائی ذرا بتائے صہیونی اور یہودی میں کیا فرق ہے؟ اچھا جو دیواروں پہ لکھا ہے استعمار استعمار استعمار یہ استعمار کیا بلا ہے بھائی؟ نہیں معلوم!
 اچھا آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستانی میڈیا پر عامر لیاقت سارا دن بیٹھا رہتا ہے لیکن شیعہ کلنگ پر ایک بھی دستاویزی فلم نہیں چلائی جاتی؟ ہان آپ کہیں گے یہ میڈیا والے تو ہیں ہی الا بلا ۔۔۔ اچھا جناب تو آپ کیوں سارا دن انہی چینلز پر بیٹھے رہتے ہیں جب کہ ان کو معیار حق بھی نہیں مانتے؟ آپ نے کبھی ایرانی اردو چینلز کے تجزیئے سنے؟ آپ نے کبھی ایسی شیعہ ویب سائٹس دیکھیں جو آپ کو حقیقی تجزیہ پیش کریں؟ ایک طرف آپ میڈیا کو باطل کہتے ہو دوسری طرف سارا دن آپ انہی کے تجزیات سے مستفید ہوتے ہو، باطل کے تجزیئے آپ کو سست کردیں گے، باطل کردیں گے، ان جیسا کر دیں گے، آپ کے ںظریات انہی کے تجزیات پر مبنی ہوں جن کے پروگراموں میں آپ کو کافر کہا جائے تو آپ ہی بتایئے آپ کے نظریات میں کتنی بصیرت و طہارت و حقانیت و مقاومت اسلامی و تفکر اہل بیت (ع) شامل ہوگا؟ حقیقت کیلئے کوشش کریں اسی فیسبک اسی انٹرنیٹ سے استفادہ کرکے حقیقت دیکھیئے آپ کا دشمن کتنے محاذوں پر کام کر رہا ہے اور آپ ہیں کہ پوچھتے ہیں ہم کیا کریں ؟َ آپ کچھ نہ کریں صرف حالات حاضرہ کا مطالعہ فرمائیں اور اس کے لیئے درست ذرائع ابلاغ کا انتخاب کریں۔ حرکت کریں سست نہ بنیں جو نفرت کی بات کرے اسے قوم کی ستم ظریفی کا عکس دکھا کر ہاتھ جوڑ کر کہیں کہ جناب ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے، یہ باتیں  متعصب عورتوں کو زیب دیتی ہیں ابراہیم (ع) کے ماننے والے جوان کو نہیں۔ اگر آپ کی طبیعت میں کسی جھگڑالو ساس والے جراثیم ہیں تو خدارا ایک کونہ پکڑیئے آپ کو ایسی بہو بھی مل جائے گی جو آپ سے سے لڑے، آپس میں لڑیئے سارا دن ہمیں کام کرنے دیجیئے! ہم جوان مرد ہیں ہماری سوچ، ہماری گفتار، ہمارے عزائم، ہمارے حوصلے، ہماری منزلیں تم لوگوں سے الگ ہیں۔
خدا را ابراہیم (ع) کی جوانی کو نمونۂ عمل بناتے ہوئے متحد ہوجاؤ، خود کو توحید و تقویٰ کی شمشیر سے مصلح کرو کسی پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لو کہ میں نے کیا کیا ہے پھر تنقید کرو، تم متحد ہوگئے تو تمہیں تنظیم کی نہیں تنظیموں کو تمہاری ضرورت پڑے گی، تم پر کسی تنظیم کا آئین مسلط نہیں کیا جائے گا تم آئین بناؤگے تنظیمیں اس پر عمل کریں گی۔ بس بات اتنی ہے کہ کچھ کرو!
جس طرح ابراہیم کی قوم کے بت پرستوں کو ٹوٹے ہوئے  بت دیکھ کر صرف ابراہیم کا خیال آیا اسی طرح اگر آپ بھی اپنی ذمہ داری محسوس کر کے تھوڑی حرکت کریں گے تو قسم کھا کر کہتا ہوں لانڈھی کے بت، رائیونڈ کے بت، لاڑکانہ کے بت، کراچی کے بت، بلوچستان کے بت، پشاور کے بت، اسلام آباد کے بت جب پاش ہوکر گریں گے تو ان کے ذہن میں آپ کا ہی خیال آئے گا۔ لیکن بت پرستی کا خاتمہ ضرور ہوجائے گا۔ اور ہاں یاد رکھنا آج اس بت کدے کا نام تک کسی کو یاد نہیں لیکن ابراہیم کا کعبہ آج بھی زندہ و جاید ہے۔ مناسک حج میں کچھ نظر نہیں آتا ہر طرف وہ جوان ابراہیم نظر آتا ہے جس نے اپنے کام کی شروعات ہی بتوں کو پاش پاش کر کے کی۔
اورسنو! کئی ایسے بھی  آئیں گے جو تمہارا راستہ روکیں گے کہ "ماحول سازگار ہونے دو" انہیں قرآن کی آیت پڑھ کر سنانا کہ تم اس کی طرح ہو جن سے جہاد کا کہا جائے تو کہتے ہیں گرمی ہے ابھی سفر پر مت نکلو  [3]"ماحول کو بھی دیکھا کرو"  یہ وہی بوڑھے ہیں جن کا ذکر نبی (ص) نے مذکورہ بالا حدیث میں کیا۔
میرے دوستو! اگر وقت ملے تو تاریخ میں غیرت مند جوانوں کی جدوجہد کی تازہ مثالیں بھی پڑھ لیجیئے گا چاہے وہ چائنا میں تیانانمین اسکوائر پر جوانوں کی خون ریزی ہو ، چاہے 8 سالا ایران-عراق جنگ میں  ایرانی انقلابی جوانوں کا کردار ہو، چاہے ویتنام کے جوانوں کی آمریکا کو دھول چٹانے کا کارنامہ ہو، چاہے وہ فرانسوی انقلاب ہو، روسی انقلاب ہو، ؛لاطینی آمریکا ہو یا پھر نائیجریا سے لیکر جنوبی آفریکا تک کے آفریکی کالے جوانوں کی خونی جدوجہد ہو۔ کچھ بھی پڑھیں مگر مطالعہ کریں! ابراہیم کو علم تھا کہ یہ بت  چند مجسمہ سازوں کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے ہیں یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے آپ کے اسلام آباد والے بت بھی "بیرونی مجسمہ سازوں" کے تراشے ہوئے ہیں اگر آپ سوچتے ہیں کہ یہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو افسوس کہ آپ ابراہیمی جوان نہیں!



[1] سورہ الانبیاء آیت 60
[2] محمدبن يعقوب كلينى، روضة الكافى، (تهران: دار الكتب الاسلاميه، 1365 هـ)، ص 93
[3] سورہ توبہ 81

ہفتہ، 23 مئی، 2015

سادات دشمن کون ؟

صرف پڑھے لکھے سادات پڑھیں!
۔
میری نظر میں سادات کرام کیا ہیں؟
۔
میرے محترم سید میرے مولا (ع)اور میری پاک بیبی زہرا (س) کے خون اطہر کے وارثواور امانتدارو، تمہاری پاک رگوں میں محمد (ص) کی حق گوئی، علی (ع) کی عدالت، زہرا (س) کی عفت و پاکدامنی، حسن (ع) کی بصیرت، حسین (ع) کے ایثار ، زینب (س) کی جرآت، عباس (ع) کی وفا کے اجزا سے منور خون دوڑ رہا ہے۔ تم مثل ماہ شب چاردھم ہو کہ جس کی چاندنی دیکھ کر رات کے کتے بھونکتے ہیں لیکن اس پر کوئی اثر ہونے والا نہیں ہوتا ، تم اسلام کیلئے قربانی اور خون دینے کی ایک تاریخ رکھتے ہو، امیوں کی تلواروں کو تشنگی خون محسوس ہوئی تو سادات کرام نے اپنا خون دے کر بجھائی، عباسیوں کے دورجعفر سفاح سے لیکر مہدی تک جس بھی حکمران کے نجس خون نے جوش مارا تو اس نے سادات پر تلواریں چلا کر اسے جوشِ شیطانی کو ٹھنڈا کیا جب بھی اسلام کو خون کی ضرورت پڑی تو اولاد زھرا (س) نے خون دیا، آج بھی ہمارے ملک میں کبھی سید عارف الحسین الحسینی، کبھی ڈاکٹر محمد علی نقوی تو کبھی سید سبط جعفر زیدی تو کبھی۔۔۔۔۔  اور آج دنیا میں ہر جگہ سید ہی ظلم و جبر کیخلاف برسر پیکار ہے، چاہے وہ سید علی خامنہ ای (زید عزہ)  کی صورت میں، سید حسن نصر اللہ (زید عزہ) ہو، سید علی سیستانی (زید عزہ)  ہو، سید عبد المالک زیدی حوثی ہو یا کوئی اور۔۔۔۔ اس کیلئے قوم شیعہ آپ سادات کی قدر نہ کرے تو اس سے بڑی احسان فراموشی کی کوئی مثال نہیں ہوگی۔

پھر مجے سادات دشمن کیوں کہا جاتا ہے؟
۔
اسی لیئے کہ میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے یہ سوچ رکھا ہے کہ سادات گھرانے کی دختر نیک سے ازدواج کا ناطہ جوڑوں گا تاکہ میری شخصیت، میرے گھر ، میری اولاد میں سادت کا نور منتقل ہو اور وہ تقویٰ و پرہیزگاری و بردباری و شجاعت و ایثار کی تاثیرجو سادات کے خون میں ہوتی ہے وہ میری اولا د میں بھی منتقل ہو۔ اور یہ میں نے امیر المومنین (ع) کی دکھائیے ہوئے طریقے پر ہی عمل کیا ہے مولا علی (ع) نے عقیل سے کہا تھاکہ تم عرب کے نسل شناس ہو میرے لیئے ایسی عورت ڈھونڈ لاؤ جو کسی دلیر قبیلے کی ہو تا کہ میں اس سے عقد کروں اور مجے دلیر بیٹا عطا ہو۔ اور پھر آپ نےپڑھا ہوگا کہ آپ (ع) ام البنین (س) سے نکاح کیا ور شجاعت کے پیکر میرے مولا عباس (ع) اس دنیا میں  آئے۔ ثابت ہوا کہ ماں اولاد کی موروثی خصوصیات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب میں نے سید زادی سے نکاح کرنے کی بات کی تو مجھ پر تنقید کی گئی، جب میں نے دنیا کو ثبوت فراہم کرنا شروع کیئے کہ جناب اسلام میں سید زادی کا نکاح غیر سید لڑکے سے خود نبی (ص) نے کروائے ہیں۔ تو مجھ پر سادات دشمنی کا گھنؤنا الزم لگایا گیا اور ایسا ظاہر کیا گیا کہ گویا کوئی غیر سید چاہے کتنا بھی متقی ہو لیکن کسی گنہگار سادات کی برابری بھی نہیں کر سکتا۔ حتی کہ یہ تک کہا گیا کہ سید گنہگار ہو تو اسے بھی گنہگار نہ کہو! یعنی سید شرابی ہو تو اسے شرابی مت کہو! زانی ہو تو اسے زانی نہیں کہہ سکتے! میں نے جہنمی نہیں کہا تھا نہ ہی ایسا میں کہہ سکتا ہوں مگر میں نے کہا کہ جو بھی سید جس نوعیت کا گناہ کریگا وہ اسی نوعیت کا گنھگار کہلوائے گا۔ میں قرآن میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی مثال دے کر کہا کہ چور سید ہو یا غیر سید اس کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، پھر قرآن نے فرمایا جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے یہ آیت بھی صرف غیر سید جھوٹے کیلئے نہیں بلکہ سید جھوٹے کے لیئے بھی یکسان طور پر صادر آتی ہے۔۔۔ جواب نہ ہونے کی صورت میں  کچھ لوگوں نے ایسی گفتار کی کہ جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ ان کے اندر مندرجہ بالا ساداتی خصوصیات نہیں صرف سادات کا لیبل لگا کر گھوم رہے ہیں۔ لہٰذا میں ان سے کہا سادات کا شیوا نہیں کہ کسی کو بلا وجہ گالی دیں۔ میں نے صرف اتنا کہا کہ سید بھی اگر جھوٹ بولے لعنتی ہے قرآن نے کہا ہے میں نے نہیں۔

صرف سادات ہی کیوں؟
۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ صرف سادات ہی کو میں کیوں قرآن و احادیث کی مذمتی مفاہیم کا مصداق ثابت کر رہا ہوں۔ یہ اس لیئے کہ کسی ملک، بلوچ، چوھدری، لغاری، کشمیری، پٹھان، راجپوت نے مجھے یہ نہیں کہا کہ ان کی ذات کا کوئی بندہ گنہگار بھی ہو تب بھی وہ قابل احترام ہے کسی نے نہیں صرف سیدوں نے آکر مجھے کہا کہ سادات جیسا بھی ہو اس کا احترام کرو۔ بھائی میں امام موسییٰ کاظم کے بیٹے زید کا کہ جس نے کئی لوگوں کے گھر جلائے اور امام رضا (ع) نے اس کی بڑی سرزنش کی اور زید النار کا لقب پایا جسیے شخص کی عزت نہیں کر سکتا۔ نبی کا بیٹا تو نوح کا بیٹا بھی تھا  لیکن اللہ نے قرآن میں نوح سے کہا یہ تمہاری اولاد نہیں اس  نے "غیر صالح " کام کیا ہے۔ میں اس کی صرف نبی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے احترام نہیں کر سکتا، نبی کا بیٹا تو قابیل بھی تھا لیکن میں اس کا احترام نہیں کرسکتا، میں آج کل کے ایسے پیروں مرشدوں کہ جو سادات کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں کی عزت نہیں کرسکتا ، جناب میں پاکستانی تاریخ میں کرپٹ سید سیاستدانوں اور سید ڈکٹیٹرز کا احترام نہیں کرسکتا کیوں کہ انہوں نے میرے ملک کو لوٹا ہےااور کئی سید فلمی  اداکار و اداکاراؤں کا احترام نہیں کرسکتا کیونکہ وہ معاشرے میں فحاشی پھیلا رہے ہیں ، بھائی میں ان سیدوں کا بھی احترام نہیں کر سکتا جو علی (ع) کو اللہ کہتے ہیں۔۔۔ میرے محلے میں بیٹھے سید سارا دن چرس پیتے ہیں میں ان کا احترام نہیں کرسکتا۔
 جناب میں ان سادات کا احترام کروں گا جن میں مندرجہ بالا خصوصیات ہوں گی، میں ان کیلئے جان دوںگا جو ظاہری طور پر گناہ کبیرہ میں مبتلا نہ ہوں ۔ جو سرعام گناہ کرتا پھرے میں اس کا احترام نہیں کروں گا چاہے سید ہو، غیرسید ہو، عالم ہو، وڈیرا ہو، "بھائی" ہو، سائیں ہو، ملک ہو، چودھری ہو یا چاہے مجتہد ہو۔۔۔ احترام اس کا جو علی (ع) و زھرا (س) کا ہو۔
عزت و احترام اچھے انسان کا ہوتا ہے اچھی ذات والے کا نہیں!۔
یاعلی!
۔
محمد زکی حیدری و آب

بدھ، 20 مئی، 2015

"جناب ماحول بھی دیکھا کریں"

تحریر: محمد زکی حیدری و آب

ہر نبی  نے جب دین کا پیغام پہنچایا تو اسے پتھر لگے اسے لعن طعن کیا گیا مگر انہی انبیاؑ کے دین کی "حق" بات منبر نشین بتاتا ہے تو لوگ واہ واہ کرتے ہیں؟ کیوں؟ کیونکہ انبیا وہ کچھ بتاتے تھے جو "حق" ہو اور منبر نشین (اکثر) وہ کچھ بتاتے ہیں جو عوام سننا چاہتی ہے۔۔۔
میرے کسی محترم دوست نے بتایا کہ ایک ذاکر نے بھرے مجمعے میں کہا جب علی (ع) آسمان پر گیا تو اللہ بن گیا جب اللہ زمین پر آیا تو علی (ع) بن گیا۔۔۔ میں ان لوگوں کا ان ان پڑھ معصوموں کا، ان بھولے بھالے شیعوں کا، ان محبتِ اہلبیت سے سرشار لوگوں کا جنہوں نے ذاکر کی اس بات کو حق سمجھ کر اس پر واہ واہ کی ہوگی، کا سوچ رہا ہوں!۔۔۔ ان کا کوئی قصور نہیں وہ سارا دن محنت مزدوری کرتے ہیں، مجلس کو عبادت سمجھ کر آتے ہیں،قرآن و حدیث و تاریخ و منطق کا علم انہیں نہیں، انہیں ذاکر جا کر فضول باتیں بتا کر ان کے عقائد خراب کرتا ہے تو ہم لوگ جو کہ سب کچھ جانتے ہیں کیا کر رہے ہین؟؟؟ ذاکروں کو وظیفہ نہیں ملتا، ایران میں، نجف میں ذاکروں کا کوئی حوزہ علمیہ نہیں کہ جس سے ہر سال سینکڑوں ذاکر فارغ التحصیل ہوکر نکلیں،  لیکن ان کے کام دیکھیں ذرا! آپ کی سوچ میں بھی نہیں تھا کہ  شہادت ثلاثہ جیسا خرافاتی عقیدہ اتنا مضبوط ہوجائے گا کہ بات ہمارے مجتہدین تک جاکر پہنچے گی۔۔۔۔ ذاکر کا پھیلایا ہوا کچرا ہمارے مجتہد تک جاتا ہے لیکن ہمارا "کچرا صاف" کرنے کی کوئی رپورٹ مجتہدیں تک نہیں جاتی کہ جناب فلاں عقیدۂ باطل کو، فلاں خرافاتی رسم ورواج کو ہم نے پاکستان سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔  نہیں ہم "نئی چیز" لانے سے ڈرتے ہیں چاہے وہ حق ہی کیوں نہ ہو ہم منبر پر بیٹھ کر بیبی صغریٰ (س) کو بیمار کہتے ہیں کیونکہ وہ عوام میں بیمار مشہور ہیں جو مدینہ میں رہ گئیں تھی، کوئی بتانے آئے  بھی تو ہم سب مل کر اسی کی مخالفت کرتے ہیں کہ بھائی "ماحول کو بھی دیکھا کرو" ، کئی سیدزادیوں کے قرآن سے نکاح کردیئے گئے کنواریاں رہ گئی، اور اس طرح دیگر ذاتوں میں بھی لڑکیوں پر یہ ظلم روا ہے، سیدزادی کا نکاح غیرسید سے جائزہونے کا عوام کو نہیں بتاتے کیونکہ سادات ناراض ہوں گے "ماحول کو بھی دیکھا کریں" ہم مہندی کی جگ ہنسا رسم پر بات نہیں کرتے کیوں کہ "ماحول کو بھی دیکھنا پڑتا ہے" آپ مجھے بتائیے اس عالم دین کا کیا کہ جو 20 سال 25 سال سے منبر کا مشہور خطیب ہے اور ہے بھی حوزہ علمیہ کا پڑھا اس نے آج تک اپنے کیریئر میں کتنی خرافات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھیکنے کی بات کی ؟ اس نے جہالت کے اندھیرے میں گھرے ہوئے معاشرے کو اوپر لانے کیلئے کیا اقدام کیا؟
ہم جب بھی اصلاح کی بات کرتے ہیں ہمیں یہ کہا جاتا ہے "ماحول کو بھی دیکھا کرو" کیا حسین (ع) کو آپ کے  جتنی بھی عقل نہ تھی کہ ماحول کو دیکھتے، مستورات لے کر چلے گئے، کاش پیغمبر (ص) کو بھی جاہل عقائد کا لحاظ ہوتا، ابولہب، ابوسفیان، ابوجہل کی "فیلنگس" (جذبات و عقیدتمندی) کا احترام ہوتا،  بتوں کو بیشک نہ مانتے لیکن چپ رہتے دوسروں کو تو نہ بتاتے، منبر پر چڑھ کر بولے کہ تمہارے عقیدے غلط، تمہارے باپ داد بھی غلط اور 360 بتوں میں سے ایک کا بھی لحاظ نہ کیا اٹھا کر سارے کے سارے ٹوڑ دیئے بلکل "ماحول کا لحاظ " لوگوں کی "عقیدتمندی" کا لحاظ نہ کیا ۔۔۔ آج خرافات کے بت جنہوں نے ہماری عوام کو ذاکروں کی دولت کی حوس کے چنگل میں پھنسا کر انہیں اسلام ناب محمدی و امامت ناب علوی سے دور کر دیا، کے خاتمے کی بات آتی ہے تو تعداد میں کثیر ہونے کے باوجود ہمارے مدرسے کے طلاب منبر پر "مصلحت " سے کام لیتے ہیں جیسا چلتا ہے چلنے دو! "ماحول خراب نہیں کرنا" 
ذاکر نے مجھے سکھایا ہے کہ عوام میں ہاضمے کی قوت ہے منبر سے جو بھی بتایا جائے عوام مانے گی لیکن بتانے والے ذاکر سینہ تان کر اپنی فضول باتیں، باطل عقائد بتاتے ہیں لیکن ہم حقیقی عقائد یہ بہانا بنا کر نہیں بتاتے کہ "ماحول خراب ہوگا" پاکستان اتنا بڑا ملک نہیں آپ اپنی تعداد دیکھو قم دیکھو نجف دیکھو، ابھی جو تحصیل علم میں مصروف ہو اور جو فارغ التحصیل ہو اپنی تعداد دیکھو اور آپ منبروں پر جاتے بھی ہو لیکن پھر بھی چند ذاکر اپنے عقیدے ببانگ دہل بیان کرتے ہیں  آپ ڈرتے ہو، آپ اپنا عقیدہ پیش کرتے وقت مصلحتیں برتتے ہو ، اگر آپ ان سے زیادہ فعال ہوتے تو معاشرہ بہتری کی طرف جاتا ہوا نظر آتا مگر حالات کچھ الگ ہی کہانی بتاتے ہیں،!  ۔ "بھائی معاشرہ ابھی ان باتوں کیلئے سازگار نہیں۔۔۔" اچھا بھائی کب سازگار ہوگا؟ کون سازگار کرے گا؟ آج تک آپ نے اسے سازگار بنانے کیلئے کیا اقدام کیئے ہیں؟ ہمیں روز غالیوں کی طرف سے کوئی نہ کوئی "خوشخبری" ملتی ہے مگر "عالیوں" کی طرف سے چپ۔۔۔! اور بات دور دور تک پھیل جانے کے بعد دفاع!
امام خمینی (رح) کے حالات زندگی پڑھیئے بزرگ مخالف ہوگئے، پوری روحانیت ان کے خلاف کھڑی ہوگئی کہ جناب "ماحول انقلاب کیلئے سازگار نہیں" امام ڈٹے رہے، صعوبتییں برداشت کیں، جلا وطن ہوئے امام کے فلسفے کے درس پر قم میں پاندی لگی، امام چھپ کر درس دیا کرتے۔ آخر جیت کس کی ہوئی "ماحول کا لحاظ" کرنے والوں کی یا نعرۂ حق بلند کرنے والے کی؟ 1963 میں آمریکا میں کالوں سے ہاتھ ملانا بھی جرم سمجھا جاتا تھا اس دور میں ایک کالا وکیل ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ آتا ہے اور کہتا ہے "میں دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل قریب میں آمریکا میں کالے اور گورے نوجوان ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گھومیں گے" اور آج دیکھیئے۔۔۔ میں جرآت و استقامت کے ساتھ حق کیلئے ڈٹ جانے والوں کی دسیوں مثالیں پیش کر سکتا ہوں چاہے وہ آئرلینڈ کا بابی سینڈس ہو، الجزائر کا احمد بن بلہ ہو، افغانستان کا شاہ مسعود ہو، کیوبہ کا کاسترو ہو، چی گوویرہ ہو، ہوچی منہ ہو یا کوئی اور۔۔۔ لیکن جن کے پاس حسین (ع) و زینب (س) جیسے انقلابی نمونے موجود ہوں انہیں کسی اور شخصیت یا "رول ماڈل" کی ضرورت نہیں۔
یاد رکھیں! ہم سب اگر متحد ہوکر عہد کرلیں کہ خرافات مٹاکر معاشرے کو باطل عقائد سے پاک کرنا ہے تو ایک میزائل بن کر تم اس باطل و خرافاتی عقائد کی عمارت کو تحس نحس کرسکتے ہیں، مگر میزائل بننے کیلئے ہمت چاہیئے جیسی ذاکر میں ہے، باطل پر ہوکر ہمارے لیئے روز نت نئے مسائل کھڑے کر دیتا ہے اور آپ ہو کہ "ماحول سازگار نہیں" ان کے لیئے ماحول سازگار ہے تمہارے لئے نہیں۔
قرآن چلا چلا کر کہہ رہا ہے : "وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ"   ترجمہ : اور حق کو باطل کے ساتھ خلط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ"   مجھے تو آپ یہ کہہ کر ٹال دوگے کہ یہ آیت اس کام پر دلالت نہیں کرتی ،اس کا ہمارے حالات پر صادر ہونا صحیح نہیں وغیرہ وغیرہ کیونکہ آپ "عالم" جو ٹھہرے لیکن جناب آگے بھی چلنا ہے جس امام زمانہ (عج) کی دال روٹی کھائی ہے اس کا حساب بھی دینا پڑے گا بھائی!
معاشرہ ہم لوگوں کا منتظر ہے جناب! ہمارے اندر صلاحیت بھی ہے لیکن ہم چپ ہیں صرف ذاکر کا دفاع کرتے ہیں اور پوری توانائی اسی میں صرف ہو جاتی ہے۔ آگے بڑھ کر حق بتائیں تا کہ ذاکر کی پوری زندگی گذر جائے اس کے دفاع میں لیکن وہ کبھی دفاع نہ کر پائے ، کیونکہ حق پر باطل کبھی غالب نہیں آسکتا۔ خدا را اٹھیں معاشرے کو اپنے ہاتھوں سے  اٹھا کر اوپر لائیں، آج بیج بوئیں شجر کی آبیاری آنے والی نسلیں کریں گی، ذرا حرکت تو کریں۔۔۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں جوان طبقہ آپ کا ساتھ دیگا اور جوان آپ کے ساتھ آگیا تو اگلی نسل آپ کی ہے۔ حق بولیئے آپ کو کس کا ساتھ چاہیئے اللہ (ج) آپ کے ساتھ ، محمد (ص) آپ کے ساتھ ، علی (ع) آپ کے ساتھ امام زمانہ (عج) آپ کے ساتھ ۔۔۔ پھر بھی آپ "معاشرے کے سرداروں، ملکوں، چوہدریوں، پیروں، مرشدوں اور وڈیروں"خوفزدہ ہو تو آپ جانیئے اور زیارت عاشورہ کا وہ جملا جانے " وَٲَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ ھُدیً ظَاھِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ " نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے۔ آپ حق کے امام کا ساتھ دیں گے لیکن وہ "ماحول کا خیال" کریں گے یا نہیں۔۔۔ یہ آپ ان کے آبا و اجداد کی زندگی پڑھ کر اندازہ لگائیں۔  حیف ہے ہم پر اتنے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن حق کہنے کہ بات آتی ہے تو "ماحول۔۔۔
آخری بات! مردہ مچھلی دریا کے بہاؤ کے ساتھ بہتی چلی جاتی ہے جب کہ زندہ مچھلی اپنی حرکت دکھا کر بہاؤ کے مخالف جاکر زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے آپ خود اپنے گریبان میں دیکھیں کیا آپ جاہل معاشرے کے بہاؤ میں بہتے چلے جا رہے ہیں یا اس سے خلاف جا رہے ہیں؟ اگر بہاؤ کہ مخالف ہو تو زندہ ہو نہیں تو افسوس کہ مردہ ہو اور مردہ سے امید لگانا فضول ہے۔ 
والسلام!

منگل، 19 مئی، 2015

بیبی فاطمہ صغریٰ (ص) کا کوفہ کی دربار میں خطبہ


(جی جی یہ وہی فاطمہ صغریٰ ہیں جنہیں  خطیب صاحبان مدینہ میں بیمار  حالت میں رہ جانے والی کہا کرتےہیں۔)

مترجم: محمد زکی حیدری و "آب"

زید بن امام موسیٰ کاظم (ع) اپنے والد سے اور ان کے والد امام باقر (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ فاطمہ صغریٰ (س) نے کربلا سے واپسی کے وقت کوفہ میں پہنچ کر یہ خطبہ دیا ۔

خدا کا شکر، اس کائنات میں موجود تمام ریت کے ذروں اور پتھروں کی تعداد اور ان کے اور عرش سے فرش تک موجود ہر چیز کے وزن برابر۔ اس کا شکر ادا کرتی ہوں اور اس پر ایمان رکھتی ہوں اور اس ہی پر توکل کرتی ہوں، اور گواہی دیتی ہوں کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد (ص) اس کا عبد اور پیغمبر ہے؛ اور گواہی دیتی ہوں کہ اس کے بیٹے کی فرات کے کنارے گردن کاٹی گئی جبکہ وہ ان سے نہ کسی کا قصاص رکھتے تھے نہ ہی انہیں کسی کے خون کی قیمت ادا کرنی تھی۔
پروردگار! میں تیری پناہ چاہتی ہوں، اس سے کہ میں تجھ پر جھوٹ باندھوں یا افتراء کروں، یا تمہاری طرف سے نبی (ص) کو دیئے ہوئے پیغام کہ لوگوں سے اپنے جانشین، علی ابن ابی طالب ، کی جانشینی کیلئے بعیت لو، کے بارے میں کچھ کہوں۔ اسی علی کہ جس کا حق چھینا گیا اور اسے بے گناہ مارا گیا، کی طرح کل کچھ زبان سے مسلمان لیکن دلوں سے کافر لوگوں نے اس کے بیٹے کو کربلا میں مار ڈالا۔
یہ قتل ان کے گلے میں ہے! کہ جنہوں نے نہ جیتے جی اور نا ہی مرتے وقت ان پر ظلم و ستم کرنے سے دریغ کیا، جب کہ تونے انہیں فضائل والا، پاکیزہ طبیعت ، خوبیوں اور نیکیوں کی وجہ سے جانا جانے والا اور اپنا قریبی بنایا تھا۔ خداوند! نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور نہ ہی کسی مذمت کرنے والے کی مذمت اسے تیری عبادت و بندگی سے روک سکی۔
تو نے اسے بچپن میں ہی اسلام سکھایا اور جب وہ بڑا ہوا تو تم نے اس کے فضائل بیان کئے۔ وہ اسی طرح تمہارے نبی (ص) کی خوشنودی کیلئے امت کو نصیحت کرتا رہا اس وقت تک کہ جب تک تو نے اس کی روح نہ قبض کرلی۔ وہ دنیا سے خائف وبے پرواہ اور آخرت کی طرف راغب اور اس کا مشتاق تھا اور تیری راہ میں دشمنوں سے برسر پیکار رہ کر جہاد کیا۔ تو اس سے راضی ہوگیا اور اسے برگزیدہ کرکے راہ حق کی طرف ہدایت کی۔
خدا کی حمد و ثناء کے بعد، اے کوفے والو! اے مکارو اور فریبکارو! خدا نے ہمیں تمہاری طرف بھیجا اور ہمارے توسط سے تمہارا امتحان لیا اور ہمیں امتحان میں سرخرو کیا۔ فہم و علم کو اپنی امانت بنا کر ہمیں سونپا، لھٰذا ہم ہی ہیں علم، فہم و حکمت کے خزانے اور دنیا کے چپے چپے پر ہم ہی حجت خدا ہیں۔خدا نے اپنی کرامت سے ہمیں بزرگی سے نوازا، اور محمد (ص) کے توسط سے ہمیں باقی لوگوں پر برتری عطا کی۔
تم نے ہماری تکذیب اور تکفیر کی، ہمارے خون کو مباح؛ ہم سے جنگ کو حلال اور ہمارا مال لوٹنے کو جائز سمجھا، ایسے جیسے ہم کوئی ترک یا کابلی اسیر ہوں!  چونکہ تم نے کل ہمارے جد کا قتل کیا اور تمہاری تلواروں سے ہمارے لیئے نفرت اور تعصب کا خون ابھی تک ٹپک رہا ہے، اور جو بہتان تم نے خدا پر باندھا اور جو مکاری و فریبی تم نے کی، اس سے تمہارے دل بڑے خوش اور مسرور ہیں لیکن جان لو! خدا سب سے بڑا تدبیر بنانے والا ہے اور وہ ہی سب سے اچھا منتقم ہے۔
تم ہماری قتل و غارت سے کسی خوش فہمی میں مبتلا مت ہونا کیونکہ یہ مصائب اس سے پہلے ہی قرآن میں بیان کئے جاچکے ہیں (اور اللہ ان کو جانتا تھا) اور یہ خدا کیلئے سہل و آسان ہے۔ "جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اسکا غم نہ کرو اور جو نفعہ تمہیں حاصل ہو اس پر خوش مت ہو کیونکہ اللہ بہانے بنانے اور منحرف ہوجانے والے کو پسند نہیں کرتا"۔
اے اہل کوفہ! تمہیں موت آئے! اب منتظر رہو کیونکہ کہ خدا بہت جلد غیب سے تم پر مسلسل لعنت اور عذاب بھیجنے والا ہے اور تمہیں اپنے کیئے کی سزا دینے والا ہے تم سے بعض کو بعض پر حاوی کرکے تم سے انتقام لینے والا ہے۔ اور قیامت کے دن یہ مظالم تم نے ہم پر ڈھائے ہیں ان کے بدلے ہمیشہ کیلئے جہنم کی دہکتی اور ہمیشہ رہنے والی آگ میں جلتے رہو گے۔ اللہ لعنت اللہ علی قوم الظالمین!
وائے ہو تم پر اے کوفے والو! تمہیں معلوم ہے کن ہاتھوں سے تم نے ہم پر تیر و تیغ چلائے؟ کس نیت سے تم نے ہم سے جنگ کی ٹھانی؟ کن قدموں سے چل کر تم ہم سے جنگ کرنے آئے؟ خدا کی قسم تمہارے  دلوں پر زنگ چڑھ چکا ہے، تمہارے جگر سخت و پتھر کے ہوگئے ہیں، اور تمہارے دل علم و دانش سے خالی ہو گئے ہیں اور تمہارے کانوں اور آنکھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔
اے کوفے والو! تمہیں موت آئے! کیا تم جانتے ہو کہ تم نے نبی (ص) کی اولاد کا خون بہایا ہے اور اس کے بھائی علی ابن ابی طالب اور اس کی آل و عترت سے دشمنیاں کیں، اور تم میں سے بعض نے بڑے فخر سے کہا کہ " ہم نے علی اور اولاد علی کو ہندی تلواروں اور نیزوں سے مارا، اور اس کی اہل بیت کو ترک اسیروں کی مانند اسیر بنا دیا۔
لعنت ہو تم پر کہ ان کو قتل کرکے خوش ہوتے ہو جنہیں خدا نے ہر نجاست و پلیدی سے پاک و پاکیزہ  کہا! اے بے شرم انسان شرم کر! اور اپنی اوقات میں رہ جیسے تیرا باپ رہا! یہ سب اسی کی وجہ سے ہے جس تجھے بھیجا اور یہ منصب تجھے دیا۔
وائے ہو تم پر! کیا ہم سے اس لیئے حسد کرتے ہو کہ خدا نے ہمیں برگزیدہ کیا؟ آخر ہمارا گنا ہ ہی کیا تھا کہ ہمارے دریا (سکون والی زندگی) میں طغیانی ڈال دی گئی، اور تمہارے دریا میں سکون ہے۔ یہ فضل خدا ہےاور وہ بڑے فضل والا ہے، وہ جسے عطا کرنا چاہتا ہے کرتا ہے اور جسے اپنے نور سے محروم کرکے تاریکی کی ظلمت میں جھونک دینا چاہے جھونک دیتا ہے۔۔۔
جب بیبی کا خطبہ اس مقام پر پہنچا تو لوگوں نے زور زور سے رونا شروع کیا اور روتے کہا:" اے پاک و پاکیزاؤن کی بیٹی! تم نے ہمارے دلوں میں آگ لگا دی اور جگر کو غم و اندوہ کی آگ سے جلا کر رکھ دیا اب بس کرو۔۔۔۔" یہ سن کر بیبی (س) خاموش ہوگئیں۔


پیر، 18 مئی، 2015

بھولے شیعہ مولوی اور ایک اور "چائنہ کی دلیل" ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کی غلط دلیل





کیا سورہ اعراف کی آیت نمبر 29 ہاتھ کھولنے پر دلالت کرتی ہے؟

تحقیق : محمد زکی حیدری و آب

میرے طوطے اڑ گئے! کل ہی میں نے دیکھا کہ پاکستان کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین سے ایک نجی چینل پر پوچھے گئے ٹیلفونک سوال کہ "شیعہ ہاتھ کھول کر کیوں نماز پڑھتے ہیں؟" کا جواب دے رہے تھے، پہلے تو ان عالم صاحب نے کہا کہ جناب یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے اہل سنت ولجماعت کا ایک فرقہ، فرقۂ مالکی بھی ہاتھ کھول کر پڑھتے ہیں وغیرہ وغیرہ اس کے بعد ان عالم صاحب نے ایک چونکا دینے والی بات کی فرمایا قرآن میں صاف صاف لکھا ہے کہ:  قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَ أَقيمُوا وُجُوهَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَ ادْعُوهُ مُخْلِصينَ لَهُ الدِّينَ کَما بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ سورہ اعراف آیت 29 جس کا مطلب ہے کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور تم ہر سجدہ کے وقت و مقام پر اپنے رُخ (کعبہ کی طرف) سیدھے کر لیا کرو اور تمام تر فرمانبرداری اس کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کیا کرو۔ جس طرح اس نے تمہاری (خلق و حیات کی) ابتداء کی تم اسی طرح (اس کی طرف) پلٹو گے۔  کَما بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ مطلب جیسے اس نے تمہیں بنا کر بھیجا تھا ایسے ہی پلٹائے گا لھٰذا اس سے صاف صاف چابت ہو گیا کہ ہاتھ کھول کر نماز پڑھنی چاہیئے کیوںکہ ہم آئے تھے ہاتھ کھول کر جائیں گے بھی ہاتھ کھول کر۔۔۔ لو جی کرلو گل!
میں بڑا حیران ہوا کیونکہ میں اپنے چچا زاد بھائی کے یہاں تھا اس سے پوچھا تمہارے پاس ترجمہ والا قرآن ہے کہنے لگا ہاں تفسیر رکھی ہے پوری میں نے تفسیر نمونہ دیکھی اس میں  خلقت کے متعلق بات تھی دور دور تک کہیں ہاتھ باندھنے تو کیا ہاتھ تک کا ذکر نہیں تھا۔۔۔ میں لمبی آہ بھری کہ اگر میں شیعہ ہوتا تو فیسبک پر اور انٹرنیٹ پر شیعوں کے عالم کی اس ویڈیو کو ایڈٹ کرکرے اس میں تمام مفسریں کے ترجمے ڈال کر شیعوں کو ایسا ذلیل کرتا کہ یا د رکھتے مگر افسوس کہ میں خود شیعہ تھا۔ لھٰذا میں نے سوچا کہ ایک مضمون لکھ کر ثابت کروں کہ اگر دلیل نہ ہو تو تحقیق کیا کریں لازمی نہیں کہ الٹی سیدھی دلیلیں دے کر خودکو اور ملت کو دشمنوں کے سامنے شرمندہ کرنے کے جواز مہیا کرتے پھریں۔
لیجئے مشہور مفسریں کی اس آیت کی تفاسیر پیش خدمت ہیں:

آیت اللہ مکارم شیرازی صاحب تفسیر نمونہ

یہ آیت معاد جسمانی کی حقیقت بیان کرنے کیلئے مختصر اور بہترین آیت ہے کجس میں اللہ فرماتا ہے: جب تمہارا جسم خلق ہوا تھا س پر غور کرو،، یہ جو تمہارا جسم جس میں پانی زیداہ اور دوسرے اجزات کم ہیں اور ان سب سے مل کر یہ بنا ہے، پہلے یہ کہاں تھا؟ جو پانی کے قطرے آپ کے جسم میں ہیں یہ ضرور کسی سمندر یا دریا کا حصہ ہوں گے پھر گرمی کی وجہ سے خارات کی شکل اختیار کرکے بادل بن گئے اور پھر زمین پر برسے  اور ان میں سے گندم وغیرہ بنی جس سے ہمارے جسم کی نشونما ہوئی اور جسم کے ذرات جو آج مھلول صورت میں آپ کے جسم میں کارفرما ہیں کل چھوٹے چھوتے ذرات تھے۔ یہی انسان پھر امین میں جاتا پہے اورگل سڑ کر انمین کی کھاد بنتا ہے اور پھر اسی سےب گندم و سبزیاں زمین سے نکلتی ہیں۔ تو اس لیئے قرآن نے کہا تم جیسے بنائے گئے ہو اسی طرح تمہیں لوٹایا جائے گا۔


تفسیر نور قرائتی

 کَما بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ معاد کیی جانب توجہ اور ایمان  انسان اخلاص کی عامل ہے اور تمہیں ذرات سے بنانا معاد کی دلیل ہے.
اس کے علاوہ المیزان، مجمع البیان وغیرہ سب میں معاد پر بات کی گئی ہے۔ یہاں ان کے حوالے نہیں دئے اختصار سے کام لینا تھا۔
یہ تفسیریں تو میں نے اس لیئے دیں کہ معلوم ہو کہ آیت تھی کس بارے میں۔ لیکن کوئی اندھا بھی اسے غور سے پڑھے گا تو اس میں کہیں بھی ہاتھ کھول کر یا باندھ کرنماز پڑھنی کی تک نہیں بنتی۔۔۔ بھائی جیسے آئے تھے ویسے جاؤ گے مطلب ہاتھ کھول کر نماز پڑھو۔۔۔ ہائے ہائے !

جناب میری بات نوٹ فرما لیں اللہ کا شکر ہے شیعہ اپنے عقائد کا دفاع کرصحیح آیات احادیث و روایات سے کر سکتے ہیں احادیث اہل سنت سے ثابت ہے کہ حضور تکبیر کے بعد ہاتھ زانوؤں سے چپکا دتے تھے وغیرہ وغیرہ اب یہ تو الگ ہی بحچ ہے لیکن بھائی میرے سورہ اعراف کی 29 آیت پر غور کرو لیکن جو اس میں ہے اسے سمجھو بڑی زبردست آیت ہے لیکن اس میں نہ ہاتھ اور نہ اس کے کھولنے کا ذکر ہے معاد پر بھتریں آیتوں میں سے ایک ہے۔




ہفتہ، 16 مئی، 2015

کیا بیبی صغریٰ (س) مدینے میں بیمار تھیں، یا کربلا میں امام حسین (ع) کے ساتھ موجود تھیں


                  جمع آوری: محمد زکی حیدری و آب

جناب عالی جیسا کہ ہم پاکستان میں مروجہ عقائد کہ جو اصل حالات و واقعات سے متفاوت ہیں پر بحث کر رہے تھے اور ہم نے شہزادہ قاسم کی شادی اور مہندی، اس کے بعد امام حسین (ع) کی بیٹیوں کی تعداد اور بیبی صغریٰ کو "صغریٰ" کیوں کہا جاتا ہے وغیرہ کو مستند کتب کے حوالے دے کر ان کی حقیقت بیان کی۔ اس مرحلے میں ایک اور مشہور قصے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں وہ یہ کہ کہا جاتا ہے، بلکہ ببانگ دھل کہا اور مصائب میں پڑھا جاتا ہے کہ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) مدینہ میں بیمار تھیں امام انہیں چھوڑ آئے تھے، اور اس کو مزید ڈرامائی شکل دے کر یہ تک کہا جاتا ہے کہ بیبی صغریٰ نے اپنے بابا کو خط بھی لکھا اور وہ خط کا انتظار کیا کرتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔  

کیا بیبی فاطمہ صغریٰ مدینہ میں تھیں؟ یا کربلا میں امام (ع) کے ساتھ؟

یہ بیبی کربلا میں موجود تھیں اور وہاں کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ہم نے ان کو اس کا صلہ یہ دیا کہ انہیں کربلا جیسی فتح مبین میں شرکت سے ہی محروم کردیا کسی سے اس کا حق چھیننا اگر طلم ہے تو ہم سب سے بڑے ظالم ہیں کہ حسین (ع) کی اولاد کو اس کے حق سے محروم کیا۔ یہ تو خلفاء کی سنت ہیں میاں آپ کب سے غاصب بن گئے؟ اچھا معلوم نہیں تھا تو خیر ہے لیکن اب جب میں معتبر کتب سے ثابت کر دوں تو آپ کا فرض ہے کہ اس معظمہ بیبی (س) نے کربلا میں جو قربانیاں دیں ان کا اجر تو انہیں نہیں دے سکتے لیکن ان کی قربانیوں کا اقرار تو کریں اور دنیا تک ان کی مظلومی کا پیغام پہنچائیں۔ آپ سے کوئی دو رکعت نماز کا ثواب چھین لے تو آپ کو لگتا ہے اس نے آپ کے ساتھ نا انصافی کی ہے، لیکن آپ بیبی فاطمہ صغریٰ (س) سے کربلا میں شرکت جیسا عظیم ثواب چھین رہے ہیں اوراوپر سے محبت کا دعویٰ  بھی کرتے ہیں۔ عجیب ہے یہ محبت ۔۔۔۔ خیر آٌپ کا قصور نہیں آپ کو منبر نشینوں نے یہ بتایا ہے۔۔۔
فاطمہ بنت الحسین (س) یعنی فاطمہ صغریٰ (س) سے مروی رویات دیکھنے کا شوق رکھنے والے علامہ ہادی امینی مرحوم کی کتاب فاطمہ بنت الحسین (ع) کا صفحہ نمبر 80 سے لیکر 112 تک کا مطالعہ کریں، جس میں بیبی (س) سے درجنوں رویات دسیوں کتابوں کے حوالہ جات سے نقل کی گئی ہیں۔ اور شیخ جعفر نقدی کے بقول جو چیز ان معصومہ (س) کے کمال پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بابا اور پھوپھی زینب (س) سے  روایت نقل کی ہے۔ اور شیعہ سنی علماء نے آپ (س) سے نقل ہونے والی روایات پر اعتماد کیا ہے ۔ ان کی عظمت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ کتاب "اصحاب سیر و مقال' میں لکھا ہے کہ امام حسین (ع) نے آخری وقت میں آپ (س) کو وصیت نامہ دیا جو انہوں نے امام سجاد (ع) کو انکی صحتیابی کے بعد دیا۔

فاطمہ صغریٰ وصیت دار امام حسین (ع)

امام جعفر صادق (ع) سے فرماتے ہیں:
دعا ابنۃ الکبریٰ فاطمہ نبت الحسین (ع) فدفع الیھا کتاباٍ ملفوفا ووصیۃ طاھرۃ
امام حسین نے میدان جنگ کی طرف روانہ ہونے سے قبل اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کو بلایا اور وصیت نامہ ان کے سپرد کیا۔
یہ وصیت نامہ مندرجہ زیل کتب میں درج ہے:
1-      اصول کافی
2-      بصائر الدرجات
3-      قمام ذخار ، فاطمہ کبریٰ ، ص 450 تا 453
4-      ناسخ التواریخ ج 2 ص: 342
5-      منتخب التواریخ باب خامس ص 173
6-      جلال العیون
7-      فاطمہ بنت الحسین (ع) علامہ ہادی امینی ص 13
8-      فاطمہ بنت الحسین جعفر نقدی ص 9

کربلا سے مدینہ واپس آتے ہوئے بھی اس معظمہ (س) نے زینب  (س) اور ام کلثوم (س) کے ساتھ خطبے دیئے ۔

بیبی فاطمہ صغریٰ (س) کا کوفہ میں خطبہ

سید ابن طاؤس نے زید بن موسیٰ کاظم (ع) سے یہ خطبہ اپنے والد محترم امام موسیٰ کاظم (ع) سے ان الفاظ میں  نقل کیا ہے :
روی زید بن موسیٰ قال حدثنی ابن عن جدی علیہ السلام : کطبت فاطمۃ الصغریٰ بعد ان وردت من کربلا فقالت:۔۔۔۔
خطبہ طولانی ہے لھٰذا ان کتب کے حوالے پیش کر رہے ہیں ان سے رجوع کیا جائے:
1-      ناسخ التواریخ ج 6 ، جز 3، ص: 42
2-      تطلم زہراء ص 295
3-      اسرار الشہادۃ ص : 479
4-      ریاض الشھادۃ ص ج: 2، ص: 285
5-      بحار الانوار ج: 45، ص: 110
6-      معالم المدر ستین ج :3، ص: 183
7-      جلال العیون ج 2، ص 504
8-      الدمعۃ الساکبۃ ج 6، ص 38
9-      مقتل حسین ص 313
10-  لہوف سید ابن طاؤس ص 194
11-  قمام زخار، ج 2، 520
12-  لوائج الاشجان ص 202
13-  منتخب الطریحی ص 122
14-  زینب الکبریٰ ص 56
15-  تنفیح المقال ج 1 ص 471
16-  نفس المہموم
17-  الکامل فی التاریخ
18-  تاریخ طبری
19-  جمرۃ الانساب العرب ص 55
20-  مقاتل الطالبین
21-  وفیات الاعیان ج 3 ص 271
22-  جامع الرواہ ج 1 ص 343
23-  فاطمہ بنت الحسین ص 26
24-  مثیر الاحزان

بھیا امام حسین (ع)  اور اس کی عاشورہ کے ذکر میں بہت کچھ ذاکروں کا بنایا ہوا تھا اور جو "علماء کرام " آئے انہوں نے بھی زحمت نہ کی کہ آپ کو حق بتائیں۔ بس جیسا چلتا ہے چلنے دو!  پہلی و دوسری محرم کو بیبی بیمار، پردیسی وغیرہ کا مصائب پڑھ کر ہمیں خوب رلاتے ہیں اور بیبی (س) کے عورت ہو کر دشمن کو للکارنے اور اس کی دربار کو اپنے خطبے سے لرزانے کی عظیم عبادت کا بتا کر ہمیں رلانے کے ساتھ ساتھ ہماری ماں بہنوں کیلئے ایک عظیم نمونہ عمل پیش نہیں کرتے۔

افسوس!

میرے جوان دوستو! ایک عظیم بیبی، ایک دلیر، با ہمت بیبی، جو میدان جنگ میں دشمن سے برسر پیکار ہے اسے بیمار بنا کر پیش کردینے سے زیادہ اس سے کیا دشمنی کی جاسکتی ہے؟ وہ معظمہ اپنی چادر لٹا کر جن لوگوں کیلئے دشمن کی درباروں میں جاکر خطبے دیتی ہے انہی لوگوں نے اسے بیماری کے بستر پر محدود لکھا ۔۔۔۔ کیونکہ رونا ہے! باپ سے دور رہنے والی بیٹی کا "سین" نہیں تھا تو ایک "سین" کا اپنے ڈرامے میں اضافہ کردیا گیا تا کہ زیادہ سے زیادہ روئیں لوگ۔۔۔ کربلا صرف رونے کا نام نہیں کربلا مقابلے کا نام ہے۔ یہ سیاہ کربلا تمہیں دی گئی ہے اصل کربلا سرخ ہے اصل کربلا کونے میں بیٹھ کر رونے والوں کی نہیں سوکھے گلے اورسوکھی کمزور زبانوں سے دشمن کے ایوانوں کے در و دیوار ہلا کر رکھ دینے والے عظیم مجاہدوں کی عملی داستان ہے۔۔۔ ہم نے صرف کربلا سے سیاہی لی ہے! سرخی لیتے تو آج چند بدمعاش ہم پر غالب آکر ہماری ماؤں کی گود نہ اجاڑتے۔۔۔ ان بدمعاشوں نے ہم سے کیا کیا نہ چھینا۔۔۔ ہمارے وجود کے گرد خونخوار گیدڑوں کی طرح آج بھی منڈلا رہے ہیں اور جہاں کوئی معصوم ملا اسے لپک کر اپنی تشنگی خون کو جلا بخشی، کراچی روشنیوں کا شہر سے "بَلی چڑہنے والوں کا شہر" بن گیا، کوئٹہ میں عقیق کی انگوٹھی پہننے سے ڈر لگتا ہے، نعرے حیدری کا نعرہ لگاؤ تو نعرے کی آوز ختم ہونے سے پہلے گولی چلتی ہے یہ سب ہمارا تھا ، یہ کراچی کوئٹہ ہمارے تھے لیکن آج۔۔۔ اور ہم۔۔۔  ہم کل بھی روئے تھے جنازے دیکھ کر اور آج بھی بس روہی رہے ہیں، کیونکہ رونے سے جنت ملتی ہے بس رو ۔۔ گریہ کرو گھر جاؤ۔۔۔۔ عارف الحسین حسینی (رح) سے لیکر سبط جعفر (رح) تک ہر جنازہ اٹھایا روئے، رونے والوں نے جنت کمالی، رونے کی شکل بنانے والوں نے بھی جنت کما لی۔۔۔۔ آپ کو ایسی جنت مبارک ہو جو لٹی ہوئی چادروں اور دشت میں پڑے بے سرو ساماں لاشوں سے صرف رونے کا درس لے کر ملتی ہو۔
 مجھے خبرداری، احتیاط کے پیغام ملنا شروع ہوگئے ہیں مگر میں سرخ کربلا کا ماننے والا ہوں مجھے سرخی پسند ہے، میرا کفن حسین (ع) کے پھٹے پیراہن کی طرح سرخ ہو بجائے اس کے کہ صرف میرے مولا (ع) کی آہنی ضریح سے مس ہوا ہوا ہو۔  
"جو شہید ہوگئے انہوں نے حسین (ع) کی سنت پر عمل کیا ، جو رہ گئے وہ زینب (س) کی سنت پر عمل کریں۔" ' (جس کا یہ قول ہے اسے نامعلوم سمجھا جائے)

والسلام

جمعرات، 14 مئی، 2015

Mother (Speech for my little nephew Mehdi)


 In the name of Allah the Merciful and the Beneficent

By: Muhammad Zakki Haidery & Aab
.
Wars! There have been a number more or less than 14000 deadly wars that have taken place in the history of the mankind, besides other matters of conflict we come across some wars that took place for women! May it be Mahabartha for India's Droopati; or for Troy's Helen; or Cleopatra of Egypt etc. In all of these wars the bone of contention was a young beloved girl. But unfortunately we find no war for Mother! Yes there has been not a single war that has taken place for Mother. That’s why I have chosen this topic and I am gonna (going to) prove that no beautiful damsel can match a mother!
Mother is Mother… it is bank where we deposit all over grieves and sorrow, a tree that provides us shadow from the scorching sun beams of our worldly affairs; no matter how delicate a creature may be in its essence but it can never be a match to the heart of a mother…  have you ever realized why is mother so loving and affectionate? Why is she so caring? Why she is always worried about us? Han? It is because you are a part of her body detached from his body; you are an organ of her body! We all love our body organs or don’t we? Yes we do! We feel pain if our finger is twisted or broken, we feel restive (be aaraam) when any organ of our body is hit by something, and we protect our body organs from sunlight, from rain, from dust, from every thing that has an ill effect on our organs. We care our organs… similarly mother cares her organs and her organs are her children! You love your nose, eyes, head, face etc but mother doesn’t care about the organs that are attached to her body but she cares for those organs that are detached from her body and that’s We, her children!
What is mother? Let me tell you a story of Hazrat Mossa a.s and only then would you realize how respected and honored a mother is in the eyes of Allah (swt). Moosa (a.s) asked Allah "O Allah who would be my companion in Paradise?"  Allah (swt) told him that a butcher would be his companion in Paradise. Moosa (a.s) takes on a search to find that butcher, having found him, Moosa (a.s) secretly monitored his daily activities as to know what was special about him that he was made his companion in paradise. Moosa (a.s) noticed that the butcher sells meat and does nothing special during his work but when it was dusk he closed his shop and headed towards his home. Moosa (a.s) followed him. When butcher reached his home he approached to a hammock in which a very aged woman was sleeping. He then picked her up in his arms and fed him with his own hands. At the end of all this Moosa (a.s) noticed that the aged woman uttered few words and the butcher smiled and laid her back in that hammock. Moosa (a.s) now went to the butcher  and asked him about that aged woman. Butcher told Moosa (a.s) that it was his mother. And Moosa (a.s) then asked about the words she uttered. The butche said:" when ever I serve her she becomes happy and says may Allh (swt) make you Moosa's companion in Paradise"…
Thats is mother! Serve your mother because Allah (swt) has led Jannat under the feet of the mother, remain on the feet of the mother and you are not living in this world you are in Jannat… do you need any thing more…? I can find tears in the eyes of those who have no mother! Those of my brothers and sisters having no mother should keep in mind that every mother is your mother! Believe me this word "mother" has power to create an uncreated relation! If you don’t believe me just go and check  it by yourself, go to a mother of your friend and call him "Ami" and then see how she reacts! This word has an immense emotional power dears! Go and do it! You think you are motherless but there are many mothers who are deprived off of their children, don’t they need children to call them mother? Go to them and call them mother, only then would u realize that Mehdi Raza Faizi was true!
Waaslam wa rahmatullah