منگل، 12 مئی، 2015

سیادت (سید ہونا) و شفاعت


تحقیق: محمد زکی حیدری و "آب"

پاک و ہند میں کچھ سادات کرام جو کہ بیشک نبی (ص) سے نسبت کی وجہ سے محترم ہیں لیکن انہوں نے اس محترم ہونے کو اپنا رنگ چڑھا کر، صرف سیادت کو ہی اپنی نجات کا وسیلہ بنا لیا اور ایسی عجیب باتین کرنا شروع کردیں کہ جن سے ان کی جہالت اور انا پرستی کے علاوہ کچھ ظاہر نہیں ہوتا۔۔۔ جناب بیشک اسلام میں  سادات کے احترام میں  روایات ملتی ہیں لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کیا پڑوسیوں کے حقوق، احترام، لحاظ، عزت کی روایتیں نہیں ملتیں؟؟؟؟؟ کیا استادوں، مزدوروں، طالب علموں وغیرہ کے احترام وٖفضیلت کے متعلق احادیث و روایات نہیں ملتیں؟ کیا پڑوسیوں کے بارے میں رویات ملنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ افضل اور سب ارضل؟ یا پھر ان کے احترام میں  آنے والی رویات کو بنیاد بنا کر وہ دعویٰ کریں کہ انہیں جہنم کی آگ چھو تک نہیں  سکتی۔  عجیب ہے! روایات آئی ہیں بھائی ہمارا احترام کرو۔۔۔ کیوں کریں بھائی؟ میرا پڑوسی بھنگ پیتا ہو، چرس پیتا ہو، موالی ہو، بے نمازی ہو اور میں جب اس کے خلاف کچھ بولوں تو مجھے میرا پڑوسی رویات و احادیث لا کر دکھا دے کہ میاں یہ لو نبی (ص) نے تو ہمارے احترام میں یہ یہ کہا اور آپ ہیں کہ ہم سے اس طرح پیش آ رہے ہیں۔۔۔۔ کیا میرے پڑوسی کی یہ توجیہ درست کہلائے گی؟
اسی طرح سادات کے احترام میں بھی روایات آئی ہیں جناب لیکن عمل کے ترازو میں تولا جائے گا پھر احترام ہوگا خالی روایات کا آنا سادات کو محترم نہیں کرتا میں خود کو سید  امام خمینی و سید علی خامنہ ای وغیرہ کے قدموں کی دھول سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن اسی طرح بے نمازی سید کو بے نمازی کہوں گا، چرسی سید کو چرسی کہوں گا، قرآن کی آیات کا انکار کرنے والے کو منکر کہوں گا، نماز کے خلاف بولنے والے پر اس کی ذات کے متعلق آئی روایات کے قطع نظر اسے بے نمازی کہوں گا۔
اب میں اپنے دعوے کے اثبات میں دلیلیں آئمہ (س) کی سیرت سے پیش کرتا ہوں۔
1-            امام باقر (ع)  کا قول
نے  اپنے حسب و نسب پر فاخر انسان مذمت کی ہے فرمایا:" ثلاثۃ من عمل الجاھلیہ : الفخربلأنساب، والطعن فی الأحساب  والاستسقاء بالانواء"
ترجمہ: تین چیزیں جاہل کی نشانی ہیں : آبا و اجداد پر فخر کرنا، حب کی بنیاد پر کسی کو طعنے دینا، اور ستاروں سے بارش طلب کرنا۔ (1)
2-            رسول (ص) کے قول سے:
امام صادق (ع) سے روایت ہے :ایک دن رسول خدا (ص) نماز فجر مسجد میں ادا کرنے کے بعد ، اس حال میں کہ آپ (ص) کو سیاہ پیراہن پہنا ہوا تھا، خطبہ دیا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر انجام دیا  اور فرمایا: یافاطمہ! اعملی فانی لا أملک من اللہ شیئاٍ (2)ترجمہ: اے فاطمہ! جو فرائض تم پر خدا نے  عائد کئے ہیں انہیں انجام دو کیونکہ میں تمہارے کسی کام کی ذمہ دار نہیں۔

ابوہریرہ سے روایات ہے  کہ رسول (ص) نے فرمایا: "یا بنی عبدالمناف! اشترو أنفسکم من اللہ، یا بنی عبدالمطلب اشترو أنفسکم من اللہ، یا ام  زبیر العوام عمۃ رسول اللہ ،یا فاطمہ بنت محمد اشترو أانفسکما من اللہ لا أملک کما لکما من اللہ شیئا"
ترجمہ: اے عدالمناف کے بیٹو! اپنی جانوں کو خدا سے خرید لو(یعنی عمل صالح سے خود کو عذاب الٰہی سے محفوظ کرو)  اے عبدالمطلب کے بیٹو! اپنی جانوں کو خدا سے  خرید لو، اےزبیر بن عوام کی ماں رسول کی پھوپھی  اور اے فاطمہ بنت محمد اپنی جانوں کو خدا سے خرید لو کیوں کہ میں خدا کی طرف سے تمہارے کسی عمل کا زمہ دار نہیں۔ (3)

3-            امام رضا (ع) کے ایک بھائی  زید النار:

200 ہجری کو جب ماموں رشید نے امام رضا (ع) کو ولی عہدی دی، زید (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بیٹے) نے بصرہ میں بغاوت کھڑی کردی اور بنی عباس کے گھروں کو جلا دیا،(اسی وجہ سے اسے زیدالنار بھی کہا جاتا تھا)۔ آخر زید کی بغاوت ناکام ہوئی اور اسے گرفتار کیا گیا اورپابند رسن کرکے مرو بھیجا گیا۔
حسن بن موسیٰ بغدادی کہتا ہے: میں خراسان کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا، امام رضا (ع) بھی اس میں موجود تھے۔ زید نے حاضرین مجلس کو مخاطب کیا اور اپنی ذات کو ان پر محترم بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے ہم ویسے! امام رضا (ع) جو دوسرے لوگوں سے محو گفتگو تھے، نے اس کی باتیں سنی تو اس کی طرف دیکھ کر کہا: اے زید! کوفہ کے سبزی فروشوں کی طرح کیوں بات کر رہے ہو کہ جو کہتے ہیں کہ " چونکہ فاطمہ زہرا کی عفت و پاکدامنی کی خدا نے خود حفاظت کی اس بنا پر ہم اس کی آل و اولاد والوں پر جہنم کی آگ حرام کر دی گئی ہے" کیا تم ان باتوں کے دھوکے میں ہو؟ کیا تم بھی خود کو "ذریۃ فاطمہ" میں شامل سمجھتے ہو؟  خدا کی قسم یہ اعزاز صرف حسن و حسین (ع) اور ان (س) کے پے در پے آنے والے بیٹوں (آئمہ)  کو حاصل ہے۔
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ موسیٰ بن جعفر(ع) جو محراب عبادت میں خدا کی فرمانبرداری کرتے تھے، دن میں روزہ رکھتے رات میں عبادت کرتے تھے اور تم جو کہ کھلم کھلا گناہ کرتے ہو دونوں قیامت کے دن برابر ہوگے؟ اور دونوں کو رحمت خدا نصیب ہوگی؟ یا پھر تم خدا کے مقرب بندوں میں سے ہوگے؟  ہمارے جد امام زین العابدین (ع) نے فرمایا ہے "لمحسنا کفلان من الاجر ولمسینا ضعفان من العذاب" (ہمارے کے نیک افراد کی نیکیاں دوگنی اور ہمارے  خاندان کے گناہگاروں کی سزا بھی دگنی)۔
         راوی کہتا ہے اس وقت امام رضا (ع) نے میری طرف دیکھا اور کہا "اے حسن! اس آیت کو کیسے پڑھتے ہو؟ "قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ" (اے نوح یہ تمہاری اھل میں سے نہیں ہے اس نے برا کام کیا ہے)
میں نے عرض کیا: کچھ لوگ اس میں غیر صالح کو "غیرُ صالح' یعنی وصفی کر کے پڑھتے ہیں یعنی اس نے عمل غیر صالح کیا اور کچھ اسے  "غیرِصالح" پڑھتے ہیں یعنی اس نے بدکاری کی۔ جو بھی اسے پہلے طریقے کے مطابق  پڑھتا ہے وہ یہ مانتا ہے کہ وہ نوح کی اولاد ہی نہیں تھا۔
امام (ع) نے فرمایا: ہرگز نہیں! وہ نوح کاہی بیٹا تھا لیکن صرف اس لیئے کہ اس نے خدا کی نافرمانی کی اس لیئے خدا نے اس کو نوح کا بیٹا ہی ماننے سے انکار کردیا۔ ہم اہل بیت بھی اسی طرح ہیں ہم میں سے جس نے بھی خدا کی نافرمانی کی وہ ہم میں سے نہیں لیکن اے حسن! تم اگر مطیع بن جاؤ تو ہمارے خاندان میں سے ہوجاؤ گے۔ ((4)) (لو بھائی سید کو دیر ہی نہیں لگی غیرسید بننے میں اور غیر سید کو دیر ہی نہیں لگی سید بننے میں)
اما م رضا (ع) فرماتے ہیں خدا اور کسی بندے کے بیچ اس کے آبا و اجداد کا کوئی عمل دخل نہیں، اور کوئی خدا کا قرب حاصل نہیں کرسکتا سوائے اطاعت کے۔ رسول خدا (ص) نے ابوطالب کی اولاد سے فرمایا:"اینونی بأعمالکم لا با حسابکم و انسابکم" (میرے پاس اپنے اعمال لاؤ نہ کہ اپنا حسب و نسب)۔
4-            ایک اور واقعہ پیش خدمت ہے ایک اور امام  کی سیرت سے۔
امام زین العابدین سے طاؤس الفقیہ (یمانی)  نے کہا کیوں اتنی محنت و عبادت کرتے ہیں جب کہ آپ کے بابا حسین بن علی ، دادی زہرا، اور جد رسول ہیں۔ امام سجاد نے فرمایا "ھیھات ھیھات یا طاؤس! دع عنی حدیث ابی و امی و جدی، خلق اللہ الجنۃ لمن أعطا و احسن ولو کان حبشیا، و خلق النار لمن عصاہ ولو کان قرشیا، اما سمعت قول اللہ تعالیٰفَإِذَا نُفِخَفِي الصُّورِ فَلا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلا يَتَسَاءَلُونَ" ((5))"واللہ ینفعک غداً الا تقدمہ تقدمھا من عمل صالح"(6))
ترجمہ : افسوس افسوس طاؤس! میرے باپ، دادی، دادا کی قربت کی بات مت کرو، خدا نے جنت اس کیلئے بنائی ہے جو اطاعت گذار ہو پھر چاہے وہ حبشی کیوں نہ ہو، اور جھنم اس کیلئے بنائی جو گناہگار ہو چاہے قریشی کیوں نہ ہو۔ کیا تم نے قرآن میں خدا کا قول نہیں پڑھا کہ " جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں بچے گا نہ وہ ایک دوسرے سے مدد مانگ سکیں گے۔" خدا کی قسم اس دن کوئی کسی پر مقدم نہیں ہوگا سوائے ان کے جنہون نے عمل صالح انجام دیئے۔

میرے سادات بہنو اور بھائیو اگر زندگی قرآن و آئمہ اطہار سے ہی لینی ہے تو بھیا ان کا راستہ صرف فرمانبرداری و اطاعت خداوندی ہے۔ لیکن اگر آپ سندھی کی ایک کہاوت کے بقول کے "سید میرو پوء بہ سوا سیرو" یعنی سید گناھ گار ہو پھر بھی محترم ہے" کی نہج پر چلیں گے تو شفاعت کی توقع بھی انہی سے رکھیئے گا۔  جو سید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں جہنم کی آگ نہیں جلائے گی تو کیوںکہ وہ سادات ہیں تو ذرا اس دنیا کی آگ جو جہنم سے ستر گنا کم گرم ہے میں سید صاحب کی انگلی ڈال کر دیکھیئے معلوم ہوجائے گا کہ جلتا ہے بدن!
بھائی سادات کیلئے "ڈبل پیکیج" ہے امام (ع) کے بقول، تو آپ اچھے کام کریں قرآن کی مانیں احادیث مانیں سید زادی سے نکاح وغیرہ یا شہادت ثلاثہ وغیرہ جیسی باتوں میں بھی "اپنی"مت چلائیں قرآن و آئمہ اطہار کی چلائیں۔ آپ غیر سید سے سے زیادہ ثواب لے جائیں گے اگر نہیں تو متقی غیر سید جنت میں "اے سی" اور آپ غیر متقی سید جہنم میں "ہمت فین" یعنی پنکھا چلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ آئمہ نے آپ کو نعمت کی خبر دی ہے اس سے استفادہ کریں۔
مجھے معلوم ہے اکثر دوستوں کے پاس جواب نہیں ہوتے وہ مجھے سادات دشمن کہیں گے بھائی اگر یہ سادات دشمنی ہیں تو میں سادات کا دشمن ہی صحیح مگر خدا کی قسم میں جس شخص کو دنیا میں سب سے زیادہ چاہتا ہوں اور جسے سجدے (اگر حرام نہ ہوتے) کرتا وہ ایک سید ہی ہے لیکن وہ "صرف" سید نہیں ہے۔

شکریہ: محمد زکی حیدری و "آب"



 [1] معانی الاخبار 326، باب معانی الانواء ، بحار 55:315
2  بصائر الدرجات 324، بحار 22:465، باب وصیۃ عند قرب و فاتہ 18،
3 مسند احمد 2:50 صحیح بخاری 141:4
 ((4)) معانی الاخبار : 106، باب معنی الظالم لنفسہ والمتقصد و سابق ، عیون اخبار رضا 1، 257-258، باب 58
((5)) سورہ مومنون: آیت 101
 (6)) مناقب آل ابوطالب ج:3 ص: 291-292، باب امامۃ علی ابن الحسین (ع)، مکارم اخلاق علی بن الحسین و علمہ ج:57


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں