پاکستانی شیعہ جوان اور حضرت ابراہیم (ع)
تحریر:محمد زکی حیدری و آب
شاید آپ کو میری اس
تحریر کے عنوان پر تعجب ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ شیعہ جوانوں نے حسین (ع) کا ماتم
بھی کرلیا، عباس (ع) کا ہرچم بھی ہاتھ میں اٹھا لیا، علی اصغر (ع) کے جھولے کہ
شبیہ بھی روز دیکھتے ہیں، زیارت عاشورہ بھی ہر جمعہ کی رات پڑھتے ہیں، زخمی
ذوالجناح بھی ان سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، تیر، تلوار، خون، نیزے سب ہی دیکھ لیئے مگر
انہوں نے اس سے صرف رونے کی رسم لی, ان کے فکرو عمل میں حسینیت آنے سے قاصر رہی۔ اس بات
کی گواہی میں نہیں حالات دے رہے ہیں یقین نہیں آتا تو پہلے گلگت سے لیکر بدین (سندہ) تک کی ہر گلی میں بکھرے
ہوئے خون شیعان حیدرکرار کے چھینٹے
دیکھیئے اور پھر صرف پانچ منٹ کیلئے فیسبک پر چلے جائیں آپ کوشیعہ جوان ملیں گے
مگر نہ ٹارگٹ کلنگ پر بات ہو رہی ہوگی، نا شیعت کے اساسوں مثلاً ڈاکٹرز، انجینیئرز،
وکلا، استادوں، پروفیسرز وغیرہ کے مظلومانہ قتل پر بات ہوتی دکھائی دیگی، نہ یمن
پر، نہ شام میں آمریکی-اسرائیلی-عربی جارحیت پر، نہ ایران کی استقامت پراور نہ ہی رہبر معظم (زید عزہ) کے دیئے ہوئے پیغامات
پربات ہوتی ہوئی دکھائی دے گی! آپ کو ہمارا جوان یا تو خاموش نظر آئے گا یا اگر
مکتب پر احسان کرکے اس پر گفتگو کرے بھی تو ایم ڈبلیوایم اور ایس یو سی کی بحث کے
سوا اور کچھ نہیں۔ یہ ہمارا کالج کا جوان، یونیورسٹی کا نوجوان، ہمارا مدرسے کا
نوجوان، جو کمپیوٹر و موبائل فون سے نظر ہٹا کر اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہے تو اسے
اٌپنی قوم کے محسنوں کی لاشیں بکھری نظر آتی ہیں مگر پھر بھی خاموش ! لہٰذا جب اس
نے کربلا کی شبیہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے باوجود اس سے کچھ نہ لیا تو اس
ڈاکٹر کی طرح کہ جس کی ایک دوائی مریض پر اثر نہیں کرتی تو وہ دوائی بدلتا ہے، میں
نے بھی دوائی بدلنے کا سوچا حسین (ع) و عباس (ع) کو چھوڑ کر ابراہیم (ع) کے
کارنامے بتانے کا سوچا۔
اب ابراہیم (ع) اور جوان کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا تعلق؟ قرآن
پڑھیں: قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى
يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ[1] اور انہوں نے کہا:
سنا ہے ابراہیم نامی ایک "جوان" ہے جو بتوں کے خلاف بولتا رہتا تھا۔
حضرت ابراہیم (ع) اکثر انبیاء کی طرح جوان تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے معبد میں
رکھے بت توڑ کر پاش کردیئے اور اس کی قوم والوں نے دیکھا تو پوچھا یہ کس نے کیا،
تو ان میں سے کچھ نے کہا ایک "جوان" ۔۔۔ ابراھیم نامیایک جوان ہے جو بتوں
کے خلاف بولتا پھرتا تھا، یہ اسی کے ہی کام ہیں۔ دیکھا آپ نے جب اس وقت کے بت
پرستوں نے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو کہا یہ اور کوئی نہیں کر سکتا یہ کسی
"جوان" کا ہی کام ہے۔ بتوں کو توڑنا جوان ہی کا کام ہے! اور دوسری طرف ان الفاظ سے خود
بت پرست بھی اقرار کر بیٹھے کے ان کی اولاد میں سے کسی میں اتنی
"جوانمردی" نہیں کہ بتوں کا بال بھی بیکا کر سکے یہ ضرور کسی موحد جوان
کا کام ہے، ان بت پرستوں کو بھی معلوم تھا کہ ان کی اولاد کھوکھلے بتوں کے پیروں کی دھول چاٹتی
ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ بتوں پر ضرب لگائے، ان کو معلوم تھا کہ ان کے جوان
میں اتنی سوچ نہیں کہ ایسا سوچے کہ یہ جو "دوسروں" کے ہاتھ سے بنا ہوا
بت ہے یہ کسی کا کیا بگاڑ سکتا ہے، ان کو یہ یقین تھا کہ ان کا جوان آبا و اجداد
کے دیئے ہوئے نظریات کو عقل کے میزان میں تولنے والا ہو ہی نہیں سکتا لہٰذا جب بت
ٹوٹے تو ذہن میں پہلا خیال اسی بت شکن طرز فکر رکھنے والے "جوان"
ابراہیم کا آیا۔
میرے دوستو! ابراہیم (ع) کے اس کارنامے کو قرآن نے
"جوان" کو منسوب کیا، یہ افتخار ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ تمہارے اندر سچ کو گلے لگانے کی جرآت بوڑھوں سے
زیادہ ہے اسی لیئے پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: " اوصيكم بالشباب خيراً فانهم ارقّ
افئده ...میں تمہیں جوانوں سے اچھا سلوک کرنے کی سفارش کرتا ہوں
کیونکہ ان کے دل حق کو جلد قبول کرنے والے ہیں، مجھے اللہ نے پیغمبری عطا کی تا کہ
لوگوں کو رحمت الٰہی کی بشارت دوں اور اس کے عذاب سے ڈراؤں، نوجوانوں نے میرے
پیغام کو قبول کر کے مجھے دوست بنایا لیکن بوڑھوں نے میری بات نہ مانی اور میری
مخالفت کی۔" [2]
اس سے زیادہ اور کیا سند چاہیئے آپکو کہ دنیا کا سچا ترین انسان آپ کو کہہ رہا ہے کہ آپ وہ زمین ہیں جس
میں حق کا بیج ڈالا جائے تو دن دگنی رات چوگنی وہ ایک مضبوط درخت بن جاتا ہے۔ آپ اپنے
اندر نگاہ کریں آپ کی ضمیر کی زمین میں کسی چیز کا بیج بویا بھی ہوا ہے کہ نہیں؟
اگر ہاں تو کس کا ہے کیا اس سے کل اموی و عباسی زمینوں میں اگنے والے خآردار کانٹے
نکل کر سادات اور اس کے ماننے والوں کے جسموں کو خروچیں گے یا اس میں سے مکتب اہل
بیت (ع) سے ملنے والی تقویٰ ،غیرت، شجائت، عزت نفس، حق پرستی، استقامت، دلیری، اور
برباری کے پھول نکل کر پورے معاشرے کو دشمن شناسی اور جہاد کی خوشبو سے معطر کردیں
گے؟ کیا تمہارے من میں تقویٰ و پرہیزگاری؛حق و حقانیت؛ ایثار و فداکاری؛ مقاومت و جدوجہد کا دریا موجزن ہے یا ظلم پر خاموشی، حقائق سے چشمپوشی، جہاد سے عدم دلچسپی، کاہلی، سستی کی خاموش میلے پانی کی جھیل بنی ہوئی ہے؟
ذرا سوچیئے آپ اپنے اندر جھانکیئے آج تک آپ نے تنقید کے
سوا کیا کام کیا ہے ؟ کیا آپ گھر بیٹھ کر تنقید کرنے کے مجاز ہیں جب کے آپ کے اندر
صلاحیت ہونے کے باوجود میدان خالی ہے! مورچوں پر جوانوں کی ضرورت ہے اور آپ بستر
پر ناقد بنے بیٹھے ہیں۔ اب سوال کروگے کیا
کریں؟ ہم ٹارگٹ کلنگ تو نہیں روک سکتے۔ یمن کا کیا کریں وہاں جا تو نہیں سکتے،
جمعہ نماز کے بعد ریلی میں گئے تو تھے! دشمن پہ لعنت کی اور کیا کریں! ہاں جی بلکل کیا کریں آپ؟ اچھا جناب ذرا بتایئے کہ دشمن ہے کون
ہمارا؟ پھٹ سے جواب آئے گا آمریکا! جناب
کیا آپ دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ آمریکا ہی ہے جو سب کچھ کر رہا؟ ٹھوس
تاریخی ثبوتوں کا علم ہے آپکو؟ اس سوال پر ذرا ڈھیلے پڑ جائیں گے! کیوں؟ کیوں کہ
مطالعہ نہیں کرتے جو مولوی صاحب نے بتادیا اسی پر چلتے ہیں۔ اسرائیل مردہ باد
فلسطینی زندہ باد، صہیونی جارحیت نا منظور! اچھا بھائی ذرا بتائے صہیونی اور یہودی
میں کیا فرق ہے؟ اچھا جو دیواروں پہ لکھا ہے استعمار استعمار استعمار یہ استعمار
کیا بلا ہے بھائی؟ نہیں معلوم!
اچھا آخر کیا وجہ
ہے کہ پاکستانی میڈیا پر عامر لیاقت سارا دن بیٹھا رہتا ہے لیکن شیعہ کلنگ پر ایک
بھی دستاویزی فلم نہیں چلائی جاتی؟ ہان آپ کہیں گے یہ میڈیا والے تو ہیں ہی الا
بلا ۔۔۔ اچھا جناب تو آپ کیوں سارا دن انہی چینلز پر بیٹھے رہتے ہیں جب کہ ان کو
معیار حق بھی نہیں مانتے؟ آپ نے کبھی ایرانی اردو چینلز کے تجزیئے سنے؟ آپ نے کبھی
ایسی شیعہ ویب سائٹس دیکھیں جو آپ کو حقیقی تجزیہ پیش کریں؟ ایک طرف آپ میڈیا کو
باطل کہتے ہو دوسری طرف سارا دن آپ انہی کے تجزیات سے مستفید ہوتے ہو، باطل کے
تجزیئے آپ کو سست کردیں گے، باطل کردیں گے، ان جیسا کر دیں گے، آپ کے ںظریات انہی
کے تجزیات پر مبنی ہوں جن کے پروگراموں میں آپ کو کافر کہا جائے تو آپ ہی بتایئے
آپ کے نظریات میں کتنی بصیرت و طہارت و حقانیت و مقاومت اسلامی و تفکر اہل بیت (ع)
شامل ہوگا؟ حقیقت کیلئے کوشش کریں اسی فیسبک اسی انٹرنیٹ سے استفادہ کرکے حقیقت
دیکھیئے آپ کا دشمن کتنے محاذوں پر کام کر رہا ہے اور آپ ہیں کہ پوچھتے ہیں ہم کیا
کریں ؟َ آپ کچھ نہ کریں صرف حالات حاضرہ کا مطالعہ فرمائیں اور اس کے لیئے درست ذرائع
ابلاغ کا انتخاب کریں۔ حرکت کریں سست نہ بنیں جو نفرت کی بات کرے اسے قوم کی ستم
ظریفی کا عکس دکھا کر ہاتھ جوڑ کر کہیں کہ جناب ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے، یہ
باتیں متعصب عورتوں کو زیب دیتی ہیں
ابراہیم (ع) کے ماننے والے جوان کو نہیں۔ اگر آپ کی طبیعت میں کسی جھگڑالو ساس
والے جراثیم ہیں تو خدارا ایک کونہ پکڑیئے آپ کو ایسی بہو بھی مل جائے گی جو آپ سے
سے لڑے، آپس میں لڑیئے سارا دن ہمیں کام کرنے دیجیئے! ہم جوان مرد ہیں ہماری سوچ،
ہماری گفتار، ہمارے عزائم، ہمارے حوصلے، ہماری منزلیں تم لوگوں سے الگ ہیں۔
خدا را ابراہیم (ع) کی جوانی کو نمونۂ عمل بناتے ہوئے متحد
ہوجاؤ، خود کو توحید و تقویٰ کی شمشیر سے مصلح کرو کسی پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے
گریبان میں جھانک لو کہ میں نے کیا کیا ہے پھر تنقید کرو، تم متحد ہوگئے تو تمہیں
تنظیم کی نہیں تنظیموں کو تمہاری ضرورت پڑے گی، تم پر کسی تنظیم کا آئین مسلط نہیں
کیا جائے گا تم آئین بناؤگے تنظیمیں اس پر عمل کریں گی۔ بس بات اتنی ہے کہ کچھ
کرو!
جس طرح ابراہیم کی قوم کے بت پرستوں کو ٹوٹے ہوئے بت دیکھ کر صرف ابراہیم کا خیال آیا اسی طرح
اگر آپ بھی اپنی ذمہ داری محسوس کر کے تھوڑی حرکت کریں گے تو قسم کھا کر کہتا ہوں
لانڈھی کے بت، رائیونڈ کے بت، لاڑکانہ کے بت، کراچی کے بت، بلوچستان کے بت، پشاور
کے بت، اسلام آباد کے بت جب پاش ہوکر گریں گے تو ان کے ذہن میں آپ کا ہی خیال آئے
گا۔ لیکن بت پرستی کا خاتمہ ضرور ہوجائے گا۔ اور ہاں یاد رکھنا آج اس بت کدے کا
نام تک کسی کو یاد نہیں لیکن ابراہیم کا کعبہ آج بھی زندہ و جاید ہے۔ مناسک حج میں
کچھ نظر نہیں آتا ہر طرف وہ جوان ابراہیم نظر آتا ہے جس نے اپنے کام کی شروعات ہی
بتوں کو پاش پاش کر کے کی۔
اورسنو! کئی ایسے بھی آئیں گے جو تمہارا راستہ روکیں گے کہ
"ماحول سازگار ہونے دو" انہیں قرآن کی آیت پڑھ کر سنانا کہ تم اس کی طرح
ہو جن سے جہاد کا کہا جائے تو کہتے ہیں گرمی ہے ابھی سفر پر مت نکلو [3]"ماحول کو بھی دیکھا
کرو" یہ وہی بوڑھے ہیں جن کا ذکر نبی
(ص) نے مذکورہ بالا حدیث میں کیا۔
میرے دوستو! اگر وقت ملے تو تاریخ میں غیرت مند جوانوں کی
جدوجہد کی تازہ مثالیں بھی پڑھ لیجیئے گا چاہے وہ چائنا میں تیانانمین اسکوائر پر
جوانوں کی خون ریزی ہو ، چاہے 8 سالا ایران-عراق جنگ میں ایرانی انقلابی جوانوں کا کردار ہو، چاہے
ویتنام کے جوانوں کی آمریکا کو دھول چٹانے کا کارنامہ ہو، چاہے وہ فرانسوی انقلاب
ہو، روسی انقلاب ہو، ؛لاطینی آمریکا ہو یا پھر نائیجریا سے لیکر جنوبی آفریکا تک
کے آفریکی کالے جوانوں کی خونی جدوجہد ہو۔ کچھ بھی پڑھیں مگر مطالعہ کریں! ابراہیم
کو علم تھا کہ یہ بت چند مجسمہ سازوں کے
ہاتھوں سے بنائے ہوئے ہیں یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے آپ کے اسلام آباد والے بت
بھی "بیرونی مجسمہ سازوں" کے تراشے ہوئے ہیں اگر آپ سوچتے ہیں کہ یہ کچھ
بگاڑ سکتے ہیں تو افسوس کہ آپ ابراہیمی جوان نہیں!
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں