فیسبوکی
فقهاء
تحریر:
محمدزکی حیدری
جناب قدیم چائنا کا ایک واقعہ ہے کہ اسے پڑوسی سلطان
یا بادشاہ کی طرف سے کیئے جانے والے حملے میں بہت بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا
پڑا، چائنہ کے عوام کی ایک بڑی تعداد ماری گئی، فوج میں افراد کی شدید قلت کو مدنظررکھتے
ہوئے اعلان ہوا کہ ھر گھر سے ایک مرد جنگ کیلئے باہر آئے اور یہ حکم تمام طبقوں سے
تعلق رکھنے والے لوگوں کیلئے یکساں تھا لیکن دلچسپ اور درس آموز بات یہ ہے کہ چائنا
کے اس وقت کے حکمران نے اعلان کیا کہ استادوں کو جنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ
استاد جب تک زندہ ہیں قوم کتنی بھی تباہ ہوجائے, استاد اسے پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا
کر سکتے ہیں۔ لھٰذا استادوں کی حفاظت سرزمیں کی حفاظت کے مترادف سمجھ کر استادوں کو
جنگ سے روکنے کے احکامات جاری کردیئے گئے۔ آج چائنا کی ترقی آپ کے سامنے ہے!
جیسے
ہمارے پاکستان میں پوری قوم کو کچھ "خاص" افتخارات حاصل ہیں مثلا ہم نجی
چینلز پر آنے والے جھوٹے اینکرز سے سیاست کی "سچائی" لیتے ہیں; مہنگے کرتے
پہن کر ٹی وی پر آنے والے ایک بدتمیز انسان
سے دین اور ادب لیتے ہیں;ایک کرکٹر کو انقلابی لیڈر مانتے ہیں; کینیڈا سے "برآمد"
کیئے ہوئے ایک شہری کو اسلام آباد کی سردی میں پرسکون کنٹینر میں بٹھا کر خود اپنے
بچوں سمیت ٹھنڈی سڑک پر بیٹھ کر , اس لیڈرکو غریبوں کیلیے مسیحا سمجھ کر اس کی شان
میں نعرے لگاتے ہیں. اسی طرح ہمارے پاکستانی شیعہ بھی دنیا کے بقیہ شیعوں سے کچھ زیادہ
"افتخارات" کے حامل هیں۔
پاکستانی
شیعوں کا سب سے بڑا کارنامہ ہے وافر مقدار میں مجتہد، عالم، اور فقیہ پیدا کرنا! جی
جی میں جھوٹ نہیں بول رہا آپ فیسبوک پر چلے جائیں یا واٹس ایپ کے کسی مذھبی شیعہ گروپ
میں شامل ہوجائیں آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا کے مجتہد، عالم، شیخ الحدیث، فقیہہ وغیرہ
ہماری قوم کے "فیسبوکی فقہا" کے سامنے پانی بھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان فیسبوکی
فقہا نے ثابت کیا ہے کہ علم حدیث، علم فقہ، علم منطق اور علم اصول وغیرہ ان کے سامنے
کچھ نہیں بیچتے ان علوم کے حصول کیلئے لازمی نہیں کہ اپنی ساری زندگی کتاب خانوں اور
مدرسوں میں گذار دی جائے، بس انٹرنیٹ کافی ہے۔ کسی بھی چیز کو حرام قرار دینا ہو یا
حلال، کسی رسم کو بدعت کہنا ہو یا کسی بدعت کو عبادت، یہ فیسبوکی فقہا آپ کو حدیث سے
ثابت کر دیں گے، اور ہاں ان کیلئے ایک آده حدیث هی کافی ہوتی ہے کسی چیز کے حلال یا
حرام ہونے کیلئے, بس حدیث لی, کمپیوٹر پر ڈزائن کی اور لیجیے فتویٰ اور اپنا باقی ٹائم
اپنی جاب پر لگا کر بچوں کا پیٹ پالیئے۔ لیجیئے فقہ کو اتنا آسان بنا دیا! خوامخواہ
یہ مولوی لوگ اپنی زندگیاں مدرسوں اور کتاب خانوں میں تحقیق کرکر کے ضایع کرتے ہیں۔
عجب!
یہ
فیسبوکی فقہا مجتہدین کے خلاف ہیں، تقلید کی کیا ضرورت ہے بھائی جب فقہی مسائل کا حل ہم خود نکال سکتے ہیں تو تقلید کیوں
کریں؟ اچھا سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان صاحبان کو فقہا نہیں پسند، مجتہدین نہیں پسند
تو پھر یہ جو علم لیتے ہیں وہ کہاں سے لیتے ہیں؟ کتابیں تو ساری فقہا مجتہدین نے لکھی
ہیں، ذاکروں نے ملنگوں نے تولکھیں نہیں۔ یہ لوگ حسین حسین (ع) کرتے ہیں اہل بیت (ع)
سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھے آپ تک یہ کربلا، یہ غدیر، یہ مباہلا،
یہ۔۔۔۔ کیسے پہنچے؟ علماء کی لکھی ہوئی کتابوں کے ذریعے ہی نا؟ صاحبِ اصول کافی کی
بات کرتے ہیں کیا ملنگ تھے؟ کتب اربعہ میں سے دو کتب کے جامع طوسی (رح) ملنگ تھے؟ شیخ
صدوق (رح) باوا تھے؟ شہید اول ذاکر تھے؟ شہید ثانی، شہید ثالث یہ سب علامہ مجلسی (رح)۔۔۔۔
کوں تھے بھائی یہ سب؟ آپ کیوں ان کی بات کو معتبر سمجھتے ہو؟ اس دور کے فقہا صحیح آج
کل کے سارے فقہا غلط یہ کیوں؟ آپ بیشک مجتہدیں و فقہا کو معتبر نه مانو لیکن اگر ایسا
کرتے ہو تو ان کی کتابیں بھی غیر معتبر سمجھ کر پھینک دو اور اپنی کتابیں لاؤ جو فقہا
نے نہ لکھی ہوں۔
دنیا
کے شیعه ایک طرف هم پاکستانی ایک طرف پوری دنیا کے شیعوں کو علی (ع) سے محبت نهین صرف
پاکستانیوں کو هے که نماز میں بھی شھادت ثالثه پر بحث کرتے هیں, پوری دنیا کے شیعه
سادات کی بے حرمتی کرتے هیں که کهتے هیں سیدزادی کا غیر سید سے نکاح جائز هے صرف یه
چند لوگ اور ان کے استاد ذاکرین سادات کا احترام کرتے هیں که سیدزادی سے نکاح حرام
سمجھتے هیں .. یه من گھڑت عقائد میں سب شیعوں
سے پیش پیش اس لیئے رسوائی میں بھی پوری دنیا کے شیعون کے علمبردار هیں!
تاریخ
گواہ ہے تقلید وہ مورچہ ہے جس سے اسلام دشمن کو ہمیشہ پسپا کیا گیا اور تشیع پر کسی
دشمن کو میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرآت نہ ہوئی۔ دور نہ جائیں 1920 ع کا عراقی انقلاب
دیکھ لیں عظیم مجتہد آقای شیرازی (رح) کی قیادت
میں عراقی عوام نے برطانیہ جیسے اس دشمن کو چنے چبا دیئے جس نے آدھی دنیا پر اپنا قبضہ
جما رکھا تھا، شیعہ فقیہہ اعظم کی قیادت کے سامنے اسے منہ کی کھانی پڑی، پھر 1979 ع
میں ایران کا انقلاب دیکھیئے، پھر لبنان اور شام میں حزب اللہ کی کامیابی دیکھیئے،
سعودی میں شیخ نمر۔ بحریں ، یمن، ہر جگہ شیعہ سرخرو ہیں حتیٰ ہندوستان میں بھی شیعوں
پر انگلی اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی دشمن کو۔
پھر ہم کیوں مر رہے ہیں؟ ہم کیوں روز جنازے اٹھا رہے ہیں ؟ کیوں ہماری عبادتگاہوں
کو بمب سے اڑایا جاتا ہے؟ کیوں ہمیں بسوں سے اتار اتار کر مارا جاتا ہے؟ کیوں...
ہمیں شرم آنی چاہیئے ۔۔۔ ہاں میں لکھ رہا ہوں یہ
لفظ ہمیں شرم آنی چاہیئے جب ہم ماتم کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ ہاتھ ہمارے سینے پر
نہیں یزید کے منہ پر طمانچہ بن کر لگتا ہے ! واہ! کیا کہنے ہیں! جی جی جناب بیشک یزید
آپ کے طمانچے کھا کھا کر کمزور ہوگیا ہے , ڈر گیا ہے, اپنے بل میں چھپ گیا ہے، یہ آپ کے طمانچوں کا ہی
تو اثر ہے کہ کراچی سے لے کر کوئٹہ تک نہ کوئی آپ کا شیعہ مارا جاتا ہے، نہ آپ کے ڈاکٹرز
چن چن کر مارے جاتے ہیں،نہ عالم، نہ طلبا، نہ وکلاء، نہ جوان، نہ کسی امام بارگاہ پر
فائرنگ، نہ کسی جلوس میں دھماکہ ہوتا ہے, آپ نے طمانچے مار مار کریزید کو نابود کردیا
ہے... جی جی آپ کے طمانچوں کے کیا کہنے!
افسوس
لکھوں تو کیا لکھوں! میرے بھائی یہ طمانچوں
کا دعویٰ وہ کریں جن کی عزت،آبرو، چار دیواری، عبادتگاہیں محفوظ ہوں، جو دشمن کو منہ
توڑ جواب دے چکے ہوں اور دے رہے ہوں۔ آٌپ مر رہے ہیں روز جنازے اٹھا رہے ہیں اور دعویٰ
طمانچوں کا...
حل
کیا ہے؟ حل ہے اخلاقی اقدار, اور اخلاقی اقدار حقیقی استادوں سے هی مل سکتے هیں. استادوں
کا انتخاب، علم لینے کے ذرائع کا درست انتخاب، اور علم والوں کا ادب اور ان کی فرمانبرداری!
علم والے کا ادب ہم میں نہیں ہوگا تو بھائی با ادب با نصیب بے ادب بےنصیب کی مصداق
ہم بھی رسوا ہوتے رہیں گے۔ عزاداری یزید کے
منه پر طمانچه بن کر تب لگے گی جب عزادار علم و اقدار کا مالک هوگا. پوری دنیا میں
شیعہ اس لیئے سرخرو ہیں کہ ان کو مرجیعیت کی صورت میں مرکزیت حاصل ہے ، ایک ہی پلیٹ
فارم ہے، علم بھی وہیں سے لیتے ہیں، ہدایت بھی وہیں سے، رہبری بھی وہیں سے، فتویٰ بھی
وہیں سے، چپ رہنے کے احکام بھی وہیں سے، لڑنے کے احکام بھی وہیں سے۔ آپ نے استادوں
کی اہمیت کو سمجھ لیا تو دشمن آپ سے ڈرے گا کیونکہ دشمن علم والوں سے ڈرتا ہے جاہلوں
سے نہیں.
.
www.facebook.com/arezuyeaab
.
arezuyeaab.blogspot.com