جمعرات، 9 جولائی، 2015

بڑا بیت المقدس اور چھوٹے بیت المقدس تحریر:محمد زکی حیدری


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بڑا بیت المقدس اور چھوٹے بیت المقدس


تحریر:محمد زکی حیدری


کل صبح سے لیکر شام تک میں میرے علائقے کے مختلف شیعہ دیہاتوں اور قصبوں میں جا کر جمعہ کو منعقد ہونے والی یوم القدس کی ریلی کی دعوتیں دیتا رہا۔ یہ میرا اور میرے کچھ رفیقون کا ھرسال کا وظیفہ ہے۔ لوگوں کو بھی علم ہے کہ یہ دن ہمارے ایک عظیم روحانی باپ، بت شکن صدی سید روح اللہ خمینی (رح) کی جانب سے جاری کردہ حکم کے مطابق منایا جاتا ہےاور ہمارے فلسطینی بھائیوں کے ھمدردی اور قبلہ اول بیت المقدس سے ہماری محبت کا اظہار بھی ہے۔ ایک گاؤں سے نکلتے وقت مجھے ایک شخص نے کہا "جناب ہم ریلی میں ضرور شریک ہوں گے ظلم کے خلاف تو آخر۔۔۔

ظلم کے لفظ سے میں مانوس تھا، پاکستانی ہونے کے ناطے اور کراچی کا پانی پینے کی وجہ سے مجھے اس لفظ سے رفاقت تھی ، میں  کچھ سالوں سے اس تین حرفی لفظ سے زیادہ کسی اور لفظ پر بات کرتے ہوئے نظر نہیں آیا، میں مسلسل مختصر اور طولانی پیغامات کے ذریعے کراچی اور کوئٹہ میں ہونے والی شیعہ نسل کشی پر آواز اٹھاتا رہا ہوں مگر کچھ دنوں سے یوم القدس کی تیاریوں نے مجھے فلسطین پہنچا دیا تھا لھٰذا میرے ذھن میں مسلسل دوڑتے ہوئے لفظ "ظلم" کی جگہ " قبلہ اول، غاصب، اسرائیل، صہیونی، اقوام متحدہ وغیرہ وغیرہ جیسے الفاط نے لے لی تھی۔ حتیٰ کہ جب اس مومن کی زبان سے میں نے یہ لفظ "ظلم"سنا تو مجھے پھر سے کوئٹہ ، کراچی اور پاکستان کے دیگر علائقوں میں مارے جانے والے میرے اپنے یاد آئے۔ مرتا کیا نہ کرتا! جب بھی مجھے شیعہ نسل کشی یاد آتی ہے تو اپنا غصہ لیپ ٹاپ کے بٹنوں کو ذور زور سے دبا کر لکھی ہوئی ایک  تحریر سے ٹھنڈا کی کوشش کرتا ہوں مگر اس بار تو صرف ظلم پر ہی نہیں غصب پر ہی لکھنا ہے!

جناب بات یہ ہے کہ عظیم انسان ایک لفظ یا جملہ اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو اس کی تفسیر کتابوں میں بھی نہیں سما پاتی، حسین (ع) نے یزید سے فرمایا تھا "مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا" اس کی علماء کرام تفسیر یہ کرتے ہیں کہ ہر دور میں کوئی حسین (ع) جیسا یزید جیسے کی بیعیت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ہمارے رھبر کبیر امام خمینی (رہ) نے فرمایا تھا کہ سلمان رشدی واجب القتل ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ نہ صرف یہ سلمان رشدی بلکہ تا قیامت ہر وہ شخص جو ناموس قرآن پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرے واجب القتل ہے۔

 اسی طرح یوم القدس کی تفسیر بھی بہت وسیع ہے یوم القدس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ قدس جیسی مسجد پر جب ظالم کی یلغار ہو اور وہ اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے، اس کی بے حرمتی کرے ، اس میں موجود نمازیوں کی بے حرمتی کرے تب ہی آوازحق واحتجاج بلند کی جائے اور صرف تب ہی یوم منایا جائے، نہیں! قرآن کی رو سے مساجد کی بہت بڑی اھمیت ہے اور ان سے بڑا کوئی ظالم نہیں جو مساجد میں کسی کی داخلہ میں رکاوٹ بنے۔ خمینی (رہ) کی بات کی تفسیر میں جائیں تو معلوم ہوگا دنیا کے ہر اس کونے میں جہاں کسی مسجد پر ظالم میلی آنکھ اٹھا کر دیکھے اس کے خلاف یوم مناؤ، اس کے خلاف احتجاج کرو، اس کے خلاف سڑکوں پر آؤ کیوں کہ دنیا میں مسجد پر حلمہ کرنے والا کوئی بھی ہو، کسی بھی مذھب، کسی بھی ازم، کسی بھی مت سے تعلق رکھتا ہو لیکنوہ ظالم ہے چاہے کیوں کہ مسجد مقدس جگہ ہے، مقدس بیت ہے، مقدس گھر ہے، ہر مسجد کی فضیلت کم و بیش ہو سکتی ہے مگر تقدس کے لحاظ سے تمام مساجد مقدس ہیں سب بیت المقدس ہیں کوئی چھوٹا ہے تو کوئی بڑا!

پھر میں نے سوچا ہم بڑے بیت المقدس کیلئے تو ھر سال یوم القدس مناتے ہیں لیکن خمینی (رہ) کے پیغام کی تفسیر کرتے ہوئے کوئٹہ سے لیکر کراچی تک چھوٹے بیت المقدسوں میں بہائے جانے والے خون، اس پر پھینکے جانے والے بموں، اس پر ظالم کی یلغار، اس میں ھر آئے دن خون میں لت پت لاشوں ، مومنوں کے بکھرے اعضاء ۔۔۔ ان سب پر احتجاج کے طور پر کبھی کوئی "یوم الکوئٹہ" کبھی کوئی "یوم الکراچی" کیوں نہیں مناتے؟ کیا صرف اسرائیل کسی مسجد پر قبضہ کرے تب ہی ہم یوم منائیں؟ کیا جب فلسطینیوں کو عبادت سے روکا جائے تب ہی یوم منایا جائے؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ رھبر کبیر (رح) کے فرمان کی تفسیر کو سمجھیں اور بڑے "بیت المقدس" کے یوم منانے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کونے کونے میں موجود ھر اس "چھوٹے بیت المقدس" جس کی بے حرمتی کے قصے آئے دن ہماری نظروں اور سمائتوں سے گذرتے ہیں، کے دفاع میں بھی ایام منائے جائیں۔

arezuyeaab.blogspot.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں