ہفتہ، 23 مئی، 2015

سادات دشمن کون ؟

صرف پڑھے لکھے سادات پڑھیں!
۔
میری نظر میں سادات کرام کیا ہیں؟
۔
میرے محترم سید میرے مولا (ع)اور میری پاک بیبی زہرا (س) کے خون اطہر کے وارثواور امانتدارو، تمہاری پاک رگوں میں محمد (ص) کی حق گوئی، علی (ع) کی عدالت، زہرا (س) کی عفت و پاکدامنی، حسن (ع) کی بصیرت، حسین (ع) کے ایثار ، زینب (س) کی جرآت، عباس (ع) کی وفا کے اجزا سے منور خون دوڑ رہا ہے۔ تم مثل ماہ شب چاردھم ہو کہ جس کی چاندنی دیکھ کر رات کے کتے بھونکتے ہیں لیکن اس پر کوئی اثر ہونے والا نہیں ہوتا ، تم اسلام کیلئے قربانی اور خون دینے کی ایک تاریخ رکھتے ہو، امیوں کی تلواروں کو تشنگی خون محسوس ہوئی تو سادات کرام نے اپنا خون دے کر بجھائی، عباسیوں کے دورجعفر سفاح سے لیکر مہدی تک جس بھی حکمران کے نجس خون نے جوش مارا تو اس نے سادات پر تلواریں چلا کر اسے جوشِ شیطانی کو ٹھنڈا کیا جب بھی اسلام کو خون کی ضرورت پڑی تو اولاد زھرا (س) نے خون دیا، آج بھی ہمارے ملک میں کبھی سید عارف الحسین الحسینی، کبھی ڈاکٹر محمد علی نقوی تو کبھی سید سبط جعفر زیدی تو کبھی۔۔۔۔۔  اور آج دنیا میں ہر جگہ سید ہی ظلم و جبر کیخلاف برسر پیکار ہے، چاہے وہ سید علی خامنہ ای (زید عزہ)  کی صورت میں، سید حسن نصر اللہ (زید عزہ) ہو، سید علی سیستانی (زید عزہ)  ہو، سید عبد المالک زیدی حوثی ہو یا کوئی اور۔۔۔۔ اس کیلئے قوم شیعہ آپ سادات کی قدر نہ کرے تو اس سے بڑی احسان فراموشی کی کوئی مثال نہیں ہوگی۔

پھر مجے سادات دشمن کیوں کہا جاتا ہے؟
۔
اسی لیئے کہ میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے یہ سوچ رکھا ہے کہ سادات گھرانے کی دختر نیک سے ازدواج کا ناطہ جوڑوں گا تاکہ میری شخصیت، میرے گھر ، میری اولاد میں سادت کا نور منتقل ہو اور وہ تقویٰ و پرہیزگاری و بردباری و شجاعت و ایثار کی تاثیرجو سادات کے خون میں ہوتی ہے وہ میری اولا د میں بھی منتقل ہو۔ اور یہ میں نے امیر المومنین (ع) کی دکھائیے ہوئے طریقے پر ہی عمل کیا ہے مولا علی (ع) نے عقیل سے کہا تھاکہ تم عرب کے نسل شناس ہو میرے لیئے ایسی عورت ڈھونڈ لاؤ جو کسی دلیر قبیلے کی ہو تا کہ میں اس سے عقد کروں اور مجے دلیر بیٹا عطا ہو۔ اور پھر آپ نےپڑھا ہوگا کہ آپ (ع) ام البنین (س) سے نکاح کیا ور شجاعت کے پیکر میرے مولا عباس (ع) اس دنیا میں  آئے۔ ثابت ہوا کہ ماں اولاد کی موروثی خصوصیات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب میں نے سید زادی سے نکاح کرنے کی بات کی تو مجھ پر تنقید کی گئی، جب میں نے دنیا کو ثبوت فراہم کرنا شروع کیئے کہ جناب اسلام میں سید زادی کا نکاح غیر سید لڑکے سے خود نبی (ص) نے کروائے ہیں۔ تو مجھ پر سادات دشمنی کا گھنؤنا الزم لگایا گیا اور ایسا ظاہر کیا گیا کہ گویا کوئی غیر سید چاہے کتنا بھی متقی ہو لیکن کسی گنہگار سادات کی برابری بھی نہیں کر سکتا۔ حتی کہ یہ تک کہا گیا کہ سید گنہگار ہو تو اسے بھی گنہگار نہ کہو! یعنی سید شرابی ہو تو اسے شرابی مت کہو! زانی ہو تو اسے زانی نہیں کہہ سکتے! میں نے جہنمی نہیں کہا تھا نہ ہی ایسا میں کہہ سکتا ہوں مگر میں نے کہا کہ جو بھی سید جس نوعیت کا گناہ کریگا وہ اسی نوعیت کا گنھگار کہلوائے گا۔ میں قرآن میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی مثال دے کر کہا کہ چور سید ہو یا غیر سید اس کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، پھر قرآن نے فرمایا جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے یہ آیت بھی صرف غیر سید جھوٹے کیلئے نہیں بلکہ سید جھوٹے کے لیئے بھی یکسان طور پر صادر آتی ہے۔۔۔ جواب نہ ہونے کی صورت میں  کچھ لوگوں نے ایسی گفتار کی کہ جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ ان کے اندر مندرجہ بالا ساداتی خصوصیات نہیں صرف سادات کا لیبل لگا کر گھوم رہے ہیں۔ لہٰذا میں ان سے کہا سادات کا شیوا نہیں کہ کسی کو بلا وجہ گالی دیں۔ میں نے صرف اتنا کہا کہ سید بھی اگر جھوٹ بولے لعنتی ہے قرآن نے کہا ہے میں نے نہیں۔

صرف سادات ہی کیوں؟
۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ صرف سادات ہی کو میں کیوں قرآن و احادیث کی مذمتی مفاہیم کا مصداق ثابت کر رہا ہوں۔ یہ اس لیئے کہ کسی ملک، بلوچ، چوھدری، لغاری، کشمیری، پٹھان، راجپوت نے مجھے یہ نہیں کہا کہ ان کی ذات کا کوئی بندہ گنہگار بھی ہو تب بھی وہ قابل احترام ہے کسی نے نہیں صرف سیدوں نے آکر مجھے کہا کہ سادات جیسا بھی ہو اس کا احترام کرو۔ بھائی میں امام موسییٰ کاظم کے بیٹے زید کا کہ جس نے کئی لوگوں کے گھر جلائے اور امام رضا (ع) نے اس کی بڑی سرزنش کی اور زید النار کا لقب پایا جسیے شخص کی عزت نہیں کر سکتا۔ نبی کا بیٹا تو نوح کا بیٹا بھی تھا  لیکن اللہ نے قرآن میں نوح سے کہا یہ تمہاری اولاد نہیں اس  نے "غیر صالح " کام کیا ہے۔ میں اس کی صرف نبی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے احترام نہیں کر سکتا، نبی کا بیٹا تو قابیل بھی تھا لیکن میں اس کا احترام نہیں کرسکتا، میں آج کل کے ایسے پیروں مرشدوں کہ جو سادات کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں کی عزت نہیں کرسکتا ، جناب میں پاکستانی تاریخ میں کرپٹ سید سیاستدانوں اور سید ڈکٹیٹرز کا احترام نہیں کرسکتا کیوں کہ انہوں نے میرے ملک کو لوٹا ہےااور کئی سید فلمی  اداکار و اداکاراؤں کا احترام نہیں کرسکتا کیونکہ وہ معاشرے میں فحاشی پھیلا رہے ہیں ، بھائی میں ان سیدوں کا بھی احترام نہیں کر سکتا جو علی (ع) کو اللہ کہتے ہیں۔۔۔ میرے محلے میں بیٹھے سید سارا دن چرس پیتے ہیں میں ان کا احترام نہیں کرسکتا۔
 جناب میں ان سادات کا احترام کروں گا جن میں مندرجہ بالا خصوصیات ہوں گی، میں ان کیلئے جان دوںگا جو ظاہری طور پر گناہ کبیرہ میں مبتلا نہ ہوں ۔ جو سرعام گناہ کرتا پھرے میں اس کا احترام نہیں کروں گا چاہے سید ہو، غیرسید ہو، عالم ہو، وڈیرا ہو، "بھائی" ہو، سائیں ہو، ملک ہو، چودھری ہو یا چاہے مجتہد ہو۔۔۔ احترام اس کا جو علی (ع) و زھرا (س) کا ہو۔
عزت و احترام اچھے انسان کا ہوتا ہے اچھی ذات والے کا نہیں!۔
یاعلی!
۔
محمد زکی حیدری و آب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں