جمعہ، 7 اگست، 2015

دو بادشاہ تحریر: محمد زکی حیدری

دو بادشاہ

تحریر: محمد زکی حیدری

حضور ایسا ہے کہ دور قدیم کی ایک ریاست میں دو بادشاہ تھے ایک کا نام ردیح تھاجو کہ انصاف پسند تھا خدا سے ڈرنے والا، بلکہ اس کا پورا خاندان ہی اچھا تھا اور اس کے مقابلے میں جو دوسرا بادشاہ تھا جس کا نام ہیواعم تھا وہ بدنام زمانہ تھا ظالم تھا، مفادپرستی  و منافقت اس کے آباو اجداد کی میراث کے طور پر اسے ملی تھی۔ ردیح صاحب کی رعایا بڑی جوشیلی تھی، یہ جب ردیح بادشاہ کی دربار میں آتی تو کہتی تھی بادشاہ سلامت حقیقی بادشاہ آپ ہیں ہیواعم ظالم ہے اپنے منہ بادشاہت کا دعویٰ کرتا هے, اس میں اہلیت ہی نہیں، یہ ظالم ، یہ غاصب یہ۔۔۔ آپ ظل الٰہی، آپ خدا کامظہر، آپ یہ آپ وہ۔۔۔ ان کی محبت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب ردیح بادشاہ کا جنم دن ہوتا تو پورے شہر کو مشعلوں سے روشن کرتے اور بڑے بڑے خطباء، شعراء، قصیدہ خواں بلا کر ردیح بادشاہ کی شان میں محافل منعقد کرتے اس کے برعکس یہ ہیواعم بادشاہ کی دشمنی میں اتنے آگے جاچکے تھے کہ انہی محافل میں سرعام ہیواعم اور اس کے چاہنے والوں  پر لعنت کرتے تھے۔ لیکن جب بھی ردیح کی دربار سے باہر نکلتے تو ردیح کی عملی مخالفت کرتے تھے اور ہیواعم سے عملی موافقت!

 ردیح نے ان سے کہہ رکھا تھا زنا مت کرنا، سود مت کھانا، رشوت مت لینا ، جھوٹ مت بولنا حتیٰ کہ ہیواعم کے لوگ تم سے بدتمیزی کریں تو بھی انہیں حسن ظن دکھانا لیکن یہ لوگ باہر جاکر ہر وہ کام کرتے جس سے ردیح نے انہیں منع کیا تھا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ  اس وقت بھی ان کی زبان پر ردیح بادشاہ کی تعریف و توصیف جاری رہتی!!! حیرت تو تب ہوتی  کہ جب ردیح کی دربار میں ردیح سے وفاداری اور عشق کا دم بھر کے جوں ہی باہر نکلتے تو سیدھے ہیواعم کے چاہنے والوں کے ساتھ مل کر ہیواعم کے پسندیدہ کام یعنی شباب و غنا کی محافل سجایا کرتے لیکن اس وقت بھی ان کی "زبان" پر تعریف و توصیف و فصائلِ ردیح ہی جاری رہتے۔ ردیح کے کچھ سچے ساتھی ان سے کہتے کہ بھائی یہ کیا بات ہوئی تم تو زبان سے ردیح کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن عمل میں تو ہیواعم باد شاہ کی بتائی ہوئی نحس باتون پر چلتے ہو، اور انہی کے ساتھیوں کے ساتھ نظر آتے ہو! تو وہ کہتے تم لوگ منافق ہو تمہیں ہمارے بادشاہ ردیح کی تعریف گراں گذرتی ہے ہم تو ردیح کے دشمنوں پر لعنت بھیجتے ہیں صبح شام،  تم وہ ہو جو چاہتے ہو کوئی ردیح بادشاہ کی تعریف نہ کرے۔۔۔ اور یہ کہہ کر یہ لوگ ردیح بادشاہ کے سچے ساتھیوں کو "رصقم" کے لقب دیتے اور ردیح کے سچے ساتھی انہیں "یلاغ" کہہ کرپکارتے۔۔۔

میرے عزیز شیعہ بھائیو! آپ کو ردیح کے ان زبانی دعویدار درباریوں پر بہت غصہ آیا ہوگا بیشک آنا چاہیئے یہ فطری عمل ہے! لیکن آپ سے عرض ہے کہ ان دونوں بادشاہوں کے ناموں اور ردیح بادشاہ کے ماننے والے دو گروہوں کو ایک دوسرے کو دیئے ہوئے القاب کو الٹا پڑھیئے تو آپ کو قصہ سمجھ آئے گا کہ یہ دور جہالت کے کسی بادشاہ کی رعایا کی کہانی نہیں بلکہ 21 ویں صدی کے پاکستانی شیعوں کی ہی کہانی ہے !!! کوئی ردیح بادشاہ نہیں یہ "حیدر" ہے اور نہ کوئی " ہیواعم" بادشاہ ہے بلکہ یہ معاویہ ہے اسی طرح جو دو گروہ ہیں انہیں الٹا پڑھیئے تو "مقصر" اور "غالی" ہی بنتے ہیں!

میں نے ایسا کیوں کیا؟ تاکہ آپ کو یقین دلاؤں کہ ہمارے پاکستان کے شیعوں کی کہانی 21 ویں صدی نہیں بلکہ دور جہالت کے قدیم بادشاہی دور میں بھی لے کر "فٹ" کردی جائے تو بھی آپ کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ خدارا یا تو قول و فعل میں حیدر (ع) کے ہوجاؤ یا قول و فعل میں معاویہ کے۔ صرف امام بارگاہ میں حیدر حیدر کرنے سے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔

ہم علی (ع) کوامام بارگاہ میں  چھوڑ کر آجاتے ہیں، وہاں علی (ع)  کے محب ہوتے ہیں لیکن جیسے  باہر نکلے آفیس گئے رشوت لیتے وقت نوٹوں کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں ، بیٹے بیٹی کا رشتہ کرتے وقت داماد و بہو میں بنگلے، گاڈی، بنک بیلنس دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ٹی وی دیکھتے وقت ہم ہندوستانی چینلز میں موجود فیشن کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، لڑکے لڑکیاں اپنا ہمسر پسند کرتے وقت خوبصورتی و مال و زر و۔۔۔ کو دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے، ووٹ ڈالتے وقت کسی خبیث بھائی، کسی منحوس وڈیرے، کسی مکروہ  پیر، کسی جاہل چودھری، کسی ظالم سردار کا انتخابی نشان دیکھتے ہیں علی (ع) کو نہیں دیکھتے۔۔۔

 بس کردو یار!!! خدا کو مانو!!! اب تو سدھر جاؤ یہ اکسویں صدی ہے دوستو! دنیا کے شیعہ کہاں جا پہنچے اور آپ ابھی تک علی (ع) و حسین (ع) کو "رسمی"  امام بناکر بیٹھے ہیں، مخصوص دنوں تک محدود علی (ع)، مخصوص عمارتوں تک محدود علی (ع) ، مختلف جلوسی سڑکوں تک محدود حسین (ع)۔۔۔۔ هم نے لامحدود شخصیات کو محدود بنا دیا اور خوش هوتے ہیں، فخر کرتے ہیں!!!  بس مسجدوں و امام بارگاہوں میں حیدر حیدر ہے مگر زندگیوں میں نہیں۔۔۔  علی (ع) کو صرف امام بارگاہ میں مت لاؤ علی (ع) کو زندگی میں لاؤ۔ جنت اس کی جس کی "زندگی میں" علی (ع)ہوگا۔
.
www.facebook.com/arezuyeaab
.
arezuyeaab.blogspot.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں