عزت کر ہے ہو یا بے عزتی؟
.
تحریر: محمد زکی حیدری
ذہن الفاظ کا ایک گودام ہے اور منہ اس کا دروازہ، جیسے الفاظ
گودام کے اندر ہوں گے ایسے ہی منہ سے باہر آئیں گے ، گودام میں الفاظ کی کمی بات چیت
کے دوران اکثر مفہوم کی مکمل رسائی کے راستے میں حائل ہوجاتی ہے اور بولنے والا اپنے
تاثرات درست معنی میں سننے والے تک نہیں پہنچا پاتا ، بات کچھ ہوتی ہے لیکن الفاظ کی
کمی کے باعث کچھ اور ہی کہہ بیٹھتا ہے۔ یہ
ہی اصول استعارے اور تشبیہات پر بھی صادر ہوتا ہے مثلاً ایک صاحب منبر پر بیٹھ کر مدح
علی (ع) کر رہے تھے، تین کو نیچا دکھانے اور چوتھے نمبر کو اونچا دکھانے کیلئے انہیں
اور کوئی مثال نہ ملی بڑے ذاکرانہ انداز میں کہنے لگے "اوئےمنافق تیرے توں تے
او کتا چنگا جہڑا پشاب کرن ویلے اک ٹنگ اتے چا کہ تن ٹنگا تے پشاب کردا جے۔۔۔"
(او منافق تجھ سے تو وہ کتا بہتر ہے جو ایک ٹانگ اٹھا کر تین ٹانگوں پر پیشاب کرتا
ہے) پھر اپنے ہاتھ سے سامعین کو اشارے کرنے لگا کہ تم لوگ بات سمجھے ہی نہیں اور سامعین
نے نعروں کا تانتہ باندہ دیا یہ بھی نہ سوچا کہ تین کے ساتھ چوتھے کو بھی اس ذاکر نے
کتے کی ٹانگ سے ملا دیا چہ جائیکہ اوپر ہو یا نیچے! (نعوذباللہ)
ہم ایسے ہی ہیں ہم سوچتے نہیں، ہمیں تو بھیا بس عشق ہے! عقل
کی بات کوئی ہم سے کرے تو ہم اسے کہتے ہیں عشق کے آگے عقل کچھ نہیں بیچتی ، تو یہ حال
ہے ہمارا! اتنا وقت، اتنی توانائی، اتنا سرمایہ دیوبندی- شیعہ کا بالعموم اور سنی-
دیوبندی کا بالخصوص فقط اس بات پر صرف ہوا کہ "نبی (ص) نور ہیں کہ نہیں؟"
سنی کہتے نبی (ص) نور ہیں ، دیوبندی کہتا نبی بشر، سنی کہتا ہے ابے شرم کر نبی (ص)کو
ہم جیسا کہہ دیا۔ بولا تو اور کیا قرآن میں لکھا ہے "انا بشر مثلنا" میں
تمہارے جیسا بشر ہوں۔ سنی کہے دفع ہو! وہ رحمت للعالمین ہیں ہم جیسے بھلا کیسے ہو گئے!
بات بڑھتی چلی گئی سنی نے کہا بھیا دیکھو بشر کا سایہ ہوتا ہے نبی (ص) اگر بشر تھے
تو سایہ کیوں نہ تھا۔ دیوبندی کہتا ہے کمینے تم ہی نے تو کہا ہے کہ حدیث میں ملتا ہے
ایک بادل چوبیس گھنٹے حضور (ص) پر سایہ افگن رہتا تھا تو جب سر پہ سایہ ہو تو ان (ص)
کا اپنا کیسا سایہ کیسی پرچھائی؟ سنی بولے محمد (ص) نورِ مجسم! دیوبندی جواب میں کہے
ہائے ہائے! جاہل بریلوی اگر محمد (ص) نور کے بنے ہوئے تھے تو بتا خندق والے دن پیٹ
پر پتھر کس نے باندھا نور پر پتھر ٹِکا کیسے! اچھا یہ بتا طائف کے شریروں نے نبی (ص)
کو پتھروں کی برسات کرکے زخمی کر دیا تھا اگر نور کے بنے ہوئے تھے تو نور کو پتھر بھلا
کیا کرے گا، یہ چھوڑ یہ بتا نبی (ص) کھاتے پیتے نہ تھے؟ رفع حاجت محسوس نہیں ہوتی تھی،
ہیں؟؟؟ نور کو بھلا بھوک کاہے کی؟ بول بے بدعتی۔۔۔؟؟؟ الا بلا ۔۔۔ بحث چلتی رہی تقاریرمیں،
سیمیناروں میں، کتابوں میں، ایک ہی جنگ کہ نبی (ص) نور ہیں کہ نہیں!
میں کراچی یونیورسٹی میں تھا وہ الگ دؤر تھا اتنا مذہبی نہیں
تھا میں، لے دے کہ بس نماز کی ادائیگی تک محدود! اس میں بھی فجر کی نماز موڈ پر منحصر!
وہ تو بعد میں کسی نے آکر زندگی بدل دی۔۔۔ خیر! اس دور میں میرے سامنے دوستوں نے یہ
بحث چھیڑی، میں نے کہا یار نور کی تعریف پتہ ہے تم لوگوں کو؟ بولے کیوں نہیں نور مطلب
روشنی! میں نے کہا سادہ سی تعریف نور کی اگر یہ کی جائے کہ ہر وہ چیز جس کی وجہ سے
اندھیرا دور ہوجائے، تو درست رہے گا؟۔ میں نے ان سے تصدیق کروائی خاص طور پر دیوبندی
دوست عبداللہ سے۔ بولا ہاں اس میں کوئی شک
نہیں، میں نے کہا یار دیکھ عرب کی نگری جہالت کے گھپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی؟ بولا
ہاں! میں نے کہاں وہ جہالت کا اندھیرا کس نے ہٹایا محمد (ص) نے یا کسی اور نے ؟ کہا
محمد (ص) نے! میں کہا تو اندھیرے کو جو ہٹائے اسے کیا کہتے ہیں؟ کہنے لگا نور! میں
نے کہا محمد (ص) کو نور مانتے ہو نا کہنے لگا ہاں اس طرح تو مانتے ہیں مگر یار یہ بریلوی
کہتے ہیں نورِ مجسم یہ تو غلط ہے نا یار! میں نے کہا رکو!
اب میں نے اس بریلوی دوست عمار سے مخاطب ہو کر کہا یار عمار!
نبی (ص) نور کے بنے ہوئے تھے ؟ بولا ہاں! میں نے کہا یہ تو تم حضور (ص) کی اہانت کر
رہے ہو۔ بولا کیسے؟ میں نے کہا نوری مخلوق تو فرشتے ہوتے ہیں وہ اشرف المخلوقات نہیں
ہیں، اشرف المخلوقات تو انسان ہے۔ تم انسان ہو نا؟ کہنے لگا ہاں ہوں؟ میں نے کہا تو
اس نوری مخلوق سے افضل ہو نا؟ بولا ہاں ہوں! میں نے کہا جب تم نوری مخلوق سے افضل ہو
تو نبی (ص) کو نوری مخلوق کہہ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟ چپ ہوگیا!کچھ دیر خاموش رہنے
کے بعد دبے الفاظ میں کہنے لگا "تو کیا تیرا مطلب یہ ہے کہ نبی (ص) نور نہیں؟"
میں نے کہا میں نبی (ص) کو نور مانتا ہوں اور یہ عبداللہ بھی مان چکا ہے۔
ہم لوگ یہی کرتے ہیں، کرنا عزت افزائی چاہتے ہیں لیکن اصل میں
اگلے کی تذلیل کر رہے ہوتے ہیں، ایک نبی (ص) کو نور ماننے کو تیار نہیں دوسرا انہیں
نوری مخلوق سمجھ بیٹھا۔ افراط و تفریط! نبی
(ص) کے سامنے نور کی حیثیت ہی کیا ہے بھائی! ہمیں کہنا چاہیئے جب یہ ہوری کائنات اس
محمد (ص) کے صدقے وجود میں آئی تو کیا نور کوئی انوکھی چیز ہے؟ اس کا وجود بھی محمد
(ص) کے توسط سے ہے۔ نور محمد (ص) کی وجہ سے ہے نہ کہ محمد (ص) نور کی وجہ سے! ان بحثوں
کو چھوڑیئے، محمد(ص) سے دنیا کا مشکل ترین کام سیکھئے، کیا کام؟ ذہن سازی کا! انسان
سازی کا! کردار سازی کا! محمد (ص) نے کتابیں نہیں لکھیں انسان لکھے! محمد (ص) کی کتاب
علی (ع) ہیں، محمد (ص) کی کتاب زہرا (س) ہیں، سلمان (رض)، بلال (رض) ابوذر (رض)۔۔۔
ان سب کا استاد محمد (ص) ہے، ان پڑھ ہو کر بھی! یہی وجہ ہے کہ حضرت جوش ملیح آبادی
(رح) فرما گئے "عرب کی سی جہالت کی نگری میں جو کسی ایک متنفس کی شاگردی لیئے
بغیر بھی پوری کائنات کا استاد کہلائے دبستان ادب کی زبان میں ایسے شخص کو محمد (ص)
کہتے ہیں" جناب مدح سرائی کے گر سیکھئے یا چپ رہنا سیکھئے، اپنے کیچڑ سے بھرے
گودام کا دروازہ کم از کم ان پاک ہستیوں کیلئے تو نہ کھولیئے۔
arezuyeaab.blogspot.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں